امتحان سے ایک دن پہلے کیا کریں، کیا نہ کریں؟ذہنی تازگی کیلئے یہ تدابیر اپنائیں، امتحانات کے دنوں میں طلبہ کا ذہن غیر معمولی دباؤ کا شکار ہوتا ہے، مگر طالب علم چاہے تو اپنی سوچ کا رخ بدل سکتا ہے۔ مثبت خیالات اور خود اعتمادی کے ذریعے وہ امتحان کو کامیابی میں بدل سکتا ہے۔
امتحان محض یادداشت کا امتحان نہیں بلکہ ذہنی نظم، خود اعتمادی اور درست حکمتِ عملی کا بھی کڑا امتحان ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر معمولی سی لاپروائی محنت ضائع کر سکتی ہے،خود پر یقین رکھئے اور پرُ اعتماد رہئے۔ تصویر: آئی این این
کچھ ہی دنوں میں امتحانات شروع ہوجائیں گے۔ ایسے میں ذہنی دباؤطلبہ کیلئے ایک عام مگر سنجیدہ مسئلہ بن جاتا ہے، جس سے نمٹنے کیلئے مناسب منصوبہ بندی اور مثبت سوچ بے حد ضروری ہے۔ امتحان کی تیاری وقت پر شروع کرنے سے نہ صرف اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ذہنی سکون بھی حاصل ہوتا ہے۔ امتحان سے ایک دن پہلے طلبہ کو چاہئے کہ وہ اپنی تیاری کا مختصر جائزہ لیں اور نئی معلومات سیکھنے کے بجائے پہلے سے پڑھے گئے اسباق کو دہرا لیں۔ اس دن مناسب آرام، متوازن غذا اور اچھی نیند کو ترجیح دینی چاہئےتاکہ ذہن تازہ اور یکسو رہے۔ غیر ضروری گھبراہٹ، رات بھر جاگنا اور سوشل میڈیا میں زیادہ وقت ضائع کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مثبت سوچ، دعا اور خود اعتمادی امتحانی دباؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مشکل مضامین، آسان مضامین؛ اعادہ کیلئے آزمائیں مختلف تکنیک
امتحان کے دنوں میں ذہنی دباؤ سے بچنے کیلئے اِن تدابیر پر عمل کریں
(۱)منظم مطالعہ کا شیڈول بنائیں
امتحانات کے دوران بے ترتیبی ذہنی دباؤ میں اضافہ کرتی ہے۔ روزانہ کا ایسا شیڈول تیار کریں جس میں ہر مضمون کو مناسب وقت دیا جائے۔ مشکل مضامین کو زیادہ توجہ دیں اور درمیان میں وقفہ ضرور رکھیں۔
(۲) مثبت سوچ اپنائیں
منفی خیالات ذہنی دباؤ کو بڑھاتے ہیں۔ خود پر اعتماد رکھیں اور یہ یقین کریں کہ آپ محنت کے ذریعے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اپنی تیاری پر توجہ دیں اور دوسروں سے غیر ضروری موازنہ نہ کریں۔
(۳) تفریح کو نظر انداز نہ کریں
مسلسل پڑھائی ذہنی دباؤ کو بڑھا سکتی ہے۔ ہلکی ورزش، واک یا پسندیدہ مشغلے ذہنی سکون فراہم کرتے ہیں اور توانائی بحال کرتے ہیں۔ مختصر تفریح ذہن کو تازگی دیتی ہے جس سے مطالعہ زیادہ مؤثر ہو جاتا ہے۔
(۴)گھر والوں کے ساتھ وقت گزاریئے
پڑھائی سے وقفہ لیں تو گھر والوں کے ساتھ وقت گزاریئے، یا، ایسے کام انجام دیجئے جن سے آپ کو ذہنی سکون ملے۔ ذہن کی تازگی کیلئے یہ ضروری ہے۔
(۵)ذہنی سکون کیلئے عبادت کریں
روحانی اور ذہنی سکون کیلئے دعا، ذکر یا گہری سانس لینے کی مشق بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔ یہ طریقے ذہنی تناؤ کو کم کرتے ہیں اور اعتماد میں اضافہ کرتے ہیںجس سے امتحان میں بہتر کارکردگی ممکن ہوتی ہے۔
(۶)واضح اہداف اور ترجیحات کا تعین کریں
امتحان کی تیاری کے دوران یہ طے کریں کہ کون سے مضامین زیادہ اہم یا مشکل ہیں۔ واضح اہداف بنانے سے مطالعہ منظم ہو جاتا ہے اور ذہنی الجھن کم ہوتی ہے۔
(۷) قابلِ حصول مراحل میں تیاری کریں
پورا نصاب ایک ساتھ دیکھ کر اکثر طلبہ گھبرا جاتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ نصاب کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں اور ہر حصے کی تکمیل پر خود کو سراہیں۔ اس طریقے سے دباؤ کم ہوجاتا ہے۔
(۸) باقاعدہ اعادہ اور مشق کو معمول بنائیں
صرف پڑھ لینا کافی نہیں ہوتا بلکہ بار بار اعادہ یادداشت کو مضبوط بناتا ہے۔ پچھلے سوالیہ پرچے حل کرنے اور تحریری مشق کرنے سے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور امتحانی ماحول سے مانوسیت پیدا ہوتی ہے۔
(۹)مناسب مطالعہ کا ماحول فراہم کریں
پرسکون اور صاف ستھرا ماحول ذہنی یکسوئی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ شور، ہجوم اور غیر ضروری مداخلت سے دور رہ کر پڑھائی کرنے سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے۔
(۱۰)وقت کے مؤثر استعمال کی عادت اپنائیں
وقت کا ضیاع ذہنی پریشانی میں اضافہ کرتا ہے۔ روزمرہ سرگرمیوں کو اس انداز سے ترتیب دیں کہ پڑھائی کیلئے مناسب وقت میسر ہو۔ ہر کام کیلئے مخصوص وقت مقرر کریں اور اس کی پابندی کریں۔
(۱۱) مدد لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں
اگر کہیں دشواری آرہی ہے تو اساتذہ یا ساتھی طلبہ سے رہنمائی حاصل کریں۔
یہ بھی پڑھئے: اب امتحان سر پر ہے، الرٹ ہوجایئے، اِن باتوں سے گریز ضروری
امتحان سے ایک دن پہلے کیا کریں
امتحان سے ایک دن پہلے پورا نصاب شروع سے پڑھنے کے بجائے اہم سوالات، تعریفیں، فارمولے، اصول اور خلاصے دہرائیں۔
آخری دن نئے موضوعات پڑھنے سے الجھن پیدا ہوسکتی ہے اور اعتماد کم ہوسکتا ہے۔ صرف وہی چیزیں دہرائیں جو پہلے سے پڑھی ہوئی ہیں۔
پرانے سوالیہ پرچے دیکھنے سے سوالات کے انداز اور سوالوں کی نوعیت سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے ذہنی تیاری بہتر ہو جاتی ہے۔
ایڈمٹ کارڈ، قلم، اضافی قلم، پنسل، ربر، اسکیل اور دیگر ضروری چیزیں رات کو ہی بیگ میں رکھ لیں۔یہ پریشانی سے بچا جا سکتا ہے۔
خود کو یہ یقین دلائیں کہ آپ نے اچھی تیاری کی ہے۔ منفی سوچ اور خوف ذہنی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں، اعتماد برقرار رکھنا ضروری ہے۔
مسلسل زیادہ دیر تک پڑھنے سے ذہن تھک جاتا ہے۔ بہتر ہے کہ کچھ دیر پڑھنے کے بعد تھوڑا آرام کریں تاکہ دماغ تازہ رہے ۔
امتحان سے پہلے موبائل اور سوشل میڈیا ذہن کو منتشر کرتے ہیں اور قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں۔ اس لئے ان سے دور رہنا بہتر ہے۔
صبح امتحان گاہ جانے سے پہلے بغیر ناشتہ کئے گھر سے نہ نکلیں۔ کیونکہ آپ کو امتحان گاہ میں کم از کم ڈھائی گھنٹہ بیٹھ کر مسلسل لکھنا ہے۔
ذہنی سکون کیلئے ہلکی ورزش، چہل قدمی یا گہری سانس لینے کی مشق مفید ہوتی ہے۔ اس سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے۔
امتحان سے ایک دن پہلے کم از کم سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند لینا بہت ضروری ہے۔ نیند پوری نہ ہونے سے یادداشت متاثر ہو سکتی ہے۔
امتحان کے مقام( سینٹر)، وقت اور وہاں پہنچنے کے راستے کی پہلے سے معلومات حاصل کرلیں جیسے وہاں پہنچنے کیلئے کون سا ٹرانسپورٹ بہتر رہے گا تاکہ امتحان والے دن کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈرو مت، سوال کرو، آگے بڑھو؛ خلاباز سنیتا ولیمز کا طلبہ کیلئے متاثر کن پیغام
امتحان سے ایک دن پہلے کیا نہ کریں
امتحان سے ایک دن پہلے نئی چیزیں پڑھنے سے ذہن میں الجھن پیدا ہوسکتی ہے۔ اس سے نئی معلومات اچھی طرح یاد نہیں رہتیں۔
آخری دن زیادہ سے زیادہ پڑھنے سے گریز کریں۔ ایسا کرنا ذہنی و جسمانی صحت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے۔
بلاوجہ گھبراہٹ یا منفی سوچ سے بچیں ۔امتحان کا خوف عام بات ہے لیکن ضرورت سے زیادہ پریشانی ذہنی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔
مسلسل بغیر وقفے کے پڑھائی نہ کریں۔لمبے وقت تک بغیر آرام کے پڑھنے سے ذہن تھک جاتا ہے اور یادداشت کمزور ہوسکتی ہے۔
دوستوں یا ساتھیوں سے غیر ضروری موازنہ نہ کریں۔ دوسروں کی تیاری دیکھ کر پریشان ہونا یا خود کو کم سمجھنا عتماد کو نقصان پہنچاتا ہے۔
غیر صحتمند یا بھاری غذا استعمال نہ کریں۔فاسٹ فوڈ یا زیادہ مسالے دار کھانا طبیعت خراب کرسکتا ہے، جو امتحان پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
امتحانات سے قبل ضروری سامان آخری وقت پر تلاش کرنے سے گریز کریں،تمام سامان پہلے سے تیار رکھنا چاہئے۔
اپنے اوپر ضرورت سے زیادہ دباؤ نہ ڈالیں۔حد سے زیادہ پڑھائی یا خود کو تھکانے سے کارکردگی بہتر ہونے کے بجائے متاثر ہوسکتی ہے۔
بار بار امتحان کے نتائج یا ممکنہ سوالات کے بارے میں سوچنے سے ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ بہتر ہے کہ ذہن کو پرسکون رکھا جائے۔
بعض طلبہ دوستوں کے ساتھ سوالات یا تیاری کے طریقے پر بحث کرنے لگتے ہیں جو ذہنی پریشانی اور الجھن پیدا کرسکتی ہے۔
ضرورت سے زیادہ کیفین یا انرجی ڈرنکس استعمال نہ کریں۔بعض طلبہ جاگنے کیلئے زیادہ چائے، کافی یا انرجی ڈرنکس پیتے ہیں جو بے چینی، دل کی دھڑکن تیز ہونے اور نیند خراب ہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیا سال، نئی سوچ؛ منفرد عزائم ہی بنا ئینگےآپ کو منفرد!
ذہنی دباؤ سے بچیں
ذہنی دباؤ/تناؤ کیا ہے؟
تناؤ وہ کیفیت ہے جو انسان دباؤ یا پریشانی میں محسوس کرتا ہے اور اس کا سامنا کرنے کیلئے مختلف ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ یہ عموماً اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان کسی ایسی صورتحال میں ہو جسے وہ کنٹرول کرنے کا طریقہ نہ جانتا ہو۔ بعض تناؤ عارضی ہوتے ہیں اور کسی خاص کام یا ذمہ داری مکمل ہونے پر ختم ہو جاتے ہیں۔
نفسیاتی دباؤ کیا ہے؟
نفسیاتی دباؤ ، نفسیات میں بوجھ اور دباؤ کا احساس ہے۔ یہ تناؤ قلیل مدتی بھی ہوتا ہے جسے ماہرین صحتمند قرار دیتے ہیں۔ یہ اگر مثبت ہو تو کار کردگی مزید بہتر ہوتی ہے۔ اس سے حوصلہ افزائی ملتی ہے۔ لیکن اگر یہ منفی ہے تو ذہنی اور جسمانی طور پر آپ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ مختلف بیماریوں کا سبب بن جاتا ہے۔
سماجی دباؤ کیا ہے؟
اگر کسی شخص پر معاشرے کے دیگر افراد اور سماجی ماحول کے سبب دباؤ پڑتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ وہ سماجی دباؤ کا شکار ہے۔طلبہ کیلئے سماجی دباؤ وہ کیفیت ہے جس میں معاشرہ، والدین، اساتذہ یا ہم عمر ساتھی ان سے خاص توقعات پوری کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ سماجی دباؤ طلبہ میں خود اعتمادی کی کمی کا سبب بن سکتا ہے۔
دباؤ/ تناؤ کی علامات
(۱) اگر آپ چڑچڑے ہوگئے ہیں تو یقینی طور پر کسی نہ کسی قسم کے دباؤ کا شکار ہیں۔(۲) جس سرگرمی میں مصروف ہیں یا جس میں حصہ لے رہے ہیں، اس سے لطف اندوز نہ ہونا۔ (۳) ہر وقت بے چین اور پریشان نظر آنا۔ (۴) نیند کا شیڈول درست نہیں ہے، یا نیند نہ آنا۔ (۵) ذہنی یکسوئی نہیں ہے۔