بالی ووڈمیں ۴۰ء اور ۵۰ءکی دہائی میں متعدد ایسی اداکارائیں جلوہ گر ہوئیں، جنہوں نےطویل عرصے تک اپنی فنکارانہ عظمت کا سکہ جمائے رکھا۔کامنی کوشل بھی انہیں میں سے ایک تھیں اوراسی بنا پرانہیں عہد ساز اداکارہ کہا جاتا تھا۔
EPAPER
Updated: February 24, 2026, 10:25 AM IST | Agency | Mumbai
بالی ووڈمیں ۴۰ء اور ۵۰ءکی دہائی میں متعدد ایسی اداکارائیں جلوہ گر ہوئیں، جنہوں نےطویل عرصے تک اپنی فنکارانہ عظمت کا سکہ جمائے رکھا۔کامنی کوشل بھی انہیں میں سے ایک تھیں اوراسی بنا پرانہیں عہد ساز اداکارہ کہا جاتا تھا۔
بالی ووڈمیں ۴۰ء اور ۵۰ءکی دہائی میں متعدد ایسی اداکارائیں جلوہ گر ہوئیں، جنہوں نےطویل عرصے تک اپنی فنکارانہ عظمت کا سکہ جمائے رکھا۔کامنی کوشل بھی انہیں میں سے ایک تھیں اوراسی بنا پرانہیں عہد ساز اداکارہ کہا جاتا تھا۔
کامنی کوشل کی پیدائش ۲۴؍ فروری۱۹۲۷ء کو لاہورمیں ہوئی تھی۔ وہ ۲؍بھائیوں اور۳؍بہنوں میں سب سےچھوٹی تھیں۔ ۱۹۴۶ءمیںانہیں چیتن آنند نے اپنی فلم ’نیچا نگر‘میں اداکاری کی پیشکش کی جسے انہوں نے قبول کرلیا اور انہیںاس فلم کے لئے کانس فلم فیسٹول میں ممتاز گولڈن پام ایوارڈ اور دوسری فلم ’براج بہو‘ کیلئے بہترین اداکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔
نوعمر ی سے ہی وہ تیراکی ، گھڑ سواری اور آکاش وانی پر ریڈیو ڈرامے کرتی رہیں اور انہیں فی ڈرامہ ۱۰؍ روپےملتےتھے ۔ کالج کے زمانے میں وہ اشوک کمار کی بڑی مداح تھیں۔ان کا اصل نام اوما کشیپ تھا، لیکن چیتن آنند نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنا نام بدل لیں اور یوں وہ اوما سے کامنی کوشل بن گئیں۔ ایسا کم ہی دیکھا گیا ہے کہ کسی فلم میں اداکارہ کا نام ہیروکے نام سے پہلے آئے لیکن ۴۰ءکی دہائی میں کامنی کوشل کی فلموں میں ان کا نام ہیرو سےپہلے آتا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ۴۵۔ ۱۹۴۲ءمیں وہ دہلی میں اسٹیج ایکٹریس کے طور پر بھی کام کرتی رہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’حسینہ مان جائے گی‘‘ کا سیکوئل زیرِ غور، فرہاد سامجی ہدایتکار
دلیپ کمار کے ساتھ ان کی جوڑی کو بہت پسند کیا گیا۔ ۱۹۴۸ءمیںدلیپ کمار کے ساتھ انہوں نے فلم ’شہید‘میں کام کیا، جو سپرہٹ ثابت ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نےپگڑی، ندیا کے پار، شبنم اور آرزومیں بھی دلیپ کمار کے ساتھ ہیروئن کی حیثیت سے کام کیا اور یہ سب فلمیں کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔۱۹۴۸ءمیں انہوں نے عصمت چغتائی کے ناول ’ضدی‘پرمبنی فلم ’ضدی‘میں آشا کا کردار ادا کیا جبکہ ہیرو کا کردار دیو آنند نےنبھایاتھا۔یہ دیو آنند کی پہلی کامیاب فلم تھی، پھر انہوں نے فلم ’نمونہ‘میں دیو آنند کے ساتھ کام کیا۔ ۱۹۴۸ءمیںوہ راج کپور کی فلم ’آگ‘میں مہمان اداکارہ کے طور پر نظر آ ئیں۔کامنی کوشل کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ لتا منگیشکر کا جو پہلا پلے بیک گیت کسی ہیروئن پر پکچرائزہوا وہ یہی ہیروئن تھیں۔اس سےپہلے لتا معاون اداکاراؤں کیلئے گایاکرتی تھیں۔ کامنی کوشل کیلئے زیادہ تر پلے بیک گیت شمشاد بیگم اور سریندر کور گایا کرتی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان کی افتتاحی جوڑی کا اوسط عمان اور کنیڈا سے بھی بدتر
کامنی کوشل کی اہم فلموں میں’دو بھائی‘ (۱۹۴۷ء)، ’شہید‘ (۱۹۴۸ء)، ’ضدی‘ (۱۹۴۸ء)، ’ندیا کے پار‘ (۱۹۴۸ء)، ’نائٹ کلب‘ (۱۹۵۸ء) وارث، یقین، آدمی اور انسان، گمراہ،اپہار، قید، گئودان، آبرو، شور،تانگے والا، ہیرا لال پنا لال، روٹی کپڑا اور مکان اور دس نمبری،دو راستے(۱۹۶۹ء)،’پریم نگر‘ (۱۹۷۴ء)، ’مہا چور‘ ۱۹۷۶ء)شامل ہیں۔ منشی پریم چند کے ناول پر مبنی فلم ’گئودان‘ (۱۹۶۳ء)میں ان کی اداکاری کو اُن کے کریئر کی بہترین پرفارمنس میں شمار کیا جاتا ہے۔ تقریباً ۷؍دہائیوں تک اپنے فن کے جلوے بکھیرنےوالی اداکارہ کامنی کوشل نے ۱۴؍ نومبر ۲۰۲۵ءکو داعی اجل کو لبیک کہا۔ایک بے مثال اداکارہ کی حیثیت سے ان کا نام ہندی فلموں کی تاریخ میں امر ہوگیا ہے،اگرچہ ان کے انتقال سے ہندی سنیما کے ایک شاندار دور کا خاتمہ ہوگیا لیکن ان کی بھرپور اداکاری اور فلمی سفر کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔