Updated: April 22, 2026, 10:17 PM IST
| Tehran
ایران نے کہا ہے کہ حالیہ امریکی اسرائیلی حملوں میں اس کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے ۲؍ ہزار سے زائد پوائنٹس کو نشانہ بنایا گیا۔ مصطفیٰ رجبی مشہدی کے مطابق ۱۲؍ پاور سیکٹر ملازمین ہلاک ہوئے جبکہ مجموعی طور پر درجنوں سرکاری اہلکار بھی مارے گئے۔ کشیدگی کے باوجود ایران کا کہنا ہے کہ زیادہ تر علاقوں میں بجلی جلد بحال کر دی گئی۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای۔ تصویر: ایکس
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے بیچ ایران نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ امریکی اسرائیلی مشترکہ حملوں میں اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی وزارتِ توانائی کے نائب وزیر مصطفیٰ رجبی مشہدی نے نیم سرکاری ایجنسی تسنیم کو بتایا کہ ۲؍ ہزار سے زائد مقامات پر حملے کیے گئے، جن کا مقصد ملک کے پاور نیٹ ورک کو مفلوج کرنا تھا۔ انہوں نے اس کارروائی کو براہ راست شہریوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’بجلی کے نظام کو نشانہ بنانا دراصل عوام کو نشانہ بنانا ہے۔‘‘ ان کے مطابق، ان حملوں میں پاور سیکٹر کے کم از کم ۱۲؍ ملازمین ہلاک ہوئے، جو نظام کو چلانے میں مصروف تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ہند، نیوزی لینڈ معاہدہ کو نیوزی لینڈ کے وزیر نے ’بٹر چکن سونامی‘ قرار دیا، تنازع
ایران نے کہا ہےکہ اس شدید نقصان کے باوجود اس کا پاور سسٹم مکمل طور پر نہیں بیٹھا۔ حکام کے مطابق، زیادہ تر علاقوں میں بجلی کی فراہمی ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں بحال کر دی گئی، جسے وہ اپنے انفراسٹرکچر کی ’’مزاحمت‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ مزید برآں، الہ دین رفیع زادہ جو انتظامی امور کے سربراہ ہیں، نے آئی آر این اے کے حوالے سے بتایا کہ جنگ کے دوران ڈیوٹی پر موجود ۶۸؍ سرکاری اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پہلے ہی ایران کو خبردار کر چکے تھے کہ کسی معاہدے کی ناکامی کی صورت میں اس کے اہم انفراسٹرکچر، بجلی گھروں اور پلوں سمیت، کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ حملوں کے آغاز کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی، جس کے جواب میں ایران نے بھی مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات پر حملے کیے۔ بعد ازاں ۸؍ اپریل کو ایک عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، اور اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان غیر معمولی مذاکرات بھی ہوئے، تاہم وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
یہ بھی پڑھئے: جنوبی لبنان کے ایک گاؤں میں مجسمۂ مسیح کی بے حرمتی، دو اسرائیلی فوجیوں کو جیل
اگرچہ جنگ بندی کو عارضی طور پر بڑھا دیا گیا ہے، لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تنازع اب صرف فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہا بلکہ شہری نظام بھی اس کی زد میں آ چکے ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں توانائی کی فراہمی اور معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔