Updated: July 31, 2026, 1:00 PM IST
| Jeddah
سعودی عرب کا جدہ ٹاور (Jeddah Tower) ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے ۴۳۰؍ میٹر کی بلندی تک پہنچ گیا ہے۔ کئی برس تک تعطل کا شکار رہنے والا منصوبہ ۲۰۲۵ء میں دوبارہ شروع ہوا تھا اور اب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ تعمیر مکمل ہونے پر اس کی متوقع بلندی ۱۰۰۸؍ میٹر ہوگی، جس کے بعد یہ ۸۲۸؍ میٹر بلند برج خلیفہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی بلند ترین عمارت بن جائے گا۔
سعودی عرب کا جدہ ٹاور ، جو کبھی کنگڈم ٹاور کے نام سے جانا جاتا تھا، ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تقریباً سات برس تک تعطل کا شکار رہنے کے بعد اس منصوبے پر تعمیراتی کام دوبارہ تیزی سے جاری ہے اور حالیہ پیش رفت کے مطابق عمارت ۴۳۰؍ میٹر کی بلندی تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز دبئی کے برج خلیفہ سے سعودی عرب منتقل ہو سکتا ہے۔ جدہ اکنامک سٹی کا مرکزی حصہ بننے والا یہ منصوبہ مکمل ہونے پر ۱۰۰۸؍ میٹر بلند ہوگا، جو موجودہ عالمی ریکارڈ ہولڈر ۸۲۸؍ میٹر بلند برج خلیفہ سے تقریباً ۱۸۰؍ میٹر زیادہ ہے۔ یوں یہ دنیا کی پہلی ایسی عمارت ہوگی جس کی بلندی ایک کلومیٹر سے تجاوز کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ انتظامیہ: پناہ کے متلاشیوں کو براہ راست ڈیپورٹیشن کورٹ میں بھیجا جا سکتا ہے
جدہ ٹاور کا ڈیزائن معروف امریکی معمار ایڈرین اسمتھ اور ان کی فرم Adrian Smith + Gordon Gill Architecture نے تیار کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایڈرین اسمتھ ہی برج خلیفہ کے بھی چیف ڈیزائنر تھے، اس طرح وہ اپنی ہی تخلیق کا عالمی ریکارڈ توڑنے والی عمارت کے معمار بھی ہیں۔ اس منصوبے کی تعمیر ۲۰۱۳ء میں شروع ہوئی تھی، لیکن ۲۰۱۸ء میں مالی، انتظامی اور ٹھیکیداری مسائل کے باعث کام روک دیا گیا۔ بعد ازاں نئے انتظامات کے تحت جنوری ۲۰۲۵ء میں تعمیر دوبارہ شروع ہوئی، جس کے بعد تعمیراتی رفتار میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ گلف نیوز کے مطابق، حالیہ مہینوں میں منصوبے نے کئی اہم سنگِ میل عبور کیے ہیں اور اب اس کا ڈھانچہ ۴۳۰؍ میٹر تک پہنچ چکا ہے۔ تعمیراتی ٹیم جدید کرینوں، ہائی پریشر کنکریٹ پمپنگ اور جدید انجینئرنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے کام کی رفتار برقرار رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہماری آواز دنیا تک پہنچ سکتی ہے: پیڈرو کے پیغام کے بعد ۱۱؍ سالہ لیان کو نئی امید
منصوبے کے مطابق عمارت میں ۱۶۷؍ منزلیں ہوں گی، جن میں لگژری ہوٹل، اعلیٰ معیار کے رہائشی اپارٹمنٹس، جدید دفاتر، تجارتی مراکز اور دنیا کا بلند ترین آبزرویشن ڈیک (Sky Terrace) شامل ہوگا، جہاں سے بحیرۂ احمر اور جدہ شہر کا وسیع منظر دیکھا جا سکے گا۔ جدہ ٹاور کو صرف ایک فلک بوس عمارت نہیں بلکہ سعودی عرب کے ویژن ۲۰۳۰ء کا اہم علامتی منصوبہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔ حکومت کا مقصد اس منصوبے کے ذریعے عالمی سرمایہ کاری کو فروغ دینا، سیاحت میں اضافہ کرنا اور مملکت کو جدید شہری ترقی کے عالمی مراکز میں شامل کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا سے اٹلی:۵۰؍ سال پرانی ویسپا پر باپ بیٹا کا سفر جاری، فی الحال ترکی میں
تعمیراتی ماہرین کے مطابق ایک کلومیٹر بلند عمارت کی تعمیر انجینئرنگ کے لحاظ سے غیر معمولی چیلنج ہے۔ اس کے لیے تقریباً ۱۱۰؍ میٹر گہری بنیادیں، ہزاروں مربع میٹر پر مشتمل مضبوط کنکریٹ پلیٹ فارم، انتہائی طاقتور ڈھانچہ اور تیز ہواؤں کا مقابلہ کرنے کے لیے خصوصی ڈیزائن استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ عمارت طویل مدت تک محفوظ اور مستحکم رہے۔ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو ۲۰۲۸ء میں جدہ ٹاور کی تکمیل کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ دہائی سے دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز رکھنے والا برج خلیفہ اپنی پوزیشن کھو دے گا، جبکہ سعودی عرب ایک کلومیٹر بلند عمارت تعمیر کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا۔