Updated: September 19, 2026, 4:05 PM IST
| Mumbai
ممبئی میں فلسطینی بچوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پتنگ اڑانے کی مہم میں شریک ایک کارکن کے گھر کی مبینہ تلاشی پر تنازع پیدا ہوگیا۔ کارکنوں کا الزام ہے کہ پولیس نے بغیر وارنٹ کئی گھنٹوں تک گھر کی تلاشی لی، جبکہ پولیس کی جانب سے کارروائی کی وجہ واضح نہیں کی گئی۔
ممبئی پولیس نے جمعہ کو مبینہ طور پر ایک ایسے کارکن کے گھر کی تلاشی لی، جس نے فلسطینی بچوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے منعقدہ پتنگ اڑانے کی ایک تقریب میں شرکت کی تھی۔ صورتحال سے واقف افراد کے مطابق،’’انڈین پیپل اِن سولیڈیریٹی وِد فلسطین‘‘ نامی شہری تنظیم سے وابستہ پانچ کارکن، جو اس وقت گھر میں موجود تھے، تلاشی کی کارروائی کے دوران وہاں سے باہر نہیں جا سکے۔ ایک چھٹے کارکن سے جمعہ کو باندرہ پولیس اسٹیشن میں پوچھ تاچھ کی گئی اور شام کو اسے رہا کردیا گیا۔ یاد رہے کہ ۱۵؍ ستمبر کو دنیا بھر میں لوگوں نے غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے حوالے سے بیداری پیدا کرنے کے لیے پتنگیں اڑائی تھیں۔ تنظیم نے الزام لگایا کہ سادہ لباس میں موجود کچھ افراد، جنہوں نے خود کو پولیس اہلکار بتایا، رضاکار اور طالبہ ہرشدا کے گھر پہنچے۔ ہرشدا نے سنیچر کو ’اسکرول‘ بتایا کہ ایک موقع پر وہاں پولیس اہلکاروں کی تعداد ۱۵؍ تک پہنچ گئی تھی۔ تنظیم کے مطابق، شام ۵؍ بج کر ۳۰؍ منٹ پر وردی میں ملبوس پولیس اہلکاروں نے ’’بغیر کسی وارنٹ اور کوئی تحریری نوٹس یا دستاویز فراہم کیے بغیر‘‘ گھر کی تلاشی لی۔ ’انڈین پیپل اِن سولیڈیریٹی وِد فلسطین‘ کی رکن پوجا نے ’اسکرول‘ کو بتایا کہ پولیس اہلکار سنیچر کی صبح ۳؍ بج کر ۳۰؍ منٹ پر خاتون کی رہائش گاہ سے روانہ ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: مسلمانوں اور قرآن کریم کے خلاف نتیش رانے کی زہر افشانی پر پولیس میں تحریری شکایت
تنظیم نے سنیچر کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’فلسطینی بچوں سے اظہارِ یکجہتی میں محض پتنگیں اڑانے پر کسی شخص کی رہائش گاہ کی بغیر وارنٹ تلاشی کے لیے ۹؍ گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا ہے اور کارروائی جاری ہے!‘‘ ہرشدا نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے دیگر چیزوں کے علاوہ ان کی کچھ کتابوں کی فہرست بھی بنائی اور تلاشی کے دوران تصاویر اور ویڈیوز بنائیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس نے ان کے ساتھ موجود دو افراد کے موبائل فون ضبط کرلیے تھے، تاہم دو گھنٹے بعد انہیں واپس کردیا گیا۔ ہرشدا کے مطابق، پولیس نے بعد میں پنچ نامہ بھی تیار کیا۔ پوجا نے کہا کہ پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ وہ تلاشی کیوں لے رہی ہے۔
تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس کی کارروائی نہ صرف ’’جمہوری حقوق اور شہری آزادیوں پر کھلا حملہ‘‘ ہے بلکہ ’’فرد کے حقِ رازداری کی صریح خلاف ورزی‘‘ بھی ہے۔ تنظیم نے پولیس کی جانب سے کیے گئے ’’غیر قانونی اقدامات‘‘ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ دو ڈپٹی پولیس کمشنروں نے ’اسکرول‘ کی جانب سے تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ باندرہ کے سینئر پولیس انسپکٹر رویندر سالونکھے نے کہا کہ وہ واقعے کی تفصیلات سے واقف نہیں ہیں۔ پولیس کا موقف موصول ہونے پر اس رپورٹ کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: بھانڈوپ میں بھی ایس آئی آر ہیلپ ڈیسک کا قیام
پتنگ اڑانے کی یہ مہم فلسطینی بچوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے چلائی گئی تھی۔ اس سے قبل اسرائیل نے غزہ میں حملے مزید تیز کرنے کی دھمکی دی تھی، کیونکہ وہاں پتنگیں اور غبارے اڑائے جا رہے تھے۔ تل ابیب نے کہا تھا کہ وہ پتنگوں اور غباروں کو ڈرونز کے برابر سیکوریٹی خطرہ تصور کرے گا۔ ’الجزیرہ‘ کے مطابق، اس صورتحال کے بعد فلسطین میں والدین نے اپنے بچوں کو پتنگیں اڑانے سے روکنا شروع کردیا تھا۔