شہرومضافات کے کئی علاقوں میں مکینوں کو معمول کے مطابق پانی نہیں مل رہا ہے۔ ٹینکر مہنگے ہونے سے جھوپڑپٹیوں کے لوگ بری طرح متاثر۔
EPAPER
Updated: June 20, 2026, 11:40 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
شہرومضافات کے کئی علاقوں میں مکینوں کو معمول کے مطابق پانی نہیں مل رہا ہے۔ ٹینکر مہنگے ہونے سے جھوپڑپٹیوں کے لوگ بری طرح متاثر۔
شہرومضافات میں روزانہ پانی سپلائی میں ایک ہزار ۲۰۰؍ ملین لیٹر کی کمی سے جمعرات کو قلابہ، گرگاؤں، چندن واڑی، کالبا دیوی، ڈونگری، پریل ،سیوڑی، ورلی، دھاراوی، سائن، انٹاپ ہل، کرلا، مانخورد ، گوونڈی ،گھاٹ کوپر، بھانڈوپ، کھار، سانتاکروز، اندھیری، جوگیشوری، مالونی، ورسوا، ملاڈ، کاندیولی، چارکوپ اور دہیسر وغیرہ علاقوں کے شہریوں کو پانی نہ ملنے سے سخت پریشان کا سامنا کرنا پڑا ۔ ان علاقوں میں ٹینکروں سے پانی فراہم کیاگیا، اس کے باوجود بہت سے لوگوں کو پانی کے بغیر دن گزارنا پڑا ۔
شہرکو پانی فراہم کرنے والی جھیلوں میں پانی کی سطح میں کمی آنے سے میونسپل کارپوریشن نے پہلے ۱۰؍فیصد (۴۰۰؍ملین لیٹر) پانی کی کٹوتی عائد کی تھی ۔ اب تجارتی اور صنعتی استعمال کیلئے پانی میں مزید ۲۰؍ فیصد (۸۰۰؍ ملین لیٹر) کمی کردی گئی ہے۔ صنعتی اور تجارتی استعمال کیلئے پانی کم کرنے کے طریقہ کار سے ممبئی میں کل ۳۰؍ فیصد پانی کی کٹوتی نافذ کی گئی ہے جس کی وجہ سے روزانہ پانی کی فراہمی میں ایک ہزار ۲۰۰؍ ملین لیٹر سے زائد کی کمی ہوئی ہے۔ اس سے شہر اور مضافات کے علاقوں میں پانی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بیسٹ ملازمین کی ہڑتال سے شہریوں کوشدید دشواریاں
روزانہ سپلائی کا ۵۰؍فیصد پانی مل رہاہے
پورے شہر میں ۳۰؍ فیصد پانی کی کٹوتی اور تقریباً ۱۵؍ سے ۲۰؍فیصد پانی کی چوری اور لیکیج کے ذریعے ضائع ہونے والے پانی سے ممبئی کے شہریوں کو درحقیقت روزانہ سپلائی کا ۵۰؍ فیصد پانی مل رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فی الحال ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو روزانہ ۲؍ہزار ملین لیٹر پانی فراہم کیا جا رہا ہے جس سے شہر بھر میں پانی کا بحران پیدا ہو گیا ہے ۔ پانی کی یہ کٹوتی بدھ سے نافذ کی گئی تھی اور اس کے اثرات ممبئی شہر میں دوسرے سے ہی نظر آنے لگے ہیں کیونکہ ذخائر میں پانی ختم ہو رہا ہے۔ کئی علاقوں میں کم پریشر اور بعض علاقوں میں پانی بالکل نہ آنے کی وجہ سے مکین بے حد پریشان ہیں۔ جھیل کے علاقوں میں موسلادھار بارش آنے تک شہریوں کو یہ پریشانی برداشت کرنی پڑے گی۔
نجی ٹینکرس مہنگے ہونے سے دشواری
پانی کی قلت سے میونسپل کارپوریشن کے تمام محکموں کو شہر و مضافات کے مختلف علاقوں سے کال موصول ہو رہی ہیں ۔پانی کی قلت کو دیکھتے ہوئے میونسپل کارپوریشن نے فوری طور پر ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کرنے کا انتظام کیاہے لیکن ٹینکروں کے ذریعے فراہم کئے جانے والے پانی کا فیصد معمول کے مطابق آنے والے پانی کا صرف ۱۰؍ سے ۱۵؍ فیصد تھا جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو ان کی ضرورت کےمطابق پانی نہیں مل رہاہےجس کی وجہ سے بعض علاقوں میں شہریوں نے اپنے پیسوں سے نجی ٹینکروں کا انتظام کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’جذباتی طور پر غور کروں تو غلط ہے، سیاسی طور پر درست‘‘
جھوپڑپٹیوں کے لوگ زیادہ متاثر
میونسپل کارپوریشن کے محدود ٹینکروں کی وجہ سے کئی جھوپڑپٹیوں میں پرائیویٹ ٹینکرس منگوائے گئے جو بی ایم سی کے ٹینکروں سے مہنگے ہیں جس کی وجہ سے کچی آبادیوں کے مکینوں کو زیادہ پریشانی ہو رہی ہے ۔پانی کی قلت سے شہر کی بلند عمارتوں سے زیادہ کچی آبادی کےلوگ متاثر ہیں ۔چونکہ عمارتوں میں پانی کا ذخیرہ کرنے کیلئے زیر زمین اورٹیرس پر ٹینک کی سہولت مہیا ہیںجبکہ کچی آبادیوں میں پانی ذخیرہ کرنے کیلئے علاحدہ پانی کے ٹینک نہ ہونے سے انہیںپانی کی قلت کا سامنا ہے۔