Inquilab Logo Happiest Places to Work

عاصم ریاض نے ہمانشی کھرانہ کو اسلام قبول کرنے کے لیے زور نہیں دیا

Updated: August 24, 2026, 10:05 PM IST | Mumbai

اداکار اور’’بگ باس‘‘ کے سابق کنٹسٹنٹ عاصم ریاض نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے کہ انہوں نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ ہمانشی کھرانہ سے مذہب تبدیل کرکے اسلام قبول کرنے کو کہا تھا۔ عاصم نے کہا کہ مذہب ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور اسے عوامی تنازع یا کسی کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

Asim Riaz And Himanshi.Photo:INN
عاصم ریاض اور ہماشنی۔ تصویر:آئی این این

اداکار اور’’بگ باس‘‘ کے سابق کنٹسٹنٹ  عاصم ریاض  نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے کہ انہوں نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ ہمانشی کھرانہ  سے مذہب تبدیل کرکے اسلام قبول کرنے کو کہا تھا۔ عاصم نے کہا کہ مذہب ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور اسے عوامی تنازع یا کسی کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ہمنشی نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں اپنے مذہبی عقائد اور روحانی سفر کے بارے میں گفتگو کی۔ انہوں نے عاصم کے ساتھ اپنے تعلق کے دوران مذہب کے حوالے سے پیدا ہونے والی اندرونی کشمکش کا بھی ذکر کیا تھا۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by ASIM RIAZ 👑 (@asimriaz77.official)


 انسٹاگرام پر عاصم نے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ’’میں نے کبھی کسی سے اپنا مذہب تبدیل کرنے کے لیے نہیں کہا۔ ایک بار بھی نہیں۔‘‘  انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ہی ہمانشی کو فٹنیس پر توجہ دینے کی ترغیب دی تھی۔ عاصم نے مذہب کو ایک حساس موضوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے اپنے خلاف نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کرنا نامناسب اور توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ عاصم نے کہا کہ کسی ذاتی معاملے کو عوامی تنازع بنا کر لوگوں کو ان کے خلاف بھڑکانا ناپختگی کو ظاہر کرتا ہے۔
 عاصم نے اپنے اور ہمانشی کے کریئر اور مالی حیثیت سے متعلق باتوں پر بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنا کریئر بنانے کے لیے کبھی کسی دوسرے شخص کی ضرورت نہیں پڑی اور نہ ہی وہ کسی ایسے شخص کو اپنے کریئر کا کریڈٹ دیں گے جس نے اس میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ عاصم نے دولت کے حوالے سے کہا کہ اگر کوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ کس کے پاس زیادہ پیسہ ہے تو بینک اسٹیٹمنٹس اس کا جواب دے سکتے ہیں، لیکن ان کے مطابق  پیسہ کبھی کردار کا پیمانہ نہیں رہا۔  ان کا کہنا تھا کہ اصل کردار اس وقت سامنے آتا ہے جب کوئی شخص توجہ، مقبولیت یا چند اضافی ویوز حاصل کرنے کے لیے کس حد تک گرنے کو تیار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:یشسوی جیسوال اور اسیتھافرنانڈو پر میچ فیس کا ۲۵؍ فیصد جرمانہ

عاصم نے سابقہ ذاتی تعلقات کو کئی سال بعد دوبارہ موضوع بنانے پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر بظاہر  پارس چھابڑا  کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کئی سال بعد کسی کے پرانے تعلقات اور ذاتی زندگی کو دوبارہ کھود کر گپ شپ پیدا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ عاصم کے مطابق ایسا کرنے سے اس شخص کے بارے میں زیادہ پتہ چلتا ہے جو پرانے معاملات کو دوبارہ سامنے لا رہا ہے۔ 
یہ تنازع پارس چھابڑا کے پوڈکاسٹ میں ہمانشی کی گفتگو کے بعد شروع ہوا۔ ان سے ان خبروں کے بارے میں سوال کیا گیا تھا کہ کیا عاصم کے ساتھ تعلق کے دوران انہوں نے کسی دوسرے مذہب کو اختیار کرنے کے بارے میں سوچا تھا۔ ہمانشی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسے  مذہب تبدیل کرنا  نہیں کہیں گی۔ ان کے مطابق عاصم انہیں اپنے مذہب کی اچھی باتیں بتاتے اور سمجھاتے تھے، جسے انہوں نے بذاتِ خود ایک مثبت بات قرار دیا۔ تاہم ہمانشی نے کہا کہ وہ عاصم کے اپنے عقائد شیئر کرنے سے پریشان نہیں تھیں، لیکن انہیں خود قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔  ہمانشی نے بتایا کہ اس دور میں وہ اپنے مذہبی عقائد کے حوالے سے اندرونی کشمکش کا شکار ہوگئی تھیں۔ انہیں خدشہ تھا کہ کہیں وہ اپنی مذہبی شناخت نہ کھو دیں۔

یہ بھی پڑھئے:شری رام اور انیرودھ نے کینکن کنٹری اوپن کا ڈبلز خطاب جیت لیا

انہوں نے یاد کیا کہ اس وقت ان کے ذہن میں یہ خیال آیا تھا کہ اپنی روحانی جڑوں سے دور ہونے سے پہلے انہیں  چار دھام یاترا  مکمل کرنی چاہیے اور مختلف مندروں کے درشن کرنے چاہئیں۔ ہمانشی کے ان بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر بحث شروع ہوگئی۔ بعد میں انہوں نے انسٹاگرام اسٹوریز کے ذریعے میڈیا کوریج پر ردعمل دیتے ہوئے اس پورے تنازع کو  ’’چائے کے کپ میں طوفان‘‘  قرار دیا۔
 عاصم ریاض اور ہمانشی کھرانہ نے تقریباً چار سال تک تعلق میں رہنے کے بعد ۶؍ دسمبر۲۰۲۳ء کو اپنی علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت ہمانشی نے ان کے درمیان  مختلف مذہبی عقائد  کو رشتہ ختم ہونے کی ایک اہم وجہ قرار دیا تھا۔ اب عاصم کی تازہ وضاحت کے بعد دونوں کے ماضی کے تعلق، مذہبی اختلافات اور سوشل میڈیا پر جاری بحث ایک بار پھر خبروں میں آگئی ہے۔ عاصم کا مؤقف واضح ہے کہ  مذہب کو ذاتی اختلافات یا عوامی نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK