• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ایک احمق کا خواب

Updated: February 06, 2026, 6:55 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

روس کے معروف ادیب فیودر دوستوئیفسکی کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی ڈریم آف اے رِیڈیکیولس مین‘‘  The Dream of a Ridiculous Manکا اردو ترجمہ۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مَیں ایک احمق ہوں۔ اب سب مجھے اسی نام سے جانتے ہیں۔ اور شاید مَیں واقعی ایسا ہی ہوں۔ لیکن ایک وقت تھا جب مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ مَیں احمق ہوں، یا یہ کہ دنیا میں کسی چیز کی کوئی اہمیت بھی ہے۔ دراصل، مجھے اس بات کی بھی پروا نہیں تھی کہ مَیں زندہ ہوں یا مر چکا ہوں کیونکہ میرے نزدیک سب کچھ ایک ہی جیسا ہو چکا تھا ، بلاتفریق، بے معنی اور بے مقصد۔ مَیں یہ باتیں اس لئے بتارہا ہوں کہ مَیں نے ایک خواب دیکھا۔ وہ خواب جس نے سب کچھ بدل دیا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: شہزادی اور گوبلن

ایک زمانہ تھا جب مَیں ہر چیز سے لاتعلق تھا۔ لوگ ہنستے، باتیں کرتے، روتے، امید باندھتے تھے، ، اور مَیں انہیں یوں دیکھتا جیسے وہ سب کسی ایسی زبان میں بات کر رہے ہوں جو مَیں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ مَیںنے بہت سوچا، بہت مطالعہ کیا، بہت تجزیہ کیا ، اور آخرکار اس نتیجے پر پہنچا کہ کچھ بھی اہم نہیں ہے۔ نہ اخلاق، نہ محبت، نہ انسان، نہ کائنات۔ اگر سب کچھ بالآخر ختم ہوجانا ہے، اگر شعور محض ایک اتفاق ہے، اگر نیکی اور بدی انسان کے بنائے ہوئے الفاظ ہیں ، تو پھر جینا کیوں ہے؟ اور اگر جینا ہے تو پروا کیوں کرنا؟ میرے اسی نتیجے نے مجھے آزاد بھی کیا اور قید بھی۔ مَیںنے لوگوں سے بات کرنا چھوڑ دیا۔ اگر بات کرتا بھی تو وہ مجھے سنجیدگی سے نہیں سنتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ مَیں عجیب ہوں، احمق ہوں، دنیا سے کٹا ہوا ہوں۔ اور مَیں مسکرا دیتا تھا کیونکہ میرے لئے ان کی رائے بھی اتنی ہی بے معنی تھی جتنی ان کی زندگیاں۔ پھر ایک رات آئی۔ وہ عام سی رات تھی۔ سرد، خاموش اور لمبی۔ سینٹ پیٹرزبرگ کی سڑکوں پر برف جمی ہوئی تھی، آسمان صاف تھا، اور ستارے غیر معمولی طور پر روشن تھے۔ مَیں دیر تک سڑکوں پر بھٹکتا رہا جیسے کسی فیصلے سے بھاگ رہا ہوں ، یا شاید اس کی طرف بڑھ رہا ہوں۔ اسی دوران ایک چھوٹی سی لڑکی نے میرا راستہ روکا۔ وہ رورہی تھی۔ اس نے میرا بازو پکڑ لیا اور التجا کی کہ مَیں اس کے ساتھ چلوں۔ اس کی ماں بیمار تھی، وہ اکیلی تھی اور اسے مدد چاہئے تھی۔ اس کے ہاتھ ٹھنڈے تھے، آنکھوں میں خوف تھا، اور آواز کانپ رہی تھی۔ مَیں نے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔ ’’میرے لئے سب برابر ہے،‘‘ مَیں نے خود سے کہا۔ ’’اگر سب کچھ بے معنی ہے تو اس لڑکی کا دکھ بھی بے معنی ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: سیاہ راہب

وہ مجھے دیکھتی رہی، جیسے کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔ پھر وہ پیچھے ہٹ گئی۔ مَیں نے اس کی سسکی سنی ، اور آگے بڑھ گیا۔ اسی لمحے، کسی انجانی جگہ پر، میرے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔ مَیں گھر لوٹ گیا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی مجھے ایک عجیب سا سکون محسوس ہوا۔ مَیں نے میز پر رکھی گھڑی دیکھی۔ ، وہ کافی عرصے سے وہاں رکھی تھی، جیسے کسی فیصلے کا انتظار کر رہی ہو۔ مَیں نے آرام سے بیٹھ کر سوچا۔ نہ جذباتی انداز میں، نہ گھبراہٹ میں ، بلکہ نہایت منطقی طریقے سے۔ مَیں نے سوچا کہ مَیں نے اس چھوٹی بچی کے ساتھ ٹھیک نہیں کیا۔ اگر آج خدا مجھ سے زندگی چھین لے تو؟ یہ سوچتے سوچتے مَیں بستر پر لیٹا، مگر نیند نہ آئی۔ ذہن عجیب طرح سے پرسکون تھا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: سینڈ مین

اور پھر، نہ جانے کب، مَیںسو گیا۔ اور تب مَیںنے خواب دیکھا۔ مَیں سو گیا تھا ، یا شاید مَیں نے خود کو سلا دیا تھا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ نیند کہاں ختم ہوئی اور خواب کہاں شروع ہوا، کیونکہ جو کچھ اس کے بعد ہوا وہ عام خوابوں جیسا نہیں تھا۔ اس میں دھند نہیں تھی، بے ربطی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی واضح ترتیب تھی جس نے مجھے چونکا دیا۔ مَیں نے خود کو اپنے ہی کمرے میں دیکھا۔ سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا میں چھوڑ کر آیا تھا: میز، کرسی، دیواروں پر سایے، اور وہی گھڑی۔ لیکن ایک فرق تھا۔ مَیں خود کو دو حصوں میں تقسیم محسوس کر رہا تھا۔ ایک وہ جو فیصلہ کر چکا تھا، اور دوسرا وہ جو بس دیکھ رہا تھا۔ پھر میرے جسم کو ایک جھٹکا لگا ، جیسے کسی نے مجھے پیچھے کی طرف دھکیل دیا ہو۔ پھر اندھیرا چھا گیا ، مگر یہ اندھیرا مکمل نہیں تھا۔ اس میں شعور باقی تھا۔ مَیں جانتا تھا کہ میں مر چکا ہوں، اور یہ جاننا عجیب طور پر خوفناک نہیں تھا۔ مَیں نے محسوس کیا کہ مجھے اٹھایا جا رہا ہے، جیسے کوئی مجھے گہرائی میں لے جا رہا ہو۔ وقت ختم ہو چکا تھا، یا شاید وقت کی اہمیت ہی نہیں رہی تھی۔ مَیں نہ اوپر جا رہا تھا نہ نیچے ، مَیں بس کسی سمت جا رہا تھا۔ پھر ایک آواز آئی۔ نہ بلند، نہ سخت ، مگر ایسی جس میں حکم تھا۔ مَیں نے آنکھیں کھولیں۔ مَیں ایک ایسی دنیا میں کھڑا تھا جو زمین جیسی تھی، مگر زمین نہیں تھی۔ آسمان نرم روشنی سے بھرا تھا، سورج چمک رہا تھا مگر آنکھوں کو متاثر نہیں کرتا تھا، اور فضا میں ایک عجیب سی ہم آہنگی تھی ، جیسے ہر شے اپنی جگہ پر مطمئن ہو۔ وہاں لوگ تھے۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرائے، مگر اس مسکراہٹ میں تجسس نہیں تھا، نہ شک۔ وہ مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے مَیں ان ہی میں سے ہوں، جیسے میرا آنا کسی منصوبے کا حصہ ہو۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: آفتاب کے مشرق میں، ماہتاب کے مغرب میں

مَیں نے فوراً محسوس کیا کہ یہاں کوئی جھوٹ نہیں تھا۔ کوئی خوف نہیں تھا۔ کوئی ملکیت نہیں تھی۔ یہ لوگ محبت کرتے تھے ، مگر اس محبت میں مطالبہ نہیں تھا۔ وہ ایک دوسرے کو چاہتے تھے، مگر اس چاہت میں قبضہ نہیں تھا۔ وہ خوش تھے، مگر اس خوشی کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ مَیںنے ان کے ساتھ وقت گزارا۔ مَیں نے دیکھا کہ وہ کام کرتے تھے، مگر مشقت کیلئے نہیں ، خوشی کیلئے۔ وہ دانا تھے مگر غرور کے بغیر۔ اور سب سے عجیب بات یہ تھی کہ وہ بے لباس نہیں تھے، مگر لباس کے محتاج بھی نہیں تھے۔ ان کے جسم اور روح میں کوئی تصادم نہیں تھا۔ ان کے دل صاف تھے، اور اسی لئے ان کے چہرے روشن تھے۔ مَیں نے سوچا:’’یہ ممکن کیسے ہے؟ انسان ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘

اور تب مجھے احساس ہوا ، یہ لوگ گناہ سے پہلے کے انسان تھے۔ وہ انسان جو ابھی ٹوٹا نہیں تھا، جو ابھی خود سے الگ نہیں ہوا تھا۔ مَیں نے ان کے درمیان رہتے ہوئے سیکھا کہ، سچ بولنا کسی قربانی کا نام نہیں بلکہ ایک فطری حالت ہے، محبت کرنا کوئی بہادری نہیں بلکہ سانس لینے جیسا عمل ہے، اور زندگی کا مقصد ہونا ضروری نہیں ، کیونکہ خود زندگی ہی مقصد ہے۔ مگر پھرکچھ بدلنے لگا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ماہی گیر اور اس کی روح

یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔ یہ کسی زلزلے یا آگ کی طرح نہیں تھی۔ یہ آہستہ آئی، خاموشی سے، ایک خیال کی طرح۔ وہ خیال مَیں تھا۔ مَیں نے ان میں پہلی بار جھوٹ متعارف کرایا ، شاید انجانے میں۔ میں نے کہا کہ کچھ باتیں چھپائی جا سکتی ہیں۔ پھر مَیں نے ملکیت کا تصور دیا: ’’یہ میرا ہے، وہ تمہارا ہے۔ ‘‘ مَیں نے ان میں خودی کا بیج بو دیا ، اور وہ بیج بڑھنے لگا۔ پھر حسد آیا۔ پھر شرم آئی۔ پھر خوف نے جنم لیا۔ 

وہ لوگ جو کل تک ایک دوسرے کو بلا شرط چاہتے تھے اب موازنہ کرنے لگے۔ انہوں نے قوانین بنائے، اور قوانین کے ساتھ سزائیں آئیں۔ انہوں نے نیکی کو نام دیا ، اور اسی لمحے بدی بھی پیدا ہو گئی۔ میں دیکھتا رہا اور سمجھتا رہا کہ میں کیا کر چکا ہوں۔ مَیں چیخنا چاہتا تھا کہ رک جاؤ، مگر اب وہ میری نہیں سنتے تھے۔ وہ میری طرح بن چکے تھے ، حساب کرنے والے، تولنے والے، اپنے فائدے اور نقصان میں الجھے ہوئے۔ 

اور تب مجھے احساس ہوا: یہی وہ دنیا ہے جسے میں جانتا ہوں۔ یہی وہ زمین ہے جسے میں نے چھوڑا تھا۔ مَیں رو پڑا۔ مَیں زندگی میں پہلی بار زار و قطار رویا۔ مَیں نے ان سے کہا کہ محبت میں لوٹو، سچ کی طرف آؤ، مگر وہ ہنسے۔ اب میں ان کیلئے بھی احمق تھا۔ 

اور اسی ہنسی میں، میں جاگ گیا۔ 

مَیںچونک کر جاگ اٹھا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: برف کی ملکہ

کمرہ وہی تھا، رات وہی، کھڑکی کے باہر وہی سرد خاموشی۔ میز پر رکھی گھڑی اب بھی اپنی جگہ موجود تھی۔ مگر مَیں وہ نہیں رہا تھا جو سونے سے پہلے تھا۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، جیسے کسی گہرے پانی سے اچانک سطح پر آ گیا ہو۔ پیشانی پسینے سے بھیگی ہوئی تھی، اور آنکھوں میں آنسو تھے ، ایسے آنسو جو درد سے نہیں بلکہ کسی انکشاف سے نکلتے ہیں۔ پہلے لمحے مجھے یوں لگا جیسے میں پاگل ہو گیا ہوں۔ مَیں نے خود سے کہا ’’یہ محض ایک خواب تھا۔ ایک بے ترتیب ذہنی فریب۔ ‘‘

مگر مَیں جانتا تھا کہ یہ جھوٹ ہےکیونکہ خواب عام طور پر انسان کو بدلتے نہیں ، یہ خواب مجھے توڑ کر دوبارہ جوڑ چکا تھا۔ مَیںبستر پر بیٹھ گیا اور دیر تک سوچتا رہا۔ وہ دنیا، وہ لوگ، وہ بے ساختہ محبت، وہ سچ جو کسی اصول کا محتاج نہیں تھا ، یہ سب میرے اندر جلتے ہوئے سوال بن چکے تھے۔ اور سب سے زیادہ اذیت ناک بات یہ تھی کہ میں جانتا تھا:مَیں ہی ان کی تباہی کا سبب بنا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ہینسل اور گریٹل

مَیں نے وہاں جا کر انہیں یہ نہیں سکھایا تھا کہ وہ کیسے زندہ رہیں؛ مَیں نے انہیں یہ سکھایا تھا کہ وہ کیسے خود کو ایک دوسرے سے الگ کریں۔ مَیں نے انہیں بتایا تھا کہ وہ ’’مَیں‘‘ کہہ سکتے ہیں ، اور اسی ایک لفظ نے پوری جنت کو توڑ دیا تھا۔ اس احساسِ جرم نے مجھے گھیر لیا۔ مَیں بستر سے اٹھا، کمرے میں ٹہلنے لگا، جیسے کہیں بھاگ جانا چاہتا ہوں مگر جانتا ہوں کہ اس جرم سے فرار ممکن نہیں۔ مگر اسی لمحے، اسی اذیت میں، ایک اور احساس نے جنم لیا، امید۔ اگر ایک انسان پوری دنیا کو بگاڑ سکتا ہے، تو کیا ایک انسان اسے بدل نہیں سکتا؟

یہ سوال میرے لئے نیا تھا۔ اس سے پہلے مَیں نے کبھی ’’بدلنے‘‘ پر یقین نہیں کیا تھا۔ میرے لئے دنیا ایک حادثہ تھی، اور انسان ایک بے معنی نتیجہ۔ مگر اب مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ سچ اتنا سادہ ہے کہ اسے نظرانداز کرنا ہی سب سے بڑی بیوقوفی ہے۔ مَیں نے فیصلہ کیا کہ مَیں اس بچی کی مدد کرونگا۔ یہ فیصلہ کسی اخلاقی اصول، کسی مذہبی حکم، یا کسی سماجی دباؤ کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ فیصلہ اس یقین سے پیدا ہوا تھا کہ زندگی کا مقصد محبت ہے ، اور یہ مقصد اتنا واضح ہے کہ اسے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ 

مَیں باہر نکلا۔ سڑکیں ویسی ہی تھیں جیسی ہمیشہ تھیں۔ لوگ جلدی میں تھے، کوئی ہنس رہا تھا، کوئی جھگڑ رہا تھا، کوئی کسی کو نظرانداز کر رہا تھا۔ مگر اب انہیں دیکھنے کا میرا نظریہ بدل گیا تھا۔ اب مجھے ہر چہرے میں وہی امکان دکھائی دے رہا تھا جو مَیںنے خواب میں دیکھا تھا۔ اور تب مجھے وہ لڑکی یاد آئی۔ وہی چھوٹی سی لڑکی جسے میں نے اس رات دھتکار دیا تھا۔ اس کا خوفزدہ چہرہ، اس کی لرزتی آواز، اور میری بےحسی ، یہ سب مجھے چھرا گھونپنے لگے۔ مَیں نے اس لمحے جان لیا کہ اگر میں نے اس خواب سے کچھ سیکھا ہے، تو اس کا پہلا امتحان وہی لڑکی تھی۔ مَیں اسے ڈھونڈنے نکل پڑا۔ 

یہ بھی پڑھئے: عیدگاہ

مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں ہے، زندہ بھی ہے یا نہیں۔ مگر اس بار میرے لئے نتیجہ اہم نہیں تھا ، کوشش اہم تھی۔ مَیں گلیوں میں گھومتا رہا، لوگوں سے پوچھتا رہا، خود کو مضحکہ خیز بناتا رہا۔ اور واقعی، لوگ ہنسے۔ انہوں نے کہا کہ مَیں پاگل ہوں، کہ ایسی باتیں حقیقت میں نہیں ہوتیں، کہ محبت کوئی نظام نہیں بدل سکتی۔ مَیں مسکرا دیتا تھا کیونکہ اب مجھے معلوم تھا کہ اگر کوئی انسان محبت کی بات کرے تو وہ لازماً احمق لگے گا۔

ایک ایسی دنیا میں جو حساب اور مفاد پر کھڑی ہو۔ مَیں نے لوگوں سے کہنا شروع کیا’’ایک دوسرے سے محبت کرو۔ بس یہی سب کچھ ہے۔ ‘‘ لوگ پوچھتے ’’کیوں؟ کس فائدے کیلئے؟ کس مقصد سے؟‘‘ اور میں جواب دیتا ’’کسی فائدے کیلئے نہیں۔ کسی مقصد کیلئے نہیں۔ ‘‘ یہ جواب انہیں مشتعل کر دیتا۔ وہ کہتے کہ مَیں بچوں جیسی باتیں کرتا ہوں، کہ دنیا ایسے نہیں چلتی۔ مَیں ان کی بات مان لیتا تھا ، ہاں، دنیا واقعی ایسے نہیں چلتی۔ مگر چلنی چاہئے۔مَیں جانتا ہوں کہ وہ مجھے کبھی سنجیدگی سے نہیں لیں گے۔ شاید وہ مجھے پاگل خانے بھیج دیں۔ شاید مَیں اکیلا ہی مر جاؤں۔ مگر مجھے اس کی پروا نہیں کیونکہ مَیں نے وہ سچ دیکھ لیا ہے جسے دیکھنے کے بعد خاموش رہنا سب سے بڑا گناہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: بین الاقوامی شہری

وہ خواب سچ تھا ، چاہے وہ حقیقت میں نہ بھی ہوا ہو۔ کیونکہ سچ اس میں نہیں کہ وہ دنیا کہیں موجود ہے یا نہیں، سچ اس میں ہے کہ وہ دنیا ممکن ہے۔ اور اگر وہ ممکن ہے، تو وہ لازم ہے۔مَیںاب بھی احمق ہوں۔ لوگ اب بھی مجھ پر ہنستے ہیں۔ مگر اب،مجھے اس ہنسی سے محبت ہے کیونکہ شاید یہی ہنسی ایک دن محبت میں بدل جائے۔ 

نوٹ: یہ کہانی کسی معجزے پر ختم نہیں ہوتی، نہ کسی فتح پر۔ یہ ایک ایسے انسان پر ختم ہوتی ہے جو سچ جان چکا ہے ، اور جانتا ہے کہ اسے دنیا کے سامنے پیش کرنا، اسے تنہا کر دے گا۔ مگر یہی تنہائی اس کی گواہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK