• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گوالیار: مدرسہ دارالقرآن کو سیل کردیا گیا، رہائشی سہولتوں میں کمی کا الزام

Updated: November 06, 2026, 12:58 PM IST | Agency | Gwalior

کمیشن برائے حقوق اطفال اور ضلع انتظامیہ کی مشترکہ کارروائی،۸؍لڑکیوں سمیت۲۶؍بچوں کو تحویل میں لیا گیا۔

Members of the administration can be seen conducting an investigation. Photo: INN
انتظامیہ کے اراکین تفتیش کرتے ہوئےدیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

مدھیہ پردیش کے ضلع گوالیارمیں اے جی آفس کے قریب واقع مدرسہ دارالقرآن کو بچوںکی رہائشی سہولتوں اور ادارے کےرجسٹریشن ریکارڈ میں ’سنگین خامیاں‘ پائے جانے کے بعد حکام نے سیل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی مدھیہ پردیش کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال اور ضلع انتظامیہ کی مشترکہ ٹیم کے معائنہ کے بعد کی گئی۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق حکام نے مدرسہ سے۲۶؍ بچوں کو اپنی تحویل میں لیا، جن میں۸؍لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق مدرسہ میں بچوں کو’ غیر صحت بخش ماحول‘ میںرکھا جارہاتھا۔ ان کے بستر گندے تھے اور کھانےپینےکے مناسب انتظامات بھی نہیں تھے۔ حکام نے یہ بھی پایا کہ کئی بچے باقاعدہ اسکول نہیں جا رہے تھے۔ مشترکہ ٹیم کا کہنا ہے کہ مدرسہ کے رجسٹریشن اور قانونی طورپر ادارہ چلانے سے متعلق ضروری دستاویزات بھی نہیں مل سکے۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر کے خلاف کرناٹک میں انڈیا اتحاد کا احتجاج

 تمام بچوں کو چائلڈ ویلفیئر کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی نگرانی میں دے دیا گیا ہے، جبکہ مدرسہ کی عمارت کو سیل کر دیا گیا ہے۔ سب ڈویژنل مجسٹریٹ اتل سنگھ نے بتایا کہ یہ مدرسہ ۲۰۱۷ء سے چل رہا تھا۔ یہاں رہنے والے بچوں کا تعلق گوالیار-چمبل خطہ کے اضلاع گوالیار، دتیا، مرینہ اوربھنڈ کے علاوہ راجستھان سے بھی بتایا گیاہے۔ سنگھ کے مطابق انتظامیہ اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ مدرسہ کس بنیاد پر چلایا جا رہا تھا۔ ابتدائی معلومات سے اشارہ ملا ہے کہ ۲۰۱۷ءمیں رجسٹرڈ ایک سوسائٹی اس کے قیام سےوابستہ ہو سکتی ہے، تاہم مشترکہ ٹیم کو ایسی ضروری دستاویزات نہیں ملےجن سے ادارے کو موجودہ طور پر چلانے کا قانونی اختیار ثابت ہوسکے۔اس کارروائی پربعض مقامی مسلم باشندوں نےاعتراض کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکام مسلمانوں اور اس کے مذہبی اداروں کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔محمد ارسلان، امرین خان اور محمد نوشاد سمیت مقامی باشندوںنے انتظامیہ کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے مدرسہ کو سیل کیے جانے پر تنقید کی۔ ان کا الزام ہے کہ یہ کارروائی ہندوؤں کو خوش کرنے اور مدارس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے کی گئی ہے۔ مقامی باشندوں نے انصاف کامطالبہ کرتے ہوئےحکام کی اس کارروائی کی مخالفت بھی کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK