Updated: May 01, 2026, 12:12 PM IST
| Kolkata
ترنمول کانگریس( ٹی ایم سی ) نے مغربی بنگال میں ای وی ایمز سے چھیڑ چھاڑ اور انتخابی دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر ملی بھگت کا دعویٰ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام انتخابی عمل مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق اور مکمل نگرانی میں جاری ہے۔
ممتا بنرجی۔ تصویر: آئی این این
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے جمعرات کو الزام عائد کیا ہے کہ الیکشن کمیشن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ مل کر مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایمز) میں رد و بدل کے ذریعے انتخابی دھاندلی کر رہا ہے۔ ٹی ایم سی نے سوشل میڈیا پر الزام لگایا کہ س سیکوریٹی کیمروں کی ویڈیوز میں یہ منظر سامنے آیا ہےکہ بی جے پی، ’الیکشن کمیشن کی فعال ملی بھگت‘ سے بیلٹ بکس کو سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی غیر موجودگی میں کھول رہی ہے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ’’ یہ کھلی انتخابی دھاندلی ہے جو الیکشن کمیشن کی مکمل معلومات اور تحفظ کے ساتھ کی جا رہی ہے۔ ‘‘یاد رہے کہ مغربی بنگال میں انتخابات دو مرحلوں میں ۲۳؍ اپریل اور۲۹؍ اپریل کو ہوئے تھے جبکہ ووٹوں کی گنتی ۴؍مئی کو ہونا طے ہے۔
ٹی ایم سی کی جانب سے جمعرات کو شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر کچھ افراد کاغذات کی چھانٹی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، تاہم، ان کی شناخت واضح نہیں ہے۔ ممتا بنرجی کی قیادت والی پارٹی نے کہا کہ بی جے پی نےہر گندا حربہ آزمایا جس میں ناموں کا حذف ہونا، ووٹروں کو دھمکانا، مرکزی فورسز کا دباؤ اور نقدی کا استعمال شامل ہے، لیکن اس کے باوجود وہ ناکام رہی ہے۔ ٹی ایم سی نے الزام لگایا کہ اب مایوسی میں آ کر ای وی ایمز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جا رہی ہے، اور کہا کہ بنگال مہاراشٹر، دہلی یا بہار نہیں ہے۔ ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے اور جمہوریت کی لوٹ مار نہیں ہونے دیں گے۔ واضح رہے کہ بی جے پی نے۲۰۲۴ء میں مہاراشٹر اور۲۰۲۵ء میں دہلی اور بہار کے اسمبلی انتخابات جیتے تھے، اور اپوزیشن نے ان ریاستوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد کئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ممتا بنرجی کا اپنے کارکنوں کو اسٹرانگ روم پر پہرہ دینےکا حکم
جمعرات کو ٹی ایم سی لیڈر ششی پناجا اور کنال گھوش نے کولکاتا میں نیتاجی انڈور اسٹیڈیم کے باہر دھرنا دیا، جہاں ای وی ایمز کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ بعد ازاں رات کے وقت وزیراعلیٰ ممتا بنرجی بھی بھبان پور حلقے سے متعلق ایک اور اسٹرانگ روم پہنچیں جہاں ای وی ایمز رکھی گئی ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ وہ نگرانی کیلئے چار گھنٹے وہاں موجود رہیں۔ ‘‘ان کا کہنا تھا کہ ’’ نیتاجی انڈور اسٹیڈیم میں ہم نے دیکھا کہ ای وی ایمز کھولی جا رہی تھیں، اسی لئے میں یہاں آئی تاکہ خود جائزہ لے سکوں۔ پہلے ہمیں روکا گیا، لیکن بعد میں ریٹرننگ آفیسر نے اجازت دی۔ میں یقینی بناؤں گی کہ ووٹوں کو زبردستی نہ چرایا جائے۔ یہ ہمارا علاقہ ہے، میں ہزاروں لوگوں کو بھی لا سکتی تھی مگر نہیں لائی۔ ‘‘ ٹی ایم سی نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن نے ’’ای وی ایم اسٹرانگ روم پر رات گئے چھاپہ مارنے اور مشینوں سے چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی۔ ‘‘پارٹی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’’کسی بھی چھیڑ چھاڑ کی کوشش کو عوام کے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بنگال کو لوٹا نہیں جا سکتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بچو کڑو کا شندے گروپ میں شمولیت سے انکار مگر گفتگو کا دروازہ کھلا رکھا
دوسری جانب چیف الیکشن آفیسر منوج اگروال نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’’بے بنیاد‘‘ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ الزام غلط ہے، اور ہم اس پر رپورٹ طلب کر رہے ہیں۔ اگر کسی نے قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی کی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔ ‘‘شمالی کولکاتاکے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر سِمتا پانڈے نے کہا کہ تمام ای وی ایمز مضبوطی سے سیل اور محفوظ سٹرانگ روم میں رکھی گئی ہیں اور ان کی نگرانی کیمرے سے کی جا رہی ہے۔ ویڈیو سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک مرکز میں پوسٹل بیلٹس کی علاحدگی کا عمل جاری تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے اے ای آر اوز یہ عمل خُدیرام انوشیلان کیندر کے راہداری میں کر رہے تھے، اور تمام سیاسی جماعتوں کو پہلے ہی اس کی اطلاع دی گئی تھی کہ یہ عمل شام۴؍ بجے شروع ہوگا۔ اس لئے یہ الزام درست نہیں ہے۔ ‘‘انتظامیہ نے مزید کہا کہ الزامات کے بعد حکام نے امیدواروں کے ساتھ مل کر مرکز کا دورہ کیا اور انہیں دکھایا کہ تمام کام الیکشن کمیشن کے ایس او پی کے مطابق ہو رہا ہے اورا سٹرانگ روم میں کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔