• Sun, 01 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گیارہویں میں آف لائن داخلہ لینےوالے طلبہ کو راحت

Updated: November 01, 2026, 12:33 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

تقریباً ۱۹؍ہزارآف لائن داخلے ریگولرائز کئےگئے، بارہویں کا امتحان دینےکی اجازت۔ متعلقہ کالجوں پر فی طالب علم ۵؍ہزارروپے جرمانہ عائد کرنےکی سخت ہدایت۔

The decision to provide relief has benefited approximately 19,000 students. Photo: INN
راحت دینے کے فیصلے سے تقریباً ۱۹؍ہزارطلبہ کا فائدہ ہوا ہے۔ تصویر:آئی این این

ڈائریکٹوریٹ آف سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن نے تمام ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹرز آف ایجوکیشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان طلبہ کو بارہویں جماعت میں آن لائن داخلہ دے کر ریگولرائز کریں جنہیں گزشتہ سال آن لائن کے بجائے آف لائن داخلہ دیاگیاتھا۔ ساتھ ہی انہیں بارہویں جماعت کے امتحان میں شرکت کی منظوری بھی دی جائے۔ اس فیصلے سے تقریباً ۱۹؍ ہزارطلبہ کو راحت ملی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کالجوں پر سخت کارروائی کرنے کی ہدایت جاری کی ہے جنہوں نے ان طلبہ کو آف لائن داخلے دیئے ہیں ۔ ان کالجوں پر فی طالب علم ۵؍ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا جائےگا۔  
ریاستی بورڈ کے ذریعہ منعقدکئے جانے والے بارہویں جماعت کے امتحان کیلئے درخواست کا عمل فی الحال جاری ہے، اس لئے جن طلبہ نے گزشتہ سال گیارہویں جماعت میں آف لائن داخلہ لیا تھا وہ بارہویں جماعت کے امتحان کیلئے درخواست نہیں دے سکیں گے۔ جس سے طلبہ کا سال ضائع ہونے اور تعلیمی نقصان کا خدشہ تھا۔ طلبہ کو تعلیمی نقصان سے بچانے کیلئے محکمہ تعلیم نے ۲۶۔ ۲۰۲۵ء میں آن لائن کے بجائے آف لائن داخلہ لینے والے طلبہ کو ریگولرائز کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ تعلیمی سال ۲۷۔ ۲۰۲۶ء میں وہ بارہویں میں آن لائن داخلہ لے کر امتحان میں شریک ہوسکیں ۔ 
ڈائریکٹرآف ایجوکیشن مہیش پالکر نے تمام ڈپٹی ڈائریکٹرآف ایجوکیشن کو ۷؍ دنوں میں اس کارروائی کو مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ۸؍ماہ میں ۸۷۵؍ میں سے۸۴۶؍ گمشدہ بچیوں کو تلاش کرلیا گیا

اس تعلق سے ضروری تفصیلات طلب کی گئی ہیں ۔ ان طلبہ کو ریگولر کرنے کے بعد بارہویں جماعت کے امتحان میں شرکت کرنے والے طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوگا، اس لئے امتحانی مراکز میں بیٹھنے کا انتظام، کلاس روم، بنچ، بیت الخلاء، روشنی اور وینٹیلیشن جیسی سہولیات کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ اس بارے میں بھی معلومات طلب کی گئی ہیں کہ داخلہ دیتے وقت طلبہ سے وصول کی گئی فیس، امتحان کے انعقاد کیلئے درکار انفراسٹریکچر اور امتحانی مراکز کی صلاحیت کو مدنظر رکھا گیا تھا یا نہیں  ۔ 
آف لائن داخلے کی اجازت دینے والوں کے خلاف کارروائی 
۱۱؍ویں کے داخلے کا عمل مرکزی آن لائن طریقہ سے عمل میں لایا جا رہا ہے۔ جن سیکنڈری اسکولوں اور جونیئر کالجوں نے آف لائن داخلہ دے کر قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان سے اس سلسلے میں تحریری وضاحت طلب کی جائے گی۔ غیر قانونی داخلے دینے والے اداروں پر فی طالب علم ۵؍ ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ ادارے کے انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان پرنسپلز یا ہیڈ ماسٹرز کے خلاف تادیبی کارروائی کرے جو آف لائن داخلے دینے کے ذمہ دار ہیں۔ اگر ادارہ انکوائری کے بعد قصور وار پرنسپلز یا ہیڈ ماسٹرز کے خلاف کارروائی نہیں کرتا تو متعلقہ انکوائری کی رپورٹ مزید کارروائی کیلئے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کو بھیجنی ہوگی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK