بحرین کے عربی ٹریپ آرٹسٹ فلیپراچی کا ٹریکFA9LA فلم ’’دھرندھر‘‘ کی ریلیز کے بعد ہندوستان میں وائرل ہوا۔ اس کے متعلق گلوکار کا کہنا ہے کہ موسیقی زبان کی دیواریں توڑ دیتی ہے۔ وہ ۱۳؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو ممبئی میں اپنا پہلا لائیو شو کریں گے۔
EPAPER
Updated: February 24, 2026, 5:02 PM IST | Mumbai
بحرین کے عربی ٹریپ آرٹسٹ فلیپراچی کا ٹریکFA9LA فلم ’’دھرندھر‘‘ کی ریلیز کے بعد ہندوستان میں وائرل ہوا۔ اس کے متعلق گلوکار کا کہنا ہے کہ موسیقی زبان کی دیواریں توڑ دیتی ہے۔ وہ ۱۳؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو ممبئی میں اپنا پہلا لائیو شو کریں گے۔
بحرینی ریپر Flipparachi کا عربی ٹریپ ٹریک ’FA9LA‘ میگا بلاک بسٹر ’’دھرندھر‘‘ کے ساتھ منسلک ہونے کے بعد ملک گیر سنسنی بن گیا ہے۔ فلیپراچی نے آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں ہمیشہ یقین رکھتا تھا کہ موسیقی سرحدیں پار کر سکتی ہے، لیکن میں نے کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ یہ اس طرح ہوگا۔ جب توانائی درست ہو تو زبان رکاوٹ نہیں بنتی۔‘‘ خیال رہے کہ گلوکار ۱۳؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو ممبئی میں پہلی بار لائیو پرفارم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’’یہ میرے لیے شکرگزاری کا لمحہ ہے۔ جب لوگ آپ کے ملک میں قدم رکھنے سے پہلے ہی آپ کی موسیقی سے جڑ جائیں تو وہ ایک منفرد احساس ہوتا ہے۔‘‘ فلیپراچی اپنی صنفی ملاوٹ والی آواز اور غیر روایتی کہانی سنانے کے انداز کے لیے جانے جاتے ہیں، اور انہوں نے مشرق وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک ایک بین الاقوامی فین بیس قائم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فلم میں کامنی کوشل کا نام ہیرو کے نام سے پہلے آتا تھا
’’دھرندھر‘‘ کے ہدایتکار آدتیہ دھر ہیں۔ فلم میں رنویر سنگھ، اکشے کھنہ، سنجے دت، ارجن رامپال اور آر مادھون نے اہم کردار ادا کئے ہیں۔ فلم کی کہانی ایک خفیہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنٹ کے گرد گھومتی ہے جو پاکستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے دراندازی کرتا ہے۔ اس کی کہانی جنوبی ایشیا کے حقیقی جیو پولیٹیکل واقعات سے متاثر ہے، جن میں ۱۹۹۹ء کی آئی سی ۸۱۴؍ ہائی جیکنگ، ۲۰۰۱ء بھارتی پارلیمنٹ حملہ اور ۲۰۰۸ء ممبئی حملے شامل ہیں۔ واضح رہے کہ فلم کا دوسرا حصہ ۱۹؍ مارچ کو ریلیز ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: منی پوری فلم ’’بونگ‘‘ کو بچوں اور خاندان کیلئے بہترین فلم کے زمرے میں بافٹا ایوارڈ
موسیقی کی عالمی طاقت
فلیپراچی کے مطابق، ’FA9LA‘ کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید سنیما اور میوزک کے اشتراک سے ثقافتی سرحدیں دھندلا سکتی ہیں۔ ہندوستان میں عربی ٹریپ میوزک کا اس سطح پر مقبول ہونا ایک نئی ثقافتی لہر کی علامت سمجھا جا رہا ہے، جہاں زبان سے زیادہ جذبات اور بیٹ کی طاقت اہم ہو گئی ہے۔