Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوشل میڈیا پر ’’بے بی ڈو ڈائی ڈو‘‘ کا چرچا، ہما قریشی کی اداکاری سے ناظرین متاثر

Updated: July 04, 2026, 4:01 PM IST | Mumbai

ہما قریشی کی کرائم تھریلر ’’بے بی ڈو ڈائی ڈو‘‘ ریلیز کے پہلے ہی دن سوشل میڈیا پر مثبت ردعمل حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ ایکس، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر ناظرین نے فلم کی منفرد کہانی، ماحول، سسپنس اور ہما قریشی کی خاموش مگر مؤثر اداکاری کو بھرپور سراہا ہے۔ متعدد صارفین نے اسے ان کے کریئر کا بہترین پرفارمنس قرار دیا، جبکہ کئی نے فلم کو سال کی نمایاں تھریلر فلموں میں شامل کیا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ہما قریشی کی نیو نائر کرائم تھریلر ’’بے بی ڈو ڈائی ڈو‘‘ ریلیز کے پہلے ہی دن سوشل میڈیا پر گفتگو کا اہم موضوع بن گئی ہے۔ اگرچہ فلم کو عالیہ بھٹ اور شروری کی بڑی بجٹ فلم ’’الفا‘‘ سے سخت مقابلے کا سامنا ہے، لیکن ایکس، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ناظرین کی بڑی تعداد ہما قریشی کی اداکاری اور فلم کے منفرد انداز کی بھرپور تعریف کر رہی ہے۔ پہلے دن فلم دیکھنے والے کئی ناظرین نے ہما قریشی کی کارکردگی کو ان کے کریئر کی بہترین اداکاری قرار دیا۔ ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’’یہ ایک جرتا مندانہ فلم ہے۔ ہدایت کار نچیکیت سمانت نے ایک ایسا نیو نائر کرائم ڈرامہ تخلیق کیا ہے جو اپنے منفرد مرکزی کردار، مضبوط دنیا سازی اور جذباتی کہانی کی وجہ سے نمایاں ہے۔ ہما قریشی نے تقریباً مکمل طور پر تاثرات، باڈی لینگویج اور اسکرین پریزنس کے ذریعے کردار کو زندہ کر دیا ہے۔‘‘

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’’بالی ووڈ میں ایسی سنسنی خیز فلم دیکھ کر خوشی ہوئی جو غیرضروری کمرشیل عناصر کے بجائے ماحول اور کہانی کو ترجیح دیتی ہے۔ ’’بے بی ڈو ڈائی ڈو‘‘ نے یہ توازن بہترین انداز میں قائم کیا ہے۔ ہما قریشی نے شاندار اداکاری کی ہے۔‘‘ متعدد ناظرین نے فلم کو ۵؍ میں سے ۴؍ اسٹار دیتے ہوئے اسے ’’اسٹائلش، تازہ دم اور منفرد کرائم تھریلر‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم کا نیو نائر انداز، ڈارک کامیڈی، تیز رفتار کہانی اور غیرمتوقع موڑ آخر تک دلچسپی برقرار رکھتے ہیں، جبکہ ہما قریشی کی خاموش اداکاری فلم کی سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آتی ہے۔ کئی صارفین نے لکھا کہ وہ بغیر ایک بھی مکالمہ بولے صرف تاثرات سے کردار کی پوری کیفیت بیان کرنے میں کامیاب رہیں۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Hollywood Dekho (@aaodekhenbollywood)

ایک اور مقبول پوسٹ میں کہا گیا کہ ’’یہ وہی قسم کی فلم ہے جس کا مطالبہ بالی ووڈ کے شائقین برسوں سے کرتے رہے ہیں، مگر جب ایسی مختلف اور تجرباتی فلمیں آتی ہیں تو اکثر انہیں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ اچھے سنیما کی حمایت کیجئے۔‘‘ ایک صارف نے فلم کو ’’سال کی سب سے منفرد اور تخلیقی بالی ووڈ فلموں میں سے ایک‘‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اس کی ایڈیٹنگ، موسیقی اور بصری انداز روایتی فارمولا فلموں سے بالکل مختلف ہے اور یہی بات اسے خاص بناتی ہے۔
کئی ناظرین نے فلم کے کلائمکس، سسپنس اور ممبئی کی انڈرورلڈ کی پیش کش کو بھی سراہا۔ ایک پوسٹ میں لکھا گیا، ’’بے بی ڈو ڈائی ڈو ایک حقیقی تھریلر ہے۔ شاندار اسکرین پلے، مضبوط تکنیکی معیار اور ہما قریشی کی بے مثال اداکاری فلم کو یادگار بنا دیتی ہے۔‘‘ ایک اور ایکس صارف نے فلم کو ’’شاہکار‘‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ’’ابھی سنیما میں فلم دیکھی۔ یہ ایک حقیقی تھریلر ہے۔ ہما قریشی نے کمال کر دیا۔ کیا زبردست پرفارمنس ہے!‘‘ انسٹاگرام پر بھی فلم کے حق میں مثبت ردعمل دیکھنے کو ملا۔ کئی صارفین نے ہما قریشی کی خاموش ہٹ وومین کے کردار کو عالیہ بھٹ اور شروری کی فلم ’’الفا‘‘ کے مقابلے میں زیادہ منفرد قرار دیا، جبکہ بعض نے لکھا کہ اگر ’’بے بی ڈو ڈائی ڈو‘‘ کو وسیع پیمانے پر سنیما گھروں میں نمائش ملتی تو یہ باکس آفس پر بھی سخت مقابلہ پیش کر سکتی تھی۔

فلمی ناقدین کے ساتھ ساتھ معروف فلمی تجزیہ کاروں نے بھی ہما قریشی کی اداکاری کو فلم کی سب سے بڑی طاقت قرار دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق فلم اپنی رنگین بصری دنیا، منفرد کرداروں، غیرمتوقع موڑ اور ممبئی کی ری ڈیولپمنٹ مافیا کے پس منظر کو دلچسپ انداز میں پیش کرتی ہے، جبکہ ہدایت کار نچیکیت سمانت کا اسلوب فلم کو روایتی بالی ووڈ تھریلرز سے الگ شناخت دیتا ہے۔ دوسری جانب کنڑ سپر اسٹار یش نے بھی سوشل میڈیا پر ہما قریشی کی بطور اداکارہ اور پروڈیوسر کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ’’Proud doesn’t even cover it‘‘، جس کے بعد ان کا پوسٹ بھی مداحوں میں تیزی سے وائرل ہوگیا۔

’’بے بی ڈو ڈائی ڈو‘‘ کی کہانی گونگی اور بہری کانٹریکٹ کلر بے بی کرماکر کے گرد گھومتی ہے، جو اپنے ماضی کے زخموں کے ساتھ ممبئی کے خطرناک انڈرورلڈ میں زندہ رہنے کی جدوجہد کرتی ہے۔ فلم میں ہما قریشی کے علاوہ سکندر کھیر، چنکی پانڈے، رچیت سنگھ، سیما پاہوا، ہمانشو ملک اور منگلا کینکرے نے بھی اہم کردار ادا کیے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK