• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

میگھنا گلزار نے عرفان خان کو یاد کیا، ’تلوار‘ میں اداکار کی پرفارمنس کو سراہا

Updated: September 19, 2026, 4:04 PM IST | Mumbai

ہدایت کار میگھنا گلزار نے کہا کہ عرفان خان نے فلم میں پیش کیے گئے حقائق کے ذریعے ناظرین کو متاثر کیا؛ اشون کمار کے کردار نے آروشی تلوار کے والدین کے لئے ہمدردی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

Meghna Gulzar and Irrfan Khan. Picture: INN
میگھنا گلزار اور عرفان خان۔ تصویر: آئی این این

ہدایت کار میگھنا گلزار نے اپنی ۲۰۱۵ء کی فلم ’تلوار‘ میں آنجہانی اداکار عرفان خان کی اداکاری کو یاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پرفارمنس نے ناظرین کو آروشی تلوار کے والدین کے معاملے میں فلم کے پیش کردہ حقائق کو ایک خاص زاویے سے دیکھنے پر مجبور کیا۔ میگھنا نے یہ بات اپنی نئی فلم ’دائرہ‘ کی تشہیر کے دوران کہی، جو کل ۱۸؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو سنیما گھروں میں ریلیز ہوچکی ہے۔ ’تلوار‘ میں عرفان خان نے سی بی آئی کے جوائنٹ ڈائریکٹر اشون کمار کا کردار ادا کیا تھا۔ میگھنا کے مطابق عرفان کی اداکاری نے ناظرین کو اس تاثر کی طرف زیادہ مضبوطی سے مائل کیا کہ آروشی تلوار کے والدین راجیش تلوار اور نپور تلوار اس قتل کے ذمہ دار نہیں تھے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ فلم نے کسی ایک فریق کی حمایت کرنے کے بجائے دستیاب حقائق کو سامنے رکھنے کی کوشش کی تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے:وزیراعلیٰ وجے کی سلوراسٹون میں اداکار اورریسنگ ڈرائیور اجیت کمار سے ملاقات

میگھنا نے کہا، ’’عرفان صاحب کی اداکاری نے آپ کو قائل کیا، لیکن حقائق تو حقائق ہیں اور فلم میں وہی حقائق پیش کیے گئے تھے۔ ان حقائق کا رخ والدین کے حق میں زیادہ محسوس ہوتا تھا، کیونکہ حقیقت یہی تھی۔ بس عرفان صاحب بحیثیت اداکار آپ کو اس بات پر کچھ زیادہ یقین دلانے میں کامیاب ہوئے۔‘‘ انہوں نے فوراً اس بات کی وضاحت بھی کی کہ عرفان ناظرین کو کسی فرضی کہانی کے ذریعے قائل نہیں کررہے تھے۔ میگھنا کے مطابق، ’’لیکن انہوں نے آپ کو کس چیز سے قائل کیا؟ انہی حقائق سے جو ان کے کردار کے پاس تھے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ فلم میں پیش کیے گئے واقعات حقیقی مقدمے سے متعلق دستیاب معلومات پر مبنی تھے، اس لئے ’تلوار‘ نے کوئی فرضی نتیجہ تخلیق نہیں کیا۔ 
’تلوار‘ کی بنیاد ۲۰۰۸ء کے نوئیڈا ڈبل مرڈر کیس پر تھی، جس میں ۱۳؍ سالہ آروشی تلوار اور ان کے گھریلو ملازم ہیمراج کے قتل نے ملک بھر میں شدید توجہ حاصل کی تھی۔ آروشی کی لاش ۱۶؍ مئی ۲۰۰۸ء کو ان کے گھر میں ملی، جبکہ ہیمراج اس وقت لاپتہ تھے۔ اگلے روز ان کی لاش گھر کی چھت پر ملی۔ مقدمے کی تفتیش کے دوران آروشی کے والدین شک کے دائرے میں آئے اور بعد میں ان پر قتل کے الزامات عائد ہوئے۔ راجیش اور نپور تلوار کو ٹرائل کورٹ نے ۲۰۱۳ء میں مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی، تاہم الہ آباد ہائی کورٹ نے ۲۰۱۷ء میں انہیں تمام الزامات سے بری کردیا۔ عدالت نے کہا تھا کہ استغاثہ ان کے خلاف جرم کو شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ ۸؍ مارچ ۲۰۱۸ء کو سی بی آئی نے اس بریت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ 

یہ بھی پڑھئے:مراٹھی فلم ’گوندھل‘ آسکر ۲۰۲۷ء میں ہندوستان کی باضابطہ انٹری

میگھنا نے ماضی میں بھی بتایا تھا کہ عرفان خان ’تلوار‘ کے لئے ان کی پہلی پسند تھے۔ فلم کی اسکرپٹ مکمل ہونے سے پہلے ہی تحقیق اور تحریر کے مرحلے میں میگھنا اور مصنف وشال بھردواج کے درمیان عرفان کا نام متفقہ طور پر سامنے آتا رہا تھا۔ میگھنا نے ۲۰۱۵ء میں کہا تھا کہ عرفان کے ہاں کہنے کے بعد فلم کو فرش تک پہنچنے میں تقریباً ایک سال لگا، لیکن اداکار نے اس دوران منصوبے سے اپنا تعلق برقرار رکھا۔ حالیہ گفتگو میں میگھنا نے عرفان کے ساتھ کام کرنے کے اپنے تجربے پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بطور ہدایت کار انہیں اداکار کی پرفارمنس کو زیادہ قابو کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق، ’’مجھے واقعی کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ انہوں نے جو کچھ بھی کیا، اس سے میں بطور ہدایت کار بہتر نظر آئی۔‘‘ تاہم میگھنا نے یہ بھی کہا کہ آج تک انہیں معلوم نہیں کہ عرفان خود ’تلوار‘ میں پیش کیے گئے معاملے کے کس نقطۂ نظر سے زیادہ اتفاق کرتے تھے۔ 
میگھنا کی موجودہ فلم ’دائرہ‘ بھی جرم، تفتیش، قانون اور انصاف کے پیچیدہ سوالات کے گرد گھومتی ہے۔ فلم میں کرینہ کپور خان اور پرتھوی راج سکومارن پولیس افسران کے کردار میں ہیں اور ایک ہی معاملے کو مختلف قانونی و اخلاقی زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ میگھنا نے اس فلم کے بارے میں واضح کیا ہے کہ یہ کسی ایک حقیقی واقعے کی نقل نہیں بلکہ ملک میں پیش آنے والے متعدد حقیقی واقعات سے مواد لے کر تیار کی گئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK