کے ڈی ایم سی نے بھارت انڈسٹریز لمیٹڈ کو ایک سال کے لئے بلیک لسٹ کردیا۔
EPAPER
Updated: October 04, 2026, 1:21 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Dombivli
کے ڈی ایم سی نے بھارت انڈسٹریز لمیٹڈ کو ایک سال کے لئے بلیک لسٹ کردیا۔
مانسون میں سڑکوں پر پڑنے والے گڑھوں کی مرمت اور شہریوں کو آمدورفت میں درپیش مشکلات دور کرنے کے لئے میونسپل انتظامیہ کی جانب سے جہاں مختلف علاقوں میں مرمتی کام کرائے جا رہے ہیں وہیں کام کے معیار میں لاپروائی برتنے والے ٹھیکیداروں کے خلاف اب سخت کارروائی کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا ہے۔ اسی ضمن میں کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) نے ڈومبیولی کے ’ایف‘ وارڈ میں سڑکوں کی مرمت کے کام میں مبینہ غفلت برتنے پر متعلقہ ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے ایک سال کیلئے بلیک لسٹ کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بڑی گاڑیوں کے ٹول کرایہ میں اضافہ ، مزید۱۵؍ سے۳۵؍ روپےزیادہ ادا کرنے ہونگے
واضح رہے کہ کے ڈی ایم سی کی جانب سے برسات کے دوران سڑکوں پر پڑنے والے گڑھوں کو پُر کرنے اور سڑکوں کی دیکھ بھال و مرمت کے لئے مختلف وارڈوں میں الگ الگ ٹھیکیدار مقرر کئے گئے ہیں۔ گزشتہ ماہ گنیش اتسو کے دوران شہریوں کی سہولت کے پیش نظر تمام سڑکوں کو ڈامبر سے درست حالت میں رکھنے کی خصوصی ہدایات بھی تمام ٹھیکیداروں کو دی گئی تھیں۔ میونسپل انتظامیہ کے مطابق بارش میں وقفہ ملنے کے دوران بیشتر وارڈوں میں مرمت کا کام اطمینان بخش انداز میں مکمل کیا گیا تاہم ڈومبیولی ڈویژن کے ’ایف‘ وارڈ کے لئے مقرر کردہ بھارت انڈسٹریز لمیٹڈ کو بار بار ہدایات دینے کے باوجود بعض مقامات پر سڑکوں کی مرمت کا کام مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں کیا گیا۔ خصوصا گنیش اتسو کے دوران سڑکوں کی خراب حالت کو دور کرنے کے لئے مناسب احتیاط نہ برتنے اور کام میں لاپروائی کے پیش نظر میونسپل کارپوریشن نے متعلقہ کمپنی کو دیا گیا کام واپس لے لیا۔ ساتھ ہی کمپنی کو آئندہ ایک سال تک میونسپل کارپوریشن کے کاموں میں حصہ لینے سے روکنے کے لئے بلیک لسٹ کردیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کے ڈی ایم سی کی سٹی انجینئر انیتا پردیسی نے یکم اکتوبر کو متعلقہ ٹھیکیدار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کارروائی عمل میں لائی۔
شہریوں نے خیر مقدم کیا
میونسپل انتظامیہ کی جانب سے ٹھیکیدار کے خلاف کی گئی اس کارروائی کا شہریوں نے خیرمقدم کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کام کے معیار سے سمجھوتہ کرنے والے ٹھیکیداروں کے خلاف اسی طرح کی سخت کارروائی جاری رہنے سے نہ صرف سڑکوں کی مرمت کے کام کا معیار بہتر ہوگا بلکہ مستقبل میں دیگر ٹھیکیدار بھی کام میں لاپروائی برتنے سے گریز کریں گے۔ اس سے سڑکوں کی حالت بھی بہتر ہو سکے گی۔