Updated: July 21, 2026, 10:07 PM IST
| London
ہالی ووڈ کے معروف ہدایت کار کرسٹوفر نولن نے اپنی تازہ ترین فلم ’’دی اوڈیسی‘‘کی کامیابی کے بعد پہلی بار ہارر فلم بنانے کے امکان کا عندیہ دیا ہے۔ نولن کا کہنا ہے کہ اگر انہیں کوئی ایسی کہانی ملی جو واقعی منفرد اور خوفناک ہو تو وہ اس صنف میں ضرور کام کرنا چاہیں گے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’’دی اوڈیسی‘‘جیسے انتہائی مشکل منصوبے کے بعد وہ کچھ عرصہ آرام کریں گے اور ان کی اگلی فلم آنے میں کم از کم تین سال لگ سکتے ہیں۔
کرسٹوفرنولن۔ تصویر: آئی این این
فلم ’’اوپن ہائیمر‘‘ اور حال ہی میں ریلیز ہونے والی ’’دی اوڈیسی‘‘کے ذریعے ایک بار پھر دنیا بھر میں دھوم مچانے والے آسکر یافتہ ہدایت کار کرسٹوفر نولن نے عندیہ دیا ہے کہ ان کا اگلا بڑا منصوبہ ہارر (خوفناک) فلم بھی ہو سکتا ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کبھی ہارر فلم بنائیں گے تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ اس کے لیے انہیں منانے کی ضرورت نہیں، صرف ایک ایسی کہانی درکار ہے جو انہیں واقعی متاثر کرے۔ نولن نے کہا کہ اچھی ہارر فلم بنانا آسان کام نہیں۔ ان کے مطابق حقیقی خوف صرف اچانک چونکا دینے سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مضبوط جذبات، نفسیاتی کشمکش اور گہرا ڈراما ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اگر کوئی منفرد اور طاقتور خیال سامنے آیا تو وہ اس صنف میں ضرور قسمت آزمائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: سلمان خان کی ’’ماتر بھومی‘‘ کا نام پھر تبدیل، نئے پوسٹر سے ہدایتکار کا نام غائب
ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ’’دی اوڈیسی‘‘دنیا بھر کے سنیما گھروں میں کامیابی سے چل رہی ہے۔ ہومر کی شہرۂ آفاق رزمیہ داستان پر مبنی اس فلم کو ناقدین نے نولن کے کریئر کی بہترین فلموں میں شمار کیا ہے، جبکہ باکس آفس پر بھی اسے زبردست کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔ ابتدائی جائزوں میں فلم کو ’’شاندار‘‘، ’’تاریخی‘‘ اور ’’کریئر کی بہترین تخلیق‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم نولن کے مداحوں کو ان کی اگلی فلم کے لیے طویل انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ خود ہدایت کار نے انکشاف کیا ہے کہ ’’دی اوڈیسی‘‘کی تیاری جسمانی اور ذہنی طور پر ان کے لیے بے حد تھکا دینے والی رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے پیمانے پر فلم بناتے ہوئے وہ اپنی برداشت کی آخری حد تک پہنچ گئے، اس لیے وہ اب کم از کم تین سال کا وقفہ لینا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: موت کو شکست دینے کی کوشش مہنگی؛ برائن جانسن کو ہارمون تھیراپی پر پچھتاوا
اگرچہ نولن نے اپنی ممکنہ ہارر فلم کے بارے میں کوئی تفصیلات یا کہانی ظاہر نہیں کی، لیکن ان کے اس ایک بیان نے ہی دنیا بھر کے فلمی شائقین میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوشل میڈیا پر مداحوں کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ اگر ’’میمنٹو‘‘، ’’انسپشن‘‘، ’’انٹرسٹیلر‘‘، ’’اوپن ہائیمر‘‘ اور اب ’’دی اوڈیسی‘‘جیسے شاہکار بنانے والا ہدایت کار ہارر صنف میں قدم رکھتا ہے تو یہ جدید سنیما کی سب سے منفرد خوفناک فلم ثابت ہو سکتی ہے۔