سڑکوں سے بسیں غائب رہیں۔۳۸؍بسیں چلائی گئیں ۔ ۱۰؍ بسوں پر پتھراؤ ہوا،۳؍بسوں کے شیشے توڑدیئے گئے اور دیگر ۳؍بسوں کی ہوا نکالی گئی۔۴۶؍ فیصد ملازمین کے ڈیوٹی پر حاضر ہونے کا بیسٹ انتظامیہ کا دعویٰ۔ وزیر ٹرانسپورٹ کے ہمراہ یونین لیڈران کی میٹنگ میں کوئی حل نہیں نکل سکا۔ ہڑتال جاری۔
بیسٹ ملازمین کی ہڑتال کے سبب ڈپو میں بسیں کھڑی ہیں۔ (تصویر: ستیج شندے اور سیّد سمیرعابدی)
بیسٹ ملازمین کی ہڑتال کے سبب جمعہ کو شہریوں کو زبردست دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بسوں سے سفر کرنے والے تقریباً ۳۰؍ لاکھ شہریوں کو پریشانی اٹھانی پڑی اور بیسٹ کو کروڑوں روپے کا خسارہ ہوا۔ یہ ہڑتال آج بھی جاری رہے گی۔
شہرو مضافات کے۲۷؍ ڈپو سے الگ الگ روٹ پر اس وقت روزانہ ۲؍ ہزار ۷۶۶؍ بسیں چلائی جاتی ہیں جس میں بیسٹ کی اپنی۲۴۹؍ بسیں ہیں ،بقیہ ڈھائی ہزار سے زائد ویٹ لیز بسیں ہیں۔ ہڑتال کی وجہ سے ان میں سے محض ۳۸؍بسیں سڑکوں پر لائی جاسکیں۔ بیسٹ انتظامیہ نے اس کا اعتراف کیا ہے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ شہریوں کو دیگر ذرائع سفر کا استعمال کرنا پڑا جس سے ان کی جیب پر اثر پڑا اور وقت بھی ضائع ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’جذباتی طور پر غور کروں تو غلط ہے، سیاسی طور پر درست‘‘
بسوں پر پتھراؤ، شہری سخت پریشان
بیسٹ انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ۱۰؍ بسوں کو نقصان پہنچا ۔ ان میں تین بسوں پر پتھر پھینکا گیا، تین بسوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور تین بسوں کے ٹائروں سے ہوا نکال دی گئی۔ اسی کے ساتھ بیسٹ ملازمین کے کوارٹرز کے باہر اور ڈپو کے باہر پولیس کا پہرہ بٹھادیا گیا ہے تاکہ کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔دریں اثناء ہڑتال سے شہر و مضافات میں شہری سخت پریشان نظر آئے اور شیئرڈرکشا اور ٹیکسی کیلئے لمبی لمبی قطاریں نظر آئیں۔

تصویر میں کرلابس اسٹیشن پربسیں نہ ہونے سے مسافر سخت پریشان نظر آرہے ہیں۔ (تصویر: ستیج شندے اور سیّدسمیرعابدی)
الزام اور یونین کا جوابی الزام
بیسٹ انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ ۹؍ جون کو بیسٹ کمیٹی کی چیئرمین کے ساتھ یونین لیڈران کی میٹنگ مثبت رہی اور تمام مطالبات جن میں ملازمین کے بقایا جات کی ادائیگی ، بیسٹ کی نجکاری نہ کرنا، بیسٹ کی اپنی بسوں کی تعداد۵؍ ہزار کرنا، خالی اسامیاں کو پُرکرنا وغیرہ پر ٹھوس بات چیت ہوئی پھر بھی یونین نے ہڑتال کردی۔ اس پر بیسٹ یونین کی نمائندگی کرتے ہوئے نتن نندگاونکر نے کہا اور ویڈیو بھی جاری کیا کہ بیسٹ انتظامیہ کے بے اعتنائی والے رویے کے سبب ہڑتال کرنی پڑی، اگر مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا گیا ہوتا تو ہڑتال کی نوبت نہ آتی۔ دوسرے یہ کہ انڈسٹریل کورٹ نے بھی یہ ہدایت دی تھی کہ یونین سے بات چیت کی جائے مگر بیسٹ انتظامیہ نے عدالت کے ہدایت کی بھی پروا نہیں کی۔ اس لئے شہریوں کو ہونے والی دقتوں کا ذمہ دار بیسٹ انتظامیہ ہے، ملازمین اور یونین نہیں۔
۴۶؍ فیصد ملازمین کے ڈیوٹی پر حاضر رہنے کا دعویٰ
بیسٹ انتظامیہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہڑتال کے باوجود بجلی سپلائی اور الگ الگ شعبوں کے۴۶؍ فیصد ملازمین ڈیوٹی پر آئے۔ اس ہڑتال میں ششانک راؤ کی بیسٹ ورکرس یونین شامل نہیں ہے۔ کوشش کی جارہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ بسیں سڑکوں پر دوڑائی جائیں تاکہ شہریوں کو آسانی ہو۔
یہ بھی پڑھئے: نیٹ یوجی کیلئے جنگی پیمانے پر تیاریاں
بات چیت ناکام
ہڑتال سے پیدا شدہ حالات کے سبب وزیرٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک کی سربراہی میں اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کے دفتر میں جمعہ کی سہ پہر یونین لیڈران اور بیسٹ افسران کی میٹنگ بلائی گئی۔ اس میں بیسٹ ملازمین کے مطالبات منظور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ نائب وزیر اعلیٰ اور شہری ترقیات کے وزیر ایکناتھ شندے کے ہمراہ مانسون اجلاس میں مزید تفصیل سے بات چیت کی جائے گی اس لئے آپ حضرات ہڑتال واپس لیں اور کام پر لوٹیں مگر یونین لیڈران اپنے مطالبات پر قائم تھے اور ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔