• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یکساں سول کوڈ سے متعلق مشورے اور اعتراضات منگوانے کی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ

Updated: November 06, 2026, 1:33 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

ہانڈی والی مسجد میں علماء کی میٹنگ ۔ بڑی تعداد میںشہر ومضافات کے ائمہ اورعلماء نےشرکت کی ۔ حکومت کو متنبہ کیا کہ یوسی سی مشکلات پیداکرے گا،کیونکہ یہ شریعت میں مداخلت کی کوشش ہے۔

Maulana Moin Mian addressing a meeting at the Handi Wali Masjid. Photo: INN
ہانڈی والی مسجد میںہونے والی میٹنگ میں مولانا معین میاں خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ سے متعلق مشورے اور اعتراضات منگوانے کی تاریخ ۱۵؍ نومبر میں توسیع کا مطالبہ کیا گیا۔ اس تعلق سے ہانڈی والی مسجد میںجمعرات کی صبح علماء کی میٹنگ بلائی گئی ۔میٹنگ میں شہر ومضافات سے بڑی تعداد میں ائمہ اورعلماء کرام نےشرکت کی ۔ دریں اثناء حکومت کو متنبہ کیا گیاکہ ایسا کوئی قدم مشکلات پیدا کرے گا۔اس کے علاوہ حکومت کا یہ فیصلہ آئین کی دفعہ ۲۵؍ سے متصادم اور آئین میںدی گئی آزادی کےمخالف ہے۔ 

حکومت بازرہے

آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کےصدر مولانا سید معین الدین اشرف عرف معین میاں نے کہا کہ ’’یکساں سول کوڈ کا نفاذ ملک میں بسنے والے مختلف طبقات کی سماجی اور عائلی زندگی کو دشوار بنا دے گا۔  ہندوستان میں مختلف مذاہب، تہذیبوں اور روایات کے ماننے والے بستے ہیں، اُن سب کو اپنے مذہبی اصولوں اورتشخصات کے مطابق زندگی گزارنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ ایسے میں یکساں سول کوڈ کے نام پر مذہبی اور عائلی معاملات میں مداخلت نامناسب قدم ہے، حکومت اس سے باز رہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مالونی کے۱۴؍غیر قانونی اسکولوں کے طلبہ اور ان کے والدین کو عدالت سے راحت

رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ ’’مشورے اور اعتراضات کے لئے مقررہ تاریخ  ۱۵؍ نومبر میں توسیع کی جائے تاکہ ہرطبقہ اپنی رائے اور اعتراضات درج کراسکے۔اسی طرح یوسی سی کے تعلق سے کمیٹی کی جانب سے پوچھے گئے ۴۷؍ سوالات میں سے بیشتر سوال شریعتِ اسلامی سے متصادم ہیں، انہیںکسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔‘‘ سعید نوری نے علماء ، ائمہ مساجد اور عوام سے اپیل کی کہ’’ وہ اپنی سطح پر بیداری پیدا کریں اورعوام کی رہنمائی فرمائیں۔‘‘

ہانڈی والی مسجد کے امام مولانااعجاز احمد کشمیری نے کہا کہ ’’جمعہ کا دن اورخطابِ جمعہ عوامی بیداری پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ تمام علماء کرام اور ائمہ مساجد جمعہ کے خطابات میں نمازیوں کو یوسی سی کے ممکنہ اثرات سے آگاہ کریں اورکیو آر کوڈ کے ذریعے اپنی مخالفت اور تجاویز درج کرانے کی انہیں ترغیب دلائیں۔‘‘جمعرات ۵؍نومبر کو ہانڈی والی مسجد میںہونے والی میٹنگ میں مولانا فرید الزماں، مولانا خلیل الرحمٰن نوری، مولانا محمد عباس رضوی، قاری گلزار احمد رضوی،  قاری دین محمد، مولانا شرف الدین مصباحی، مولانا غلام معصوم اشرفی، مولانا حاتم طائی، مولانا غلام مصطفیٰ رضوی، مولانا جہانگیر القادری، مولانا ظفر الدین رضوی، قاری ارشاد احمد، مفتی نور الحسن، مولانا نظام الدین رضوی، مولانا عظمت علی علیمی اور قاری غلام مصطفیٰ نظامی کے علاوہ دیگر علماء وائمہ موجود تھے۔ سب نے اپنی جانب  سےیہ یقین دلایا کہ چونکہ یہ شریعت میں مداخلت کی کوشش ہے، اس لئے خاموش نہیںرہا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK