Updated: January 08, 2026, 2:06 PM IST
| Patna
بہار میں زیورات کی دکانوں کی تنظیم کے اس فیصلے پر سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے جس کے تحت حجاب، نقاب، اسکارف یا ہیلمٹ سے ڈھکے چہروں کے ساتھ خریداری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ جہاں اپوزیشن نے اسے غیر آئینی قرار دیا، وہیں فیڈریشن نے اسے خالصتاً سیکوریٹی اقدام بتایا ہے۔
بہار میں زیورات کی دکانوں کے مالکان کی تنظیم کی جانب سے چہرہ ڈھانک کر آنے والے صارفین کے داخلے پر پابندی کے فیصلے نے ریاستی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت حجاب، نقاب، اسکارف یا ہیلمٹ سے چہرہ ڈھانپنے والے صارفین کو زیورات کے شو روم میں داخل ہونے سے قبل اپنا چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ مناسب شناخت کی جا سکے۔ اس فیصلے پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے سخت اعتراض کیا ہے۔ پارٹی کے ریاستی ترجمان اعجاز احمد نے اسے غیر آئینی اور ہندوستان کی آئینی روایات کے منافی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکوریٹی کے نام پر حجاب اور نقاب کو نشانہ بنانا مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتا ہے اور آئین کے تحت دی گئی مذہبی آزادی کے بنیادی حق کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔ اعجاز احمد نے الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے عناصر اس طرح کے ایجنڈے کے پیچھے ہیں، اور زیورات کی دکانوں کے مالکان پر اس سوچ کو فروغ دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دکانداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لیں، ورنہ اس سے ملک کے سیکولر اور آئینی تانے بانے کو نقصان پہنچے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اُترپردیش کے ایس آئی آر میں ہر پانچ میں سے ایک ووٹر خارج
دوسری جانب آل انڈیا جیولرز اینڈ گولڈ فیڈریشن (اے آئی جی جے ایف) نے منگل کو وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ کسی خاص برادری کے خلاف نہیں بلکہ خالصتاً سیکوریٹی خدشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ فیڈریشن کے مطابق، جن صارفین کے چہرے حجاب، برقع، اسکارف، ہیلمٹ یا اسی نوعیت کی اشیا سے ڈھکے ہوں گے، انہیں زیورات کی خریداری سے قبل چہرہ دکھانا ہوگا۔ فیڈریشن کے ریاستی صدر اشوک کمار ورما نے بتایا کہ بہار ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں اس نوعیت کا اصول ریاست بھر میں باضابطہ طور پر نافذ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سونے اور چاندی کی بلند قیمتوں کے باعث زیورات کی دکانیں مجرمانہ وارداتوں کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق دس گرام سونے کی قیمت تقریباً ایک لاکھ ۴۰؍ ہزار روپے اور ایک کلو چاندی کی قیمت تقریباً ۵ء۲؍ لاکھ روپے ہے جبکہ ماضی میں کئی ڈکیتیاں ایسے افراد نے کیں جو منہ ڈھانپ کر گروہوں کی شکل میں دکانوں میں داخل ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ عمر ،شرجیل ضمانت کے فیصلے میں کئی تضاد ہیں ‘‘
ورما نے واضح کیا کہ فیڈریشن برقع یا حجاب پر پابندی عائد نہیں کر رہی بلکہ صرف خریداری کے وقت مختصر طور پر چہرہ دکھانے کی درخواست کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی اصول ان مردوں پر بھی لاگو ہوگا جو اسکارف یا ہیلمٹ کے ذریعے چہرہ ڈھانپتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر پٹنہ سٹی کے سینٹرل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے بات کی گئی ہے، جنہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ورما کے مطابق دیگر ریاستوں کے بعض اضلاع میں بھی اسی نوعیت کے احتیاطی اقدامات پہلے سے رائج ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دھولیہ : گرودوارہ میں سکھوں کے۲؍گروہوں میں تصادم ،۱۰؍ افراد زخمی، ۱۲؍ افرادگرفتار
ممکنہ احتجاج کے حوالے سے اشوک کمار ورما نے کہا کہ تصادم کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کے بقول، دکانوں کا عملہ کسی سے زبردستی حجاب یا نقاب نہیں اتروائے گا بلکہ شائستہ انداز میں درخواست کی جائے گی۔ خیال رہے کہ یہ معاملہ بہار میں سیکوریٹی اقدامات اور مذہبی آزادی کے درمیان توازن پر ایک وسیع تر بحث کو جنم دے چکا ہے، جس پر سیاسی ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔