شاہ رخ خان کی فلم ’’کنگ‘‘ کی ریلیز دسمبر میں Avengers: Doomsday اور Dune: Part Three کے قریب ہونے کے باعث بڑا باکس آفس تصادم متوقع ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کے مطابق شاہ رخ خان کی مضبوط مقامی فین فالوونگ اسے اس مقابلے میں نقصان سے بچا سکتی ہے۔
EPAPER
Updated: April 22, 2026, 10:18 PM IST | Mumbai
شاہ رخ خان کی فلم ’’کنگ‘‘ کی ریلیز دسمبر میں Avengers: Doomsday اور Dune: Part Three کے قریب ہونے کے باعث بڑا باکس آفس تصادم متوقع ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کے مطابق شاہ رخ خان کی مضبوط مقامی فین فالوونگ اسے اس مقابلے میں نقصان سے بچا سکتی ہے۔
بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان ایک بار پھر باکس آفس کی سب سے بڑی جنگ کے بیچ کھڑے ہیں۔ ان کی آنے والی فلم ’’کنگ‘‘ کی ریلیز دسمبر ۲۰۲۶ء کے وسط میں طے کی گئی ہے، ایسے وقت میں جب ہالی ووڈ کی دو بڑی فلمیں، Avengers: Doomsday اور Dune: Part Three، بھی سنیما گھروں میں آنے والی ہیں۔ یہ تصادم محض تاریخوں کا نہیں بلکہ مارکیٹ، اسکرینز اور ناظرین کی توجہ کا بھی ہے۔ خاص طور پر آئی میکس اور پریمیم اسکرینز کے لیے مقابلہ شدید ہونے کا امکان ہے، جہاں عام طور پر ہالی ووڈ فلمیں برتری حاصل کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ڈان ۳‘‘ تنازع: رنویر سنگھ ۱۰؍ کروڑ واپس کریں گے
تاہم، تجارتی تجزیہ کار ترن آدرش کا ماننا ہے کہ یہ مقابلہ اتنا خطرناک نہیں جتنا بظاہر لگتا ہے۔ ان کے مطابق، ہندوستان میں شاہ رخ خان کی مقبولیت ایک الگ ہی سطح پر ہے، جو ہالی ووڈ فلموں کے اثر کو محدود کر سکتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ شاہ رخ خان کی فلمیں تہواروں یا بڑے تصادم کے باوجود مضبوط بزنس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسی طرح، ٹریڈ ایکسپرٹ وشیک چوہان نے بھی اس خیال کی تائید کی کہ اگرچہ Avengers: Doomsday ابتدائی دنوں میں بڑی اسکرینز پر حاوی ہو سکتی ہے، لیکن ایسی فلمیں اکثر ’’فرنٹ لوڈڈ‘‘ ہوتی ہیں، یعنی ان کی کمائی ابتدائی دنوں میں زیادہ اور بعد میں کم ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، بالی ووڈ فلمیں، خاص طور پر شاہ رخ خان کی، طویل مدت تک چلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: شاہ رخ خان کی ’’جوان ۲‘‘ ترقی کے مرحلے میں، اسکرپٹ فائنل، ویلن کی تلاش جاری
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار ’’کنگ‘‘ صرف ایک فلم نہیں بلکہ ایک ’’ایونٹ‘‘ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ فلم میں دپیکا پڈوکون اور ہدایتکار سدھارتھ آنند کی شمولیت کے ساتھ ساتھ شاہ رخ کی بیٹی سہانا خان کی موجودگی نے بھی اس میں خاصی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ اگرچہ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ بڑے شہروں جیسے ممبئی، دہلی اور بنگلور میں آئی میکس اسکرینز کی محدود دستیابی ’’کنگ‘‘ کے لیے چیلنج بن سکتی ہے، لیکن ملک بھر میں اس کی رسائی اور شاہ رخ خان کی ’’ماس اپیل‘‘ اس کمی کو پورا کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مائیکل جیکسن کی بایوپک ’’مائیکل‘‘ کو منفی ریویوز، شاندار اوپننگ متوقع
حقیقت یہ ہے کہ تینوں فلمیں، کنگ، Avengers: Doomsday اور Dune: Part Three، اپنے اپنے ناظرین رکھتی ہیں۔ جہاں ہالی ووڈ فلمیں وی ایف ایکس اور فرنچائز فین بیس پر انحصار کرتی ہیں، وہیں کنگ جیسے پروجیکٹس ہندوستان میں جذباتی اور اسٹار پاور پر چلتے ہیں۔ اب نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا یہ ’’تین طرفہ تصادم‘‘ واقعی مقابلہ بنے گا یا ہر فلم اپنی الگ راہ اختیار کرے گی۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ شاہ رخ خان اس مقابلے سے گھبراہٹ میں مبتلا نظر نہیں آتے، اور یہی اعتماد اس فلم کی سب سے بڑی طاقت بن سکتا ہے۔