ہندی سنیما کی تاریخ میں چند اداکارائیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے اپنے فن سے زیادہ اپنے کرداروں کی وجہ سے عوام کے دلوں میں جگہ بنائی۔ انیتا گوہا بھی انہی فنکاراؤں میں شامل ہیں۔
EPAPER
Updated: June 20, 2026, 10:40 AM IST | Mumbai
ہندی سنیما کی تاریخ میں چند اداکارائیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے اپنے فن سے زیادہ اپنے کرداروں کی وجہ سے عوام کے دلوں میں جگہ بنائی۔ انیتا گوہا بھی انہی فنکاراؤں میں شامل ہیں۔
ہندی سنیما کی تاریخ میں چند اداکارائیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے اپنے فن سے زیادہ اپنے کرداروں کی وجہ سے عوام کے دلوں میں جگہ بنائی۔ انیتا گوہا بھی انہی فنکاراؤں میں شامل ہیں۔
انیتاگوہاکی پیدائش ۱۷؍جنوری ۱۹۳۲ءکوکلکتہ (موجودہ کولکاتا) میں ایک بنگالی خاندان میں ہوئی۔ بچپن ہی سے ان کی شخصیت میں وقار اور سنجیدگی نمایاں تھی۔ نوجوانی میں انہوں نے مقابلۂ حسن میں بھی حصہ لیا،جس کے بعد فلمی دنیا کے دروازے ان کے لیے کھل گئے۔۱۹۵۰ءکی دہائی کے وسط میں جب ہندی فلموں میںنرگس، مینا کماری، مدھوبالا اور نوتن جیسی اداکارائیں چھائی ہوئی تھیں، اس دور میں نئی اداکاراؤں کے لیے جگہ بنانا آسان نہیں تھا۔ اس کے باوجود انیتا گوہا نے آہستہ آہستہ اپنی شناخت قائم کی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹام ہالینڈ نے اپنے بعد ’’اسپائیڈر مین‘‘ کیلئے اوون کوپر کا نام تجویز کیا
انیتاگوہا کو ابتدامیں معاون کردار ملے، لیکن جلد ہی فلم سازوں نےان میں مرکزی اداکارہ کی صلاحیت دیکھی۔ ۱۹۵۹ءمیںریلیز ہونےوالی گونج اٹھی شہنائی ان کے کریئرکی اہم فلموں میں شمار ہوتی ہے۔اس فلم میں راجندر کمار اور امیتامرکزی کرداروں میں تھے، لیکن انیتاگوہا نے اپنے کردار کے ذریعے ناظرین کی توجہ حاصل کی۔ فلم کی موسیقی اور جذباتی کہانی نےاسے کامیاب بنایا اور انیتا گوہا کا نام فلمی حلقوں میں زیادہ سنجیدگی سے لیا جانے لگا۔
اسی زمانےمیں انہوں نے کئی سماجی اور خاندانی فلموں میں اداکاری کی جن میں وہ روایتی ہندوستانی عورت، وفادار بیوی یا قربانی دینے والی خاتون کے کرداروں میں نظر آئیں۔
۱۹۶۱ءمیں سمپورن رامائن ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں انیتا گوہا نے سیتاکا کردار ادا کیا جبکہ رام کے کردارمیں مہی پال تھے۔فلم غیر معمولی کامیاب ثابت ہوئی۔اس کامیابی کے بعد انہیں مذہبی فلموں میں کثرت سے کاسٹ کیا جانے لگا۔ بعد میں انہوں نے رامائن سے متعلق دیگر فلموں میں بھی سیتا کا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں ان کی عوامی شناخت مزید مضبوط ہو گئی۔
۱۹۶۰ءکی دہائی میں انہوں نے متعدد سماجی اور رومانوی فلموں میں کام کیا۔ان کی اہم فلموں میں گونج اٹھی شہنائی، مہندی لگی میرے ہاتھ، پورنیما، پیار کی راہیں، گیٹ وے آف انڈیا،دیکھ کبیرا رویا، سنجوگ، ٹیپو سلطان،آرادھنا اور دو کلیاں جیسی فلمیں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’تھری ایڈیٹس‘‘ سیکوئل، رینچو، فرحان، راجو درمیانی عمر کے چیلنجز سے نمٹیں گے
خاص طور پر’آرادھنا‘ جیسی فلم میں کام کرنا اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ صرف دیومالائی فلموں تک محدود نہیں تھیں بلکہ مرکزی دھارے کے سنیما کا بھی حصہ تھیں۔انیتا گوہا نے اپنے دور کے کئی معروف اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔ ان میں راجندر کمار، پردیپ کمار، مہی پال، اجیت، بھارت بھوشن اور دیگر اداکار شامل تھے۔اگرچہ وہ کبھی سپر اسٹار اداکارہ کے درجے تک نہیں پہنچ سکیں، لیکن فلمی صنعت میں انہیں ایک قابلِ اعتماد اور باوقار اداکارہ سمجھا جاتا تھا۔ فلم ساز جانتے تھے کہ جذباتی یا سنجیدہ کردار انیتا گوہا بخوبی نبھا سکتی ہیں۔۱۹۷۰ءکی دہائی کے آخر تک ہندی سنیما کا مزاج بدل چکا تھا۔ ایکشن فلموں اور نئےستاروں کا دور شروع ہو گیا تھا۔ انیتا گوہا نے رفتہ رفتہ فلموں سے فاصلہ اختیار کر لیا۔انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ شہرت کی چکاچوند سے دور گزارا۔ وہ فلمی تقریبات اور میڈیا کی توجہ سے بھی عموماً دور رہتی تھیں۔۲۰؍جون ۲۰۰۷ءکو ممبئی میں انیتا گوہا کا انتقال ہوا۔ ان کی وفات کے ساتھ ہندی سنیما کے اس دور کی ایک اہم نمائندہ رخصت ہو گئی جس میں مذہبی، سماجی اور خاندانی فلمیں عوام میں بے حد مقبول تھیں۔