Inquilab Logo Happiest Places to Work

’اینتھروپک‘ پرکاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ دائر

Updated: August 30, 2026, 4:08 PM IST | New York

امریکی مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک (Anthropic) ایک بار پھر بڑے کاپی رائٹ تنازع میں پھنس گئی ہے۔ سونی میوزک پبلشنگ اور وارنر چیپل میوزک سمیت متعدد بڑے میوزک پبلشرز نے امریکہ میں اینتھروپک کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کمپنی نے ہزاروں کاپی رائٹ شدہ موسیقی اور گانوں کو غیر قانونی طور پر حاصل کرکے اپنے کلاؤڈ اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا۔

Anthropic.Photo:INN
اینتھروپک۔ تصویر:آئی این این

امریکی مصنوعی ذہانت کی کمپنی  اینتھروپک (Anthropic) ایک بار پھر بڑے کاپی رائٹ تنازع میں پھنس گئی ہے۔ سونی میوزک پبلشنگ اور وارنر چیپل میوزک سمیت متعدد بڑے میوزک پبلشرز نے امریکہ میں اینتھروپک کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کمپنی نے ہزاروں کاپی رائٹ شدہ موسیقی اور گانوں کو غیر قانونی طور پر حاصل کرکے اپنے کلاؤڈ اے آئی  ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا۔ 
 پبلشرز نے شمالی کیلیفورنیا کی امریکی وفاقی عدالت میں دائر مقدمے میں اینتھروپک پر الزام لگایا ہے کہ اس نے کاپی رائٹ شدہ مواد حاصل کرنے کے لیے ٹورنٹنگ، اسکریپنگ اور بڑے پیمانے پر ڈاؤن لوڈنگ کا سہارا لیا۔ مقدمے کے مطابق، ان مواد میں ہزاروں میوزیکل کمپوزیشنز شامل تھیں، جن میں معروف گانے بھی شامل ہیں۔ پبلشرز نے مثال کے طور پر‘‘ Ain`t No Mountain High Enough‘‘ ، ‘‘ All I Want for Christmas Is You‘‘ ، ‘‘ Eye of the Tiger ‘‘ اور ‘‘Here Comes Santa Claus ‘‘ جیسے گانوں کا حوالہ دیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:جاپان: ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی میں ۱۱؍ سالوں میں پہلی بار پیدائش میں اضافہ

مقدمہ دائر کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مبینہ خلاف ورزی بڑے پیمانے پر ہوئی ہے۔ پبلشرز نے  دانستہ طورپر  کی گئی کاپی رائٹ خلاف ورزی پر  ۵ء۱؍ لاکھ ڈالر تک قانونی ہرجانے  اور کاپی رائٹ سے متعلق معلومات ہٹانے کی ہر خلاف ورزی پر اضافی ۲۵؍ ہزار ڈالر تک  کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر عدالت متعدد کاموں میں خلاف ورزی ثابت کرتی ہے تو ممکنہ مالی نقصان اربوں ڈالر  تک پہنچ سکتا ہے۔ 
میوزک پبلشرز کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ اینتھروپک   نے مبینہ طور پر ایسے کاپی رائٹ شدہ مواد کو اپنے  کلاؤڈ  مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت میں استعمال کیا جس کے لیے ضروری اجازت یا لائسنس حاصل نہیں کیا گیا تھا۔پبلشرز کا مؤقف ہے کہ اس طرح کا استعمال نہ صرف گیت کاروں اور موسیقاروں کے حقوق کو متاثر کرتا ہے بلکہ گانوں کے لائسنسنگ کے موجودہ کاروباری نظام کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:نکھل اڈوانی کی تاریخی ڈرامہ سیریز ’’دی ریوولوشنریز‘‘ ۱۱؍ ستمبر کوریلیز ہوگی

 اینتھروپک نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پبلشرز کے دعوؤں سے اختلاف کرتی ہے اور عدالت میں  مضبوطی سے اپنا دفاع کرے گی ۔ کمپنی پہلے بھی اسی نوعیت کے کاپی رائٹ مقدمات کا سامنا کر چکی ہے۔ اینتھروپک کے خلاف میوزک انڈسٹری کی قانونی کارروائی پہلے ہی جاری ہے۔ یونیورسل میوزک پبلشنگ گروپ ،کونکورڈ میوزک گروپ اور اے بی کے سی اونے بھی کمپنی کے خلاف مقدمات دائر کیے ہیں۔ جنوری ۲۰۲۶ء میں دائر کردہ ایک مقدمے میں پبلشرز نے ۲۰؍ ہزار سے زیادہ تخلیقات کے مبینہ غیر قانونی استعمال کا الزام لگایا اور۳؍ ارب ڈالر سے زائد  کے ممکنہ ہرجانے کا معاملہ اٹھایا تھا۔  اس کے علاوہ  بی ایم جی  نے مارچ ۲۰۲۶ء میں بھی  اینتھروپک پر کاپی رائٹ شدہ گانوں کے بول اے آئی ماڈلز کی تربیت میں استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK