• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’السلام علیکم‘‘: کرسٹیانو رونالڈو جونیئر نے عربی بول کر مداحوں کو حیران کردیا

Updated: September 28, 2026, 4:06 PM IST | Jeddah

پرتگال کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کے ۱۶؍ سالہ بیٹے کرسٹیانو رونالڈو جونیئر ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہیں، تاہم اس بار ان کی وجہ شہرت میدان میں کیا گیا کوئی گول نہیں بلکہ عربی زبان میں ان کی گفتگو ہے۔ سعودی عرب میں اپنے قیام کے دوران رونالڈو جونیئر نے عربی زبان کے کچھ جملے سیکھ لیے ہیں۔

Junior Ronaldo.Photo:X
جونیئر رونالڈو۔ تصویر:ایکس

پرتگال کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کے ۱۶؍ سالہ بیٹے کرسٹیانو رونالڈو جونیئر  ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہیں، تاہم اس بار ان کی وجہ شہرت میدان میں کیا گیا کوئی گول نہیں بلکہ عربی زبان میں ان کی گفتگو ہے۔ سعودی عرب میں اپنے قیام کے دوران رونالڈو جونیئر نے عربی زبان کے کچھ جملے سیکھ لیے ہیں اور ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’بگ باس ۲۰‘‘:ریتی تیواری کے رویے پر سلمان خان برہم

وائرل ویڈیو میں رونالڈو جونیئر اپنے  النصر (Al Nassr)  کے ایک نوجوان ساتھی کھلاڑی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے عربی میں ’’السلام علیکم‘‘ کہتے سنائی دیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ’’کیف الحال؟‘‘ یعنی ’’آپ کیسے ہیں؟‘‘ جیسے الفاظ بھی استعمال کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنے ساتھی کھلاڑی سیف کے بارے میں عربی میں یہ بھی کہا کہ وہ ایک اچھے کھلاڑی ہیں۔ گفتگو کے دوران رونالڈو جونیئر نے عربی کے ساتھ انگریزی بھی استعمال کی، جس کے باعث ویڈیو نے شائقین کی خاص توجہ حاصل کی۔ رونالڈو جونیئر دسمبر ۲۰۲۲ء میں اپنے والد کرسٹیانو رونالڈو کے النصر سے وابستہ ہونے کے بعد سے سعودی عرب میں رہ رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے النصر کے یوتھ سسٹم میں اپنی فٹبال تربیت جاری رکھی ہے۔ عربی زبان سے ان کی واقفیت اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ وہ سعودی عرب میں اپنی زندگی اور مقامی ماحول سے بتدریج ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔  
رونالڈو جونیئر حالیہ عرصے میں اپنی فٹبال کارکردگی کے باعث بھی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں سعودی انڈر۱۷؍پریمیئر لیگ کے ایک میچ میں  النصر انڈر۱۷؍ ٹیم کی جانب سے النصر کے حریف الاہلی کے خلاف دونوں گول کیے ۔ النصر نے یہ مقابلہ ۱۔۲؍ گول  سے جیتا جبکہ رونالڈو جونیئر نے ۱۲؍ویں اور ۴۴؍ویں منٹ میں گول کرکے اپنی ٹیم کو فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے والد کرسٹیانو رونالڈو نے بھی بعد میں ان گولز کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:مراٹھواڑہ میں ۸؍ ماہ کے دوران۶۵۳؍ کسانوں نے خودکشی کی

رونالڈو جونیئر اپنے والد کی طرح پرتگال کی نمائندگی کی جانب بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہیں مئی ۲۰۲۵ء میں پہلی مرتبہ  پرتگال کی انڈر۱۵؍ ٹیم  کے لیے طلب کیا گیا تھا اور اس کے بعد وہ ملک کے یوتھ فٹبال نظام میں اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔  اس سے پہلے رونالڈو جونیئر نے اپنے والد کے مختلف کلبوں سے وابستہ رہنے کے دوران ان کے یوتھ سسٹمز میں بھی وقت گزارا۔ وہ  یووینٹس  اور مانچسٹر یونائیٹڈ  کے نوجوان کھلاڑیوں کے نظام کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔ کرسٹیانو رونالڈو دنیا کے معروف ترین فٹبالرز میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے بیٹے کے فٹبال کریئر پر بھی شروع سے ہی مداحوں اور میڈیا کی نظر رہی ہے۔ تاہم رونالڈو جونیئر کی حالیہ عربی گفتگو نے ان کی شخصیت کا ایک مختلف پہلو سامنے لایا ہے۔ سعودی عرب میں تین سال سے زیادہ عرصہ گزارنے کے بعد عربی زبان کے عام جملوں کا استعمال اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ نوجوان فٹبالر مقامی ماحول سے بھی واقفیت حاصل کر رہے ہیں۔ ’’السلام علیکم‘‘ اور ’’کیف الحال؟‘‘ جیسے جملوں کے استعمال نے سوشل میڈیا پر شائقین کی دلچسپی بڑھا دی ہے۔ 
رونالڈو جونیئر کے لیے آنے والے برس خاص اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ وہ ایک طرف النصر کے یوتھ سسٹم میں اپنی فٹبال صلاحیتوں کو نکھار رہے ہیں اور دوسری طرف پرتگال کی نوجوان ٹیموں کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر بھی اپنا مقام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK