• Wed, 21 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اٹل کی سنچری، افغانستان نے زمبابوے کو ۱۵۸؍ رن سے شکست دی

Updated: October 20, 2026, 8:08 PM IST | Dubai

صدیق اللہ اٹل کی شاندار سنچری (۱۰۲؍ رن) کے بعد راشد خان کی۱۷؍ رن دے کر ۴؍ وکٹ حاصل کرنے کی بہترین گیند بازی کی بدولت افغانستان نے سہ فریقی سیریز کے دوسرے مقابلے میں زمبابوے کو ۱۵۸؍ رن سے شکست دے دی۔

Sediqullah Atal.Photo:X
صدیق اللہ اٹل۔ تصویر:ایکس

 صدیق اللہ اٹل کی شاندار سنچری (۱۰۲؍ رن) کے بعد راشد خان کی۱۷؍ رن دے کر ۴؍ وکٹ حاصل کرنے کی بہترین گیند بازی کی بدولت افغانستان نے سہ فریقی سیریز کے دوسرے مقابلے میں زمبابوے کو  ۱۵۸؍ رن سے شکست دے دی۔ اٹل نے ابراہیم زدران (۹۰؍ رن) کے ساتھ مل کر ۱۴۰؍ رن کی شراکت داری کی۔ تاہم، بعد میں افغانستان نے اپنے آخری ۶؍ وکٹ جلدی گنوا دیے، لیکن زمبابوے ۲۹۵؍ رن کے ہدف کے آس پاس بھی نہیں پہنچ سکا اور  ۴ء۳۸؍اوور میں ۱۳۶؍ رن پر آل آؤٹ ہوگیا۔ اگر زمبابوے  ۱۹۶؍رن کا ہندسہ پار کر لیتا تو وہ سہ فریقی سیریز کے فائنل میں اپنی جگہ یقینی کرلیتا۔
فی الحال، ٹورنامنٹ کی تینوں ٹیموں کے پاس اتوار کو ہونے والے فائنل میں پہنچنے کا موقع ہے۔ افغانستان اور زمبابوے دونوں کے پاس ابھی ۲۔۲؍پوائنٹس ہیں اور اب بدھ کو افغانستان اور بنگلہ دیش کے درمیان صرف ایک میچ باقی ہے۔ مسلسل دوسرے میچ میں زمبابوے کی ابتدائی بلے بازی بری طرح لڑکھڑا گئی اور اس بار کوئی بھی بلے باز ٹیم کو نہیں بچا سکا۔ بنگلہ دیش کے خلاف اس کا اسکور ۳؍وکٹ پر ۲۴؍ رن تھا، جبکہ اس بار وہ ۱۳؍ اوور میں۴؍ وکٹ پر صرف ۴۳؍ رن تک پہنچ سکا۔ تیسرے اوور میں فضل الحق فاروقی نے ایک بہترین اندر کی جانب آنے والی گیند پر بین کرن کو بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ کر دیا۔ برائن بینیٹ نے ایک چھکا اور ایک چوکا لگا کر جوابی حملہ کرنے کی کوشش کی۔ وہیں تفادزوا تسنگا نے فاروقی کی آف اسٹمپ سے باہر کی گیند کھیلنے کی کوشش کی، لیکن وکٹ کے پیچھے کیچ آؤٹ ہوگئے اور صرف ۲؍رن بنا سکے۔


آٹھویں اوور میں برینڈن ٹیلر کریز سے کافی باہر نکل آئے تھے، جس پر عظمت اللہ عمرزئی نے براہ راست تھرو کرکے انہیں رن آؤٹ کر دیا۔ اسی اوور میں عمرزئی نے بینیٹ کو کلین بولڈ کر دیا، لیکن بینیٹ نے فوراً اعتراض کیا کہ رن اپ کے دوران عمرزئی کا رومال ان کے جسم سے گر گیا تھا۔ امپائروں نے اس پر کچھ دیر تبادلہ خیال کیا اور پھر امپائر احسان رضا نے اسے ڈیڈ بال  قرار دیا۔ تاہم، بینیٹ زیادہ دیر تک کریز پر نہیں ٹک سکے اور اے ایم غضنفر نے انہیں ۴۰؍ گیندوں پر  ۳۱؍ رن کے اسکور پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا۔ ۴؍ وکٹ پر ۴۳؍رن کے نازک اسکور پر سکندر رضا اور ریان برل نے اننگز کو قدرے سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔ رضا نے ضیاء الرحمٰن کی گیند پر اپر کٹ لگا کر چھکا جڑا اور برل نے اپنا پہلا چوکا لگایا، لیکن اس کے بعد دونوں نے تقریباً ۱۳؍اوور تک کوئی باؤنڈری لگائے بغیر جدوجہد کی۔
اس دوران رضا کو ۲؍ بار زندگی دان ملا۔ پہلے ڈیپ اسکوائر لیگ کی باؤنڈری سے دوڑ کر آنے والے عمرزئی نے ۲۰؍ رن کے اسکور پر ان کا کیچ چھوڑ دیا۔ کچھ دیر بعد رضا (۲۴؍ رن) نے غضنفر کی گیند پر سلپ کی جانب گیند کا کنارہ لگایا، لیکن وہاں بھی کیچ نہیں پکڑا جا سکا۔ آخرکار ۳۰؍ویں اوور میں رضا نے ضیاء کی گیند پر پل شاٹ کھیل کر باؤنڈری کے خشک سالی ختم کی۔ برل نے بھی محمد نبی کی گیند پر اپنا دوسرا چوکا لگایا، لیکن اس کے بعد راشد نے شاندار گیند بازی کرتے ہوئے تیزی سے ۴؍وکٹ حاصل کر لیے۔

یہ بھی پڑھئے:’’جیلر ۲‘‘ ۲۰۲۶ء کی تیسری سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندوستانی فلم بن گئی

انہوں نے برل کو سلائیڈر گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا، جو ان کے اگلے پیر کے پیڈ پر لگی۔ اس کے ساتھ ہی پانچویں وکٹ کے لیے ۶۴؍ رن کی شراکت داری ختم ہوگئی۔ اس کے بعد ویسلے مدھیویرے راشد کی نیچی رہنے والی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ گیند ان کے پچھلے پیڈ پر لگی، جو بالکل مڈل اسٹمپ کی سیدھ میں تھا۔ راشد کے اگلے اوور میں رضا بھی آؤٹ ہوگئے۔ ان کی گگلی گیند نے کافی زیادہ ٹرن لیا اور سیدھی اسٹمپ سے جا ٹکرائی۔ رضا نے۸۰؍گیندوں پر ۴۸؍ رن بنائے۔ اس طرح زمبابوے کا اسکور۴؍وکٹ پر ۱۰۷؍ رن سے گر کر ۷؍وکٹ پر ۱۲۴؍ رن ہوگیا۔
 ۳۷؍ویں اوور میں بریڈ ایونز نے آف اسپنر نبی کی گیند پر ایک چھکا اور ایک چوکا لگایا، لیکن اگلی ہی گیند پر وہ ڈیپ مڈ وکٹ پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔ یہ نبی کا پہلا وکٹ تھا۔ اس کے بعد راشد نے ارنسٹ مسوکو کے مڈل اسٹمپ کو اڑا دیا، جس سے وہ بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے۔ آخر میں ضیاء الرحمٰن کے ڈیپ سے کیے گئے تھرو نے مساکادزا کو کریز سے باہر ہی رن آؤٹ کر دیا اور افغانستان کی جیت یقینی ہوگئی۔
اس سے پہلے رحمان اللہ گرباز نے افغانستان کو تیز شروعات دلائی، جس کے بعد زدران اور اٹل نے مل کر سنچری کی شراکت داری قائم کی۔ شروعات میں زدران نے جارحانہ بلے بازی کی اور کئی بہترین شاٹس کھیلتے ہوئے اپنے کریئر کی ۱۱؍ویں نصف سنچری مکمل کی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اٹل کو وائٹ بال کرکٹ کی لے میں واپس آنے میں کچھ وقت لگ رہا ہے، لیکن جلد ہی انہوں نے بھی باؤنڈری لگانا شروع کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے:پرتگال کی قومی ٹیم چھوڑنے پر کرسٹیانو رونالڈو پر ۳۰؍ دن کی پابندی، جرمانہ بھی عائد

زدران بہترین لے میں دکھائی دے رہے تھے اور سنچری کی طرف بڑھ رہے تھے، تبھی ایونز کی گیند پر ڈیپ اسکوائر لیگ میں ۹۰؍ رن بنا کر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ ون ڈے میں یہ چوتھی بار تھا جب زدران ۹۰؍ رن کے اسکور پر آؤٹ ہوئے، جس سے زمبابوے کو کچھ راحت ملی۔ افغانستان نے اپنے کپتان رحمت شاہ اور عمرزئی کے وکٹ جلد گنوا دیئے، جس کی وجہ سے اٹل کو اپنی اننگز کی رفتار کم کرنی پڑی۔ انہوں نے حشمت اللہ شاہدی کے ساتھ مل کر پانچویں وکٹ کے لیے 42 رن جوڑے اور پھر اپنی تیسری ون ڈے سنچری مکمل کی۔
اٹل نے سنبھل کر کھیلتے ہوئے پہلے زدران کے ساتھ دوسری وکٹ کے لیے شراکت داری قائم کی اور پھر اس بات کو یقینی بنایا کہ افغانستان کی اننگز لڑکھڑانے نہ پائے۔ ۴۵؍ویں اوور میں جب ٹیم کا اسکور ۲۵۰؍ رن سے آگے تھا، تب ان کے آؤٹ ہوتے ہی افغانستان کی اننگز بکھر گئی۔ زمبابوے نے آخری ۲ء۵؍ اوور میں صرف ۳۵؍ رن دے کر افغانستان کے باقی ۶؍ وکٹ حاصل کر لیے، لیکن تب تک افغانستان کا اسکور بڑی جیت یقینی بنانے کے لیے کافی تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK