بالی ووڈ کے سینئر اور نامور اداکار بھرت کپور کے بارے میں افسوسناک خبر سامنے آئی ہے کہ ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ انہوں نے۸۰؍ سال کی عمر میں آخری سانس لی۔ اداکار اوتار گل نے ان کی موت کی تصدیق کی ہے۔
EPAPER
Updated: April 28, 2026, 3:08 PM IST | Mumbai
بالی ووڈ کے سینئر اور نامور اداکار بھرت کپور کے بارے میں افسوسناک خبر سامنے آئی ہے کہ ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ انہوں نے۸۰؍ سال کی عمر میں آخری سانس لی۔ اداکار اوتار گل نے ان کی موت کی تصدیق کی ہے۔
بالی ووڈ میں ایک بار پھر سوگ کی فضا چھا گئی ہے۔ ابھی مداح اور انڈسٹری آشا بھوسلے کی وفات کے صدمے سے سنبھل بھی نہ پائے تھے کہ ایک اور افسوسناک خبر سامنے آ گئی ہے۔ فلم انڈسٹری سے اطلاع ملی ہے کہ اداکار بھرت کپور کا انتقال ہو گیا ہے۔ انہوں نے ۸۰؍ برس کی عمر میں دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ انہوں نے ممبئی کے سائن اسپتال میں آخری سانس لی۔ ان کی موت کی تصدیق اداکار اوتار گل نے کی ہے۔
اداکار اوتار گل نے انڈیا ٹوڈے سے بات چیت کرتے ہوئے بھرت کپور کی وفات کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں ابھی آخری رسومات سے واپس آیا ہوں جو شام ساڑھے ۶؍بجے مکمل ہوئیں۔ ان کا انتقال آج دوپہر ۳؍ بجے ممبئی کے سائن اسپتال میں ہوا تھا۔‘‘ اوتار گل نے ان کی موت کی وجہ بتاتے ہوئے کہاکہ ’’گزشتہ تین دنوں سے ان کی طبیعت خراب تھی اور ان کے کئی اعضا نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔‘‘
قریبی افراد کی موجودگی میں آخری رسومات
اوتار گل کے مطابق اداکار بھرت کپور کی آخری رسومات انتہائی خفیہ طریقے سے ادا کی گئیں، جس کی کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔ ان کی آخری رسومات میں صرف خاندان اور قریبی افراد کو شامل کیا گیا۔ آشا بھوسلے کے بعد بھرت کپور کی وفات انڈسٹری کے لیے ۱۵؍ دن میں دوسرا بڑا صدمہ ہے۔ واضح رہے کہ شا بھوسلے کا انتقال ۱۲؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو ہوا تھا۔ وہ ۹۲؍ سال کی تھیں اور ملٹی آرگن فیلئر کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہوئیں۔
اشوک پنڈت کا اظہارِ افسوس
اداکار بھرت کپور کی وفات کی خبر ملتے ہی سوشل میڈیا پر لوگ ردعمل دینے لگے۔ فلم ساز اشوک پنڈت نے بھی ان کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور ان کی تصویر شیئر کی۔
یہ بھی پڑھئے:بینک عملے کے اصرار پر بھائی نے بہن کی لاش بینک لے جا کر سب کو حیران کر دیا
بھرت کپور کا کیریئر
بھرت کپور انڈسٹری کا ایک جانا پہچانا نام تھے۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں متعدد شاندار فلموں میں کام کیا۔ ان کا فلم انڈسٹری میں ۳۰؍ سال سے زائد عرصے پر محیط کیریئر رہا۔ وہ ۱۹۷۰ء،۸۰ء اور ۹۰ء کی دہائیوں میں اسکرین پر کافی متحرک رہے۔ انہوں نے معاون کرداروں، منفی کرداروں اور وکیل کے رول سے ناظرین کے دل جیتے اور اپنی ایک مضبوط پہچان بنائی۔
یہ بھی پڑھئے:نمرت کور اہلووالیہ کا نیا فرنچ لُک موضوع بحث
بھرت کپور کی مشہور فلمیں
ان کی بہترین فلموں میں ’نوری‘ (۱۹۷۹ء)، رام بلرام (۱۹۸۰ء)، لو اسٹوری (۱۹۸۱ء)، بازار (۱۹۸۲ء)، غلامی (۱۹۸۵ء)، آخری راستہ (۱۹۸۶ء)، ستیہ میو جیتے (۱۹۸۷ء)، سورگ (۱۹۹۰ء)، خدا گواہ (۱۹۹۲ء)، اور رنگ (۱۹۹۳ء) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے برسات (۱۹۹۵ء)، ساجن چلے سسرال (۱۹۹۶ء) اور بعد میں ’’مینا کشی: اے ٹیل آف تھری سٹیز‘‘ ( ۲۰۰۴ء) میں بھی کام کیا، جو ہندوستانی سنیما میں ان کے طویل اور اہم کردار کو ظاہر کرتا ہے۔