ہندوستانی سنیما کی دنیا میں انل بسواس کو ایک ایسے موسیقار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے مكیش، طلعت محمود سمیت کئی گلوکاروں کو کامیابی کی بلندیوں پر پہنچایا۔
EPAPER
Updated: May 31, 2024, 9:39 AM IST | Agency | Mumbai
ہندوستانی سنیما کی دنیا میں انل بسواس کو ایک ایسے موسیقار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے مكیش، طلعت محمود سمیت کئی گلوکاروں کو کامیابی کی بلندیوں پر پہنچایا۔
ہندوستانی سنیما کی دنیا میں انل بسواس کو ایک ایسے موسیقار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے مكیش، طلعت محمود سمیت کئی گلوکاروں کو کامیابی کی بلندیوں پر پہنچایا۔
مکیش کے رشتہ دار موتی لال کے کہنے پر انل بسواس نے مکیش کو اپنی ایک فلم میں گانے کا موقع دیا تھا لیکن انہیں مکیش کی آواز پسند نہیں آئی بعد میں انہوں نے مکیش کو وہ گانا اپنی آواز میں گا کر سنایا۔
اس پر مکیش نے انل بسواس سے کہا، ’’دادا بتائیے کہ آپ جیسا گانا بھلا کون گا سکتا ہے اگر آپ ہی گاتے رہیں گے تو بھلا ہم جیسے لوگوں کو کس طرح گانے کا موقع ملے گا۔ مکیش کی اس بات نے انل بسواس کو سوچنے پر مجبور کر دیا اور انہیں رات بھر نیند نہیں آئی۔ اگلے دن انہوں نے اپنی فلم پہلی نظر میں مکیش کو بحیثیت گلوکار منتخب کرلیا۔
انل بسواس کی پیدائش۷؍ جولائی ۱۹۱۴ء کو مشرقی بنگال کے وارسال (اب بنگلہ دیش) میں ہوئی تھی۔ بچپن سے ہی ان کا رجحان نغموں اور موسیقی کی طرف تھا۔ محض ۱۴؍سال کی عمر سے ہی انہوں نے موسیقی کی محفلوں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا جہاں وہ طبلہ بجایا کرتے تھے۔
۱۹۳۰ء میں ہندستان اپنی آزادی کی جدو جہد میں عروج پر تھا۔ ملک کو آزاد کرانے کے لئے چھیڑی گئی مہم میں انل بسواس بھی کود پڑے۔ اس کام میں انہوں نے اپنی نظموں کا سہارا لیا۔ نظموں کے ذریعے انل بسواس ہم وطنوں میں بیداری پیدا کیا کرتے تھے جس کے سبب انہیں جیل بھی جانا پڑا۔
۱۹۳۰ءمیں انل کلکتہ کے رنگ محل تھیٹرسے جڑ گئے۔ جہاں وہ ایکٹر، موسیقار، اسسٹنٹ میوزک ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتے رہے۔ ۱۹۳۲ء سے ۱۹۳۴ء تک وہ تھیٹر سے وابستہ رہے۔ انہوں نے کئی ڈراموں میں اداکاری کے ساتھ گلوکاری بھی کی۔
رنگ محل تھیٹر کے ساتھ ہی انل ہندوستان ریکارڈنگ کمپنی کے ساتھ بھی جڑگئے۔ ۱۹۳۵ءمیں اپنے خوابوں کی تعبیر کیلئے وہ کلکتہ سے ممبئی آ گئے۔ ۱۹۳۵ءمیں آنے والی فلم ’دھرم کی دیوی‘ سے بطور میوزک ڈائریکٹر انل نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا۔ ساتھ ہی اس فلم میں انہوں نے اداکاری بھی کی۔
۱۹۳۷ء میں محبوب خان کی فلم ’جاگیردار‘ انل کے فلمی کریئر کی اہم فلم ثابت ہوئی جس کی کامیابی کے بعد بطور موسیقار وہ فلمی صنعت میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ ۱۹۴۲ءمیں انل بامبے ٹاکیز سے وابستہ ہوگئے اور۲۵۰۰؍روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے لگے۔
۱۹۶۰ءکی دہائی میں انل نے فلم انڈسٹری سے تقریباً کنارہ کر لیا اور ممبئی سے دہلی آگئے۔ اس درمیان انہوں نے سوتیلابھائی، چھوٹی چھوٹی باتیں جیسی فلموں کی موسیقی دی۔ فلم چھوٹی چھوٹی باتیں، باکس آفس پر کامیاب نہیں رہی تاہم اس کی موسیقی سامعین کو پسند آئی۔ اس کے ساتھ ہی فلم کو قومی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
۱۹۶۳ء میں انل دہلی پرسار بھارتی میں بطور ڈائریکٹر کام کرنے لگے اور ۱۹۷۵ء تک کام کرتے رہے۔ ۱۹۸۶ءمیں موسیقی کے میدان میں ان کے قابل قدر تعاون کے پیش نظر انہیں سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اپنی موسیقی سےتقریباً ۳؍ دہائی تک سامعین کے دل جیتنے والا یہ عظیم موسیقار ۳۱؍مئی ۲۰۰۳ء کو اس دنیا کو الوداع کہہ گیا۔