ارونا ایرانی ہندی فلموں کی معروف اداکارہ ہیں، جنہوں نے ۱۹۶۰ءکی دہائی سے فلمی دنیا میں کام شروع کیا اور کئی دہائیوں تک اپنی اداکاری سے ناظرین کو متاثر کیا۔
EPAPER
Updated: August 19, 2026, 1:03 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
ارونا ایرانی ہندی فلموں کی معروف اداکارہ ہیں، جنہوں نے ۱۹۶۰ءکی دہائی سے فلمی دنیا میں کام شروع کیا اور کئی دہائیوں تک اپنی اداکاری سے ناظرین کو متاثر کیا۔
ارونا ایرانی ہندی فلموں کی معروف اداکارہ ہیں، جنہوں نے ۱۹۶۰ءکی دہائی سے فلمی دنیا میں کام شروع کیا اور کئی دہائیوں تک اپنی اداکاری سے ناظرین کو متاثر کیا۔ وہ خاص طور پر معاون اور منفی کرداروں کے ساتھ ساتھ رقص پر مبنی کرداروں کے لیے بھی جانی جاتی ہیں۔ارونا ایرانی کا تعلق ایرانی زرتشتی اور ہندو پس منظر سے ہے۔ اپنے دور کی ایک ماہر اداکارہ اور رقاصہ کے طور پر، انہوں نے تقریباً۳۰۰؍ فلموں میں کام کیا ہے اور کئی یادگار کردار ادا کیے۔ وہ فلم ساز اندر کمار کی بہن ہیں اور ان کی شادی فلم ڈائریکٹر ککو کوہلی سے ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شاہ رخ خان آشا بھوسلے کو خراجِ عقیدت پیش کرنے والے میوزک ویڈیو کا حصہ ہوں گے
۱۸؍اگست ۱۹۴۶ءکوپیدا ہونے والی ارونا ایرانی نے اپنے فلمی سفر کاآغاز محض۹؍سال کی عمر میں فلم ’گنگا جمنا‘ (۱۹۶۱ء) سےکیا، جس میں انہوں نےعذرا کے بچپن کا رول ادا کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ’جہاں آرا‘(۱۹۶۴ء)، ’فرض‘(۱۹۶۷ء)، ’اپکار(۱۹۶۷ء) اور ’آیا ساون جھوم کے‘ (۱۹۶۹ء)جیسی فلموں میں چھوٹے کردار ادا کیے۔ انہوں نے کامیڈین محمود کے ساتھ ’اولاد‘ (۱۹۶۸ء)،’ہمجولی‘ (۱۹۷۰ء) اور ’نیا زمانہ‘ (۱۹۷۱ء)جیسی فلموں میں کام کیا، لیکن انہیں اصل شہرت ۱۹۷۱ءکی سپر ہٹ فلم ’کارواں‘میں ایک بنجارن کے جاندار کردار سے ملی۔بطور ہیروئین کامیابی ان سے دور رہی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جن فلموں میں انہوں نےمعاون کردار ادا کیے، ان کے ساتھی اداکار اسٹار بن گئے۔ ان میں ’فرض‘میں جتیندر،’بوبی‘(۱۹۷۳ء)میںرشی کپور اور ڈمپل کپاڈیہ، ’سرگم‘ (۱۹۷۹ء)میںجیا پردا اور’راکی‘ (۱۹۸۱ء) میں سنجے دت شامل ہیں۔ فلم ’کارواں‘کی زبردست کارکردگی کی وجہ سے وہ’ویمپ‘ اور معاون کرداروں کے لیے ٹائپ کاسٹ ہو گئیں۔ تاہم، ارونا ایرانی نے ہر رول کو سنجیدگی سے نبھایا اور اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔۱۹۷۰ءاور ۱۹۸۰ءکی دہائی کے اوائل میں وہ ’روٹی کپڑا اور مکان‘،’کھیل کھیل میں‘،’لیلیٰ مجنوں‘،’قربانی‘ اور’قدرت‘جیسی کئی بڑی فلموں میں نظر آئیں۔ انہیں ۱۹۸۴ءکی فلم’پیٹ پیار اور پاپ‘ کے لیے فلم فیئر کا بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ ملا۔ ۱۹۹۰ءکی دہائی میں انہوں نے ماں کے کردار نبھانا شروع کیے، خاص طور پر فلم ’بیٹا‘ (۱۹۹۲ء)کے لیے انہیں دوسرا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔ انہوں نے گجراتی فلموں میں بھی بہت شہرت حاصل کی اور وہاں کئی فلموں میں مرکزی کردار ادا کر کے ایک نیا رجحان قائم کیا۔
یہ بھی پڑھئے: تمل ناڈو کے سی ایم وجے کے بیٹے جیسن سنجے کی ’’سگما‘‘ کی ریلیز کی تاریخ تبدیل
انہوں نےہندی کے علاوہ کنڑ، مراٹھی اور گجراتی فلموںمیں بھی معاون یا کیریکٹر رول نبھاتے ہوئے ۵۰۰؍سے زائد فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ ان کی شاندار کارکردگی پر انہیں فلم فیئر ایوارڈز میں بہترین معاون اداکارہ کے زمرے میں متعدد بار نامزد کیا گیا۔وہ اس زمرے میں سب سے زیادہ نامزدگیاں (۱۰) حاصل کرنے کا ریکارڈرکھتی ہیں۔ انہیں فلم ’پیٹ پیار اور پاپ‘ اور ’بیٹا‘ میں بہترین اداکاری کے لیے دو بار اس ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ جنوری۲۰۱۲ءمیں،ان کی تاحیات فنی خدمات کے اعتراف میں ۵۷؍ویں فلم فیئر ایوارڈز کے موقع پر انہیں’فلم فیئر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘ سے بھی سرفراز کیا گیا۔