ایران جنگ اور حوثیوں کےبڑھتے ہوئے خطرات ممکنہ اسباب لیکن اسرائیلی ذرائع اسے معمول کا اقدام بتا رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 1:39 PM IST | Agency | Washington/Tel Aviv
ایران جنگ اور حوثیوں کےبڑھتے ہوئے خطرات ممکنہ اسباب لیکن اسرائیلی ذرائع اسے معمول کا اقدام بتا رہے ہیں۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں نئے تنازع کے احتمال کے پیش نظر اگلے چند ہفتوں کے دوران مزید امریکی افواج اور طیارے بھیجنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ ان تیاریوں کے درمیان اس وقت تقریباً ۳؍ ہزار امریکی فوجی اسرائیل میں تعینات ہیں۔ اسرائیلی ویب سائٹ ’والا‘ کی سیکوریٹی ذرائع کے حوالے سے شائع رپورٹ کے مطابق یہ امریکی فوجی ایئر ڈیفنس سسٹمز چلانے سمیت مختلف خدمات انجام دے رہے ہیں جن میں پائلٹ، سپورٹ عملہ، لاجسٹک یونٹس اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کے اہلکار شامل ہیں ۔ رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہےکہ امریکی فوج حالیہ ہفتوں کے دوران اسرائیل میں موجود اپنی فورسیز کی تبدیلی کا عمل انجام دے رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نقل و حرکت کا ایک حصہ موجودہ یونٹوں کی تعیناتی کی مدت ختم ہونے پر روٹین کی تبدیلیوں کے زمرے میں آتا ہے۔ تاہم ویب سائٹ سے گفتگو کرنے والے ذرائع نے بتایا کہ علاقائی تنازع بڑھنے سے نپٹنےکی تیاری کے تحت آنے والے ہفتوں میں مزید امریکی فوجی اور ملٹری طیاروں کا اضافہ دیکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ایک بچی سمیت۴؍ فلسطینی شہید، متعدد زخمی
ایران کے ساتھ تنازع کا خوف
فوجی کمک میں اضافے کے اسباب کے طورپر رپورٹ میں امریکہ واسرائیل کے ایران کے ساتھ کسی نئے تصادم کا اندیشہ بیان کیاگیا ہے۔ اسرائیلی رپورٹس کے مطابق امریکی معاشی پابندیاں تہران پر دباؤ بڑھا رہی ہیں۔ ’والا ‘نے ایک سینئر اسرائیلی سیکوریٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل کے حریف اسرائیل اور امریکہ میں ہونے والے انتخابات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ حریف وسیع تصادم کی صورتحال پیدا کئے بغیرا ن امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں جن کے ذریعے اسرائیل کے داخلی منظر نامے پر اثر انداز ہوا جا سکے ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی فوج ایران کے ساتھ تصادم کو شدید کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ بتایا جارہا ہےکہ ایرانی تنصیبات پر اسرائیل کئی حملے کرسکتا ہے ۔ اس تناظر میں ویب سائٹ نے کہا کہ ایران کی جانب سے اسرائیل یا اردن کی طرف میزائل داغے جانے کے احتمال کے پیش نظر اسرائیلی فوج اور امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹ کام ‘ ہم آہنگیسے کام کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:فوربس نے رواں سال کے ۳۴؍نئے ارب پتیوں کی لسٹ جاری کی
سینٹ کام کے ساتھ ہم آہنگی کیسی ہے؟
اسرائیلی دفاعی افواج اور امریکی سینٹرل کمانڈ’ سینٹ کام‘ کے درمیان آپریشنل منصوبہ بندی اس بات پر مرکوز ہے کہ اگر تہران سےبیلسٹک میزائل دوبارہ داغے گئے تو ایران کے اندر ممکنہ جوابی حملے اور اہداف پر کارروائی کی جائے۔یہ فوجی توسیع ایرانی وزیر ِ خارجہ عباس عراقچی کے سفارتی اشاروں کے بعد ہوئی ہے جنہوں نے تہران میں اعادہ کیا تھا کہ ایران سفارتی سمجھوتوں کیلئے کھلا ہے۔
حوثیوں کے حملوں کا بھی اندیشہ
ستمبر کے آخر میں تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے ۷؍شرائط امریکہ کو پہنچائی تھیں جنہیں ٹرمپ نے مسترد کر دیا تھا۔اب اسرائیلی سیکوریٹی حکام کا اندازہ ہے کہ یمن میں حوثی تحریک کے خلاف جاری لڑائی خلیجی سیکوریٹی شراکت داری کی مساوات کو بدل سکتی ہے ۔ حکام نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعاون میں اضافہ کا حوالہ دیا۔ایک سینئر اہلکار نے خبردار کیا کہ فوری طور پر حوثی فورسیز کا مقابلہ نہ کرنےوالے علاقائی ممالک ، بعد میں حملوںکی زدمیں آ سکتے ہیں۔