آسٹریلیا میں ایک لائبریری سے ۱۵۰؍ سال قبل مستعار لی گئی کتاب لوٹائی گئی، کتاب میں درج تاریخ اور ضوابط کے مطابق افراطِ زر کو مدنظر رکھتے ہوئے جرمانہ ۱۸؍ لاکھ ۷۰؍ہزار روپئے بنتا ہے۔
EPAPER
Updated: August 03, 2026, 2:05 PM IST | Canberra
آسٹریلیا میں ایک لائبریری سے ۱۵۰؍ سال قبل مستعار لی گئی کتاب لوٹائی گئی، کتاب میں درج تاریخ اور ضوابط کے مطابق افراطِ زر کو مدنظر رکھتے ہوئے جرمانہ ۱۸؍ لاکھ ۷۰؍ہزار روپئے بنتا ہے۔
تقریباً ۱۵۰ سال قبل آسٹریلیا کی عوامی لائبریری سے مستعار لی گئی ایک کتاب بالآخر واپس کر دی گئی۔ یہ کتاب، جس کا نام’’Antiquities of Athens‘‘ہے اور جو ۱۸۵۸ء میں شائع ہوئی تھی، گزشتہ ہفتے سمندر کنارے قصبے کیاما کی لائبریری کو ایک شخص نے لوٹائی، جسے یہ کتاب گھر کی تزئین و آرائش کے دوران ملی۔ یہ کتاب ایک چائے کے ڈبے میں رکھی ہوئی تھی، جو اینٹوں سے بند ایک بند چمنی میں رکھی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: دبئی: فضا میں ’’ہیومن گلیکسی زیڈ فولڈ ۸‘‘ لانچ،۲۰؍اسکائی ڈائیورز کا منفرد مظاہرہ
کیاما لائبریری کی مینیجر مشیل ہڈسن نے تصدیق کی کہ اس کتاب پر دیر سے واپسی کا جرمانہ، افراطِ زر کو مدنظر رکھتے ہوئے، تقریباً ۱۸؍ لاکھ ۷۰؍ہزار ( ۲۸۰۰۰؍آسٹریلوی ڈالر) بنتا ہے۔ یہ جرمانہ کتاب کے سرورق کے اندر درج برطانوی اصول ’’تین پنس فی ہفتہ‘‘ کے مطابق طے کیا گیا، جو لائبریری کے ۱۸۷۲ء میں کھلنے کے وقت نافذ تھا۔ہڈسن نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، ’’ہمارے پاس کبھی اتنی پرانی کوئی چیز واپس نہیں آئی،‘‘ اور مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر وہ جن لائبریریوں کو فالو کرتی ہیں، وہاں اکثر گھروں کی صفائی کے دورانعموماً ۳۰؍ یا ۴۰؍ سال پرانی واپسی ہوتی ہیں۔ اگرچہ یہ کتاب اب لائبریری کی تاریخ کا حصہ بن چکی ہے، لیکن جرمانے کا ذمہ دار کون ہے، اس کا پتہ لگانا ممکن نہیں، کیونکہ لائبریری کا ۱۸۷۰ء کی دہائی کا رجسٹر، جس میں یہ درج تھا کہ کس نے کون سی کتاب کب لی تھی، گم ہو چکا ہے۔ہڈسن نے کہا، ’’بدقسمتی سے، ہماری ایک کڑی غائب ہے۔ کتاب میں کوئی ایسی چیز نہیں جو ہمیں بتائے کہ آخری مستعار لینے والا کون تھا۔
واضح رہے کہ لائبریری کے کلیدی اصولوں کے مطابق، مستعار لینے والوں کو دوسری کتاب لینے سے پہلے پچھلی کتاب واپس کرنی ہوتی تھی اور تمام بقایا جرمانے ادا کرنے ہوتے تھے۔ گھرانوں کو زیادہ سے زیادہ تین کتابیں لینے کی اجازت تھی، لیکن صرف اس صورت میں جب کم از کم چھ افراد پڑھنے کے قابل ہوں، اور جو شخص نشے میں آتا تھا، اسے کتاب نہیں دی جاتی تھی۔ ہڈسن نے کہا، ’’شاید اسی لیے انہوں نے یہ کتاب ہمیں کبھی واپس نہیں کی۔‘‘یہ کتاب، جو چمنی کے قریب کئی سال تک پانی سے خراب ہوگئی تھی، لائبریری کے اصل مجموعہ (تقریباً ۱۰۰۰؍ جلدوں) میں نمبر ۵۰۶؍ تھی۔ ہڈسن کے خیال میں یہ کتاب اشاعت کے چند سالوں کے اندر غائب ہوگئی تھی۔ ہڈسن نے کہا، ’’ہم اسے دوبارہ مستعار لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم اس کتاب کی واپسی کے لیے مزید ۱۵۰؍ سال انتظار نہیں کرنا چاہتے۔‘‘