بھوپین ہزاریکا کو ہندوستان کے ایک عظیم گلوکار، موسیقار، شاعر، فلم ساز اور سماجی مصلح کی حیثیت سےیاد کیا جاتا ہے۔ وہ نہ صرف آسام بلکہ پورےملک اور دنیا میں اپنی انوکھی اور دل کو چھو لینے والی آواز کیلئے مشہور تھے۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 12:34 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
بھوپین ہزاریکا کو ہندوستان کے ایک عظیم گلوکار، موسیقار، شاعر، فلم ساز اور سماجی مصلح کی حیثیت سےیاد کیا جاتا ہے۔ وہ نہ صرف آسام بلکہ پورےملک اور دنیا میں اپنی انوکھی اور دل کو چھو لینے والی آواز کیلئے مشہور تھے۔
بھوپین ہزاریکا کو ہندوستان کے ایک عظیم گلوکار، موسیقار، شاعر، فلم ساز اور سماجی مصلح کی حیثیت سےیاد کیا جاتا ہے۔ وہ نہ صرف آسام بلکہ پورےملک اور دنیا میں اپنی انوکھی اور دل کو چھو لینے والی آواز کیلئے مشہور تھے۔ بھوپین ہزاریکا صرف ایک گلوکار یاموسیقار نہیں تھے، بلکہ وہ عوام کے دل کی آواز تھے۔ ان کے گیت انسانیت، انصاف اور محبت کا پیغام دیتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کرتے رہیں گے۔
بھوپین ہزاریکا۸؍ستمبر ۱۹۲۶ءکوآسام کے سیڈیا قصبےمیں پیدا ہوئےتھے۔ ابتدائی تعلیم کے علاوہ انھیں موسیقی اور ادب کا شوق تھا۔ اپنی والدہ سے ، انھوں نے بنگال کی لوک موسیقی میں تعلیم حاصل کی اور ان کی صحبت میں، بھوپین کو موسیقی کا شوق بڑھتا گیا۔ انھوں نے۱۱؍ سال کی عمر میں آسام میں آل انڈیا ریڈیو کے لیے پہلی بارگانا گایا اور اگلے سال آسامی فلم انڈرلامتی میں بطور چائلڈ آرٹسٹ پرفارم کرنے اور گانے کا موقع بھی ملا۔انہوں نے اپنی شناخت سدابہار گلوکارکے طور پر بنائی۔ اپنے فن میں اتنے ماہر ہوئےکہ ا ن کو آسام کا کوہِ نورکے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان کے گائے ہوئے گیت صرف آسام یا ہندستان ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیش اور نیپال میں بھی مقبول ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے:کارتک آرین کی فلم ’’لڑاکو‘‘ ۱۸ جون ۲۰۲۷ء کوریلیز ہوگی
ان کی آواز میں عوامی درد اور انسانی یکجہتی کی جھلک ملتی ہے۔بھوپین ہزاریکا نے کئی آسامی اور ہندی فلموں کے لئے موسیقی دی۔ہندی فلموں کے روحانی سفر اور دیگرفلموں میں ان کی آواز نے گہرا اثر ڈالا۔ان کے گیتوں میںانسانیت، محبت، بھائی چارہ اور مساوات کا پیغام جھلکتا ہے۔وہ اپنے گانوں کے ذریعے عوامی بیداری اور سماجی اصلاح کے علمبردار بنے۔
انہوں نے متعدد آسامیہ فلموں کے لئے موسیقی دی اور گایا۔انہوں نے کئی فلمیں ڈائریکٹ بھی کیں۔ ۱۹۷۰ء اور ۸۰ءکی دہائی میں ہندی فلم انڈسٹری کے لئےبھی گیت کمپوز کئے۔ بھوپین ہزاریکا نے گلزار اور دوسرے فنکاروں کے ساتھ کام کیا۔ ان کے گانے اکثر سماجی بیداری اور انصاف کی پکار ہوتے تھے۔
بھوپین ہزاریکا کو ان کی شاندار خدمات کے لئے ۱۹۹۲ءمیں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں ۱۹۷۷ءمیںپدم شری ،۲۰۰۱ءمیںپدم بھوشن، ۲۰۱۲ءبعد از وفات پدم وبھوشن ،۲۰۱۹ء بعد از وفات بھارت رتن جیسے انعامات سےسرفراز کیا جاچکا ہے۔ بھوپین ہزاریکانے صرف فلمی دنیا میں ہی اپنا نام نہیں کمایا۔بلکہ انہوں نے آسام میں عوامی مسائل اور ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنے میں بڑا کردار بھی ادا کیا۔ ۲۰۰۴ءمیں بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے لوک سبھا انتخابات میں امیدوار بھی رہے۔بھوپین ہزاریکا کا نام ہمیشہ اس بات کی علامت رہے گا کہ موسیقی صرف تفریح نہیںبلکہ سماجی اور انسانی رشتوں کو جوڑنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ ڈاکٹرہزاریکا نے اپنے پختہ یقین کا اظہارکیاکہ انسانیت کی ثقافت بنیادی طور پر اتحاد کی ثقافت ہے۔ اس پختہ عزم کا اظہار ان کے لکھے ہوئے لازوال گیتوں سےہوا، جو تاریخ کے گلیاروںمیں گونجتے رہتے ہیں۔بھوپین ہزاریکا کا انتقال۵؍ نومبر ۲۰۱۱ءکوممبئی میں ہوا۔ گوہاٹی میں ان کا آخری دیدار کرنے لاکھوں لوگ جمع ہوئے، جس سے ان کی مقبولیت اور عوامی محبت کا اندازہ ہوتا ہے۔