Inquilab Logo Happiest Places to Work

انوراگ کشیپ کی’’ڈیو ڈی‘‘ ۲۴؍ اپریل کو ری ریلیز ہوگی

Updated: April 04, 2026, 7:04 PM IST | Mumbai

’’ڈیو ڈی‘‘ کو پی وی آر آئی ناکس کے ذریعے ۲۴؍ اپریل کو منتخب سنیما گھروں میں دوبارہ ریلیز کیا جا رہا ہے۔ انوراگ کشیپ کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم نے اپنی منفرد کہانی اور موسیقی کی بدولت کلاسیک حیثیت حاصل کی۔ ابھے دیول، ماہی گل اور کالکی کاکلن کی اداکاری سے مزین یہ فلم نئی نسل کو ایک مختلف سنیما تجربہ فراہم کرنے کے لیے دوبارہ ریلیز کی جا رہی ہے۔

Anurag Kashyap and the film`s lead actor Abhay Deol. Photo: INN
انوراگ کشیپ اور فلم کے مرکزی اداکارابھے دیول۔ تصویر : آئی این این

ہندوستانی سنیما کی ایک نمایاں کلٹ فلم ’’ڈیو ڈی‘‘ ایک بار پھر بڑی اسکرین پر واپسی کے لیے تیار ہے۔پی وی آر آئی ناکس نے اعلان کیا ہے کہ اسے ۲۴؍ اپریل کو منتخب تھیٹروں میں دوبارہ ریلیز کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت نہ صرف پرانے شائقین کے لیے ایک یادگار لمحہ ہے بلکہ نئی نسل کو بھی اس منفرد فلمی تجربے سے روشناس کرانے کا موقع فراہم کرے گی۔ انوراگ کشیپ کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم نے ۲۰۰۹ء میں اپنی ریلیز کے وقت روایتی بالی ووڈ بیانیے سے ہٹ کر ایک نئی سمت متعارف کرائی تھی۔ یہ فلم شرت چندر چٹوپادھیائے کے مشہور ناول ’’دیوداس‘‘ کی جدید دور میں پیش کی گئی تعبیر ہے، جس میں کلاسیکی کہانی کو عصری سماجی حقیقتوں کے ساتھ جوڑا گیا۔
انوراگ کشیپ نے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ ’’ڈیو ڈی‘‘ دراصل ایک ’’بغاوت‘‘ کے جذبے سے تخلیق کی گئی تھی۔ ان کے مطابق وہ دیوداس کے کردار کو رومانوی انداز میں پیش کرنے کے بجائے اس کی خامیوں اور انسانی کمزوریوں کو اجاگر کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ فلم ایک اشتعال انگیز بیانیہ تھی، جس کا مقصد اس رومانوی تصور کو توڑنا تھا جو برسوں سے دیوداس کے گرد بنا ہوا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ فلم میں پارو اور چندا جیسے کرداروں کو بھی نئی جہت دی گئی۔ پارو کو ایک مضبوط اور خودمختار شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ چندا کا کردار قربانی کے بجائے بقا اور خود کو دوبارہ دریافت کرنے کی علامت بن کر سامنے آیا۔ ان کے مطابق فلم کا اختتام بھی جان بوجھ کر روایتی ’’خوشگوار انجام‘‘ سے ہٹ کر رکھا گیا تاکہ حقیقت پسندانہ احساس برقرار رہے۔
ابھے دیول نے بھی اس فلم کے ساتھ اپنے ذاتی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں اس کے تصور کو ’’بہت عجیب‘‘ قرار دے کر مسترد کیا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق جب انہوں نے یہ آئیڈیا انوراگ کشیپ کو پیش کیا تو وہ پہلے حیران ہوئے، لیکن بعد میں اس کے تخلیقی امکانات کو سمجھتے ہوئے اس پروجیکٹ سے جڑ گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فلم کی کہانی کو ایک موسیقی پر مبنی بیانیے کے ذریعے آگے بڑھانے کا خیال بھی خاص تھا، جہاں ہر گانا کہانی کا حصہ بن کر سامنے آتا ہے۔ ان کے مطابق یہ فلم خواتین کی طاقت اور سماجی حقیقتوں کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش بھی تھی، جو ان کے لیے ایک ذاتی کامیابی کے طور پر اہم ہے۔
یاد رہے کہ ’’ڈیو ڈی‘‘ اپنی ریلیز کے بعد فوری طور پر مین اسٹریم کامیابی حاصل نہیں کر سکی تھی، تاہم وقت کے ساتھ اس نے کلٹ اسٹیٹس حاصل کر لیا، خاص طور پر نوجوان ناظرین اور فلمی ناقدین میں۔ اس کی موسیقی، سنیماٹوگرافی اور غیر روایتی بیانیہ آج بھی زیر بحث رہتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پرانی کامیاب اور کلٹ فلموں کی دوبارہ ریلیز کا رجحان بڑھ رہا ہے، جس کا مقصد نہ صرف نوسٹیلجیا کو زندہ کرنا ہے بلکہ نئی نسل کو کلاسک مواد سے متعارف کرانا بھی ہے۔ ’’ڈیو ڈی‘‘ کی واپسی بھی اسی رجحان کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK