Inquilab Logo Happiest Places to Work

موت کو شکست دینے کی کوشش مہنگی؛ برائن جانسن کو ہارمون تھیراپی پر پچھتاوا

Updated: July 20, 2026, 9:03 PM IST | New York

امریکی ٹیک سرمایہ کار اور طویل عمر سے متعلق تجربات کے لیے معروف برائن جانسن نے اعتراف کیا ہے کہ جوانی برقرار رکھنے کی کوشش میں استعمال کی گئی ہیومن گروتھ ہارمون (HGH) تھیراپی ان کی زندگی کی بدترین طبی غلطیوں میں سے ایک ثابت ہوئی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس علاج کے نتیجے میں انہیں دماغی دباؤ، خون میں شوگر کے مسائل اور بعد ازاں ایک لاعلاج خودکار مدافعتی بیماری کا سامنا کرنا پڑا۔ جانسن نے یہ بھی کہا کہ اپنی بیماری کی خبر کے بعد انہیں ہمدردی سے زیادہ سوشل میڈیا پر تنقید اور تمسخر کا سامنا کرنا پڑا۔

Bryan Johnson. Photo: INN
برائن جانسن۔تصویر: آئی این این

اپنی عمر کو سائنسی طریقوں سے کم کرنے اور ’’موت کو شکست دینے‘‘ کے دعووں کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت حاصل کرنے والے امریکی ٹیک سرمایہ کار برائن جانسن نے اعتراف کیا ہے کہ جوانی برقرار رکھنے کی ایک متنازع تھیراپی نے ان کی صحت پر شدید منفی اثرات مرتب کیے، جس پر انہیں آج گہرا افسوس ہے۔ یوٹیوب پر ڈاکٹر مائیک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں برائن جانسن نے بتایا کہ انہوں نے ہیومن گروتھ ہارمون (HGH) کے استعمال سے اپنی زندگی کے بدترین طبی نتائج کا سامنا کیا۔ ان کے مطابق یہ تجربہ ایک ایسے سائنسی مطالعے کو دہرانے کی کوشش تھا، جس میں جسم کے تھائمس (Thymus) غدود کو دوبارہ جوان بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ یہ غدود انسانی مدافعتی نظام کی کارکردگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہنگری کے وزیر اعظم کی ووٹنگ کی عمر۱۶؍ سال کرنے کی حمایت

برائن جانسن نے بتایا کہ انہوں نے تقریباً ۱۰۰؍ دن تک مخصوص مقدار میں ہیومن گروتھ ہارمون استعمال کیا۔ بعد میں کیے گئے ایم آر آئی معائنے سے معلوم ہوا کہ ان کا تھائمس غدود تقریباً سات سال کم عمر دکھائی دینے لگا، لیکن اس کامیابی کی قیمت ان کی مجموعی صحت کو چکانی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ اس تھیراپی کے دوران ان کے دماغ کے اندر دباؤ میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جبکہ خون میں گلوکوز کی مقدار بھی شدید متاثر ہوئی، جس کے باعث انہیں متعدد طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ برائن جانسن نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہیں بعد ازاں آٹو امیون گیسٹرائٹس (Autoimmune Gastritis - AIG) نامی بیماری تشخیص ہوئی، جس میں جسم کا مدافعتی نظام خود معدے کے خلیات پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک میئر ظہران ممدانی، جنگی مجرم نیتن یاہو کو یو این دورے کے دوران گرفتار کرنے پر غور کر رہے ہیں

چند روز قبل سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ اس بیماری کے باعث ’’میرا معدہ خود کو کھا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ اے آئی جی کے نتیجے میں غذائی اجزا کی شدید کمی، خون کی کمی اور طویل مدت میں معدے کے سرطان کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ موجودہ طبی معلومات کے مطابق اس بیماری کا مکمل علاج موجود نہیں اور اسے صرف ادویات اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ ۴۸؍ سالہ برائن جانسن نے اپنی بیماری کی خبر پر عوامی ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں محسوس ہوا جیسے بہت سے لوگ ان کی تکلیف میں خوشی محسوس کر رہے ہوں۔ انہوں نے ایک طویل سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ’’دنیا چاہتی ہے کہ میں مر جاؤں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: سوشل میڈیا انفلوئنسر اینڈر یوٹیٹ اپنے بھائی کے ہمراہ میامی میں گرفتار

ان کے مطابق ان کی بیماری کی تشخیص چند ہی دنوں میں عالمی خبر بن گئی اور اس پر تقریباً ۱۹۰۰؍ مضامین شائع ہوئے، لیکن سوشل میڈیا پر ہمدردی کے بجائے بڑی تعداد میں ایسے تبصرے سامنے آئے جن میں ان کی ناکامی پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے اس رویے کو جرمن اصطلاح ’’Schadenfreude‘‘ سے تعبیر کیا، جس سے مراد کسی دوسرے شخص کی ناکامی یا مصیبت میں خوشی محسوس کرنا ہے۔ برائن جانسن کے مطابق بعض لوگ خاص طور پر ایسے افراد کو ناکام دیکھنا چاہتے ہیں جن کی کامیابی یا غیر معمولی کوششیں ان کے اپنے ذہنی یا نفسیاتی اطمینان کو چیلنج کرتی ہوں۔ انہوں نے اپنی موجودہ صورتحال کا موازنہ تقریباً چار ہزار سال قدیم رزمیہ داستان گلگامیش سے بھی کیا، جس میں مرکزی کردار ابدی زندگی کی تلاش میں نکلتا ہے لیکن آخرکار اسے اپنی فانی حیثیت قبول کرنا پڑتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: اینڈی برنہم کی پیرکو بطور وزیراعظم حلف برداری، عوامی مفاد پر مبنی معیشت کا وعدہ

برائن جانسن نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی موجودہ بیماری کی ایک ممکنہ وجہ بچپن کی بعض غذائی عادات بھی ہو سکتی ہیں، خصوصاً بہت تیزی سے کھانا کھانے کی عادت۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اب اپنی بیماری کے بہتر انتظام کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) سے بھی مدد لینے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ بیماری کی پیش رفت، علاج اور طرزِ زندگی سے متعلق فیصلے زیادہ مؤثر انداز میں کیے جا سکیں۔ برائن جانسن گزشتہ چند برسوں سے اپنی صحت، عمر اور جسمانی افعال کو بہتر بنانے کے لیے کروڑوں ڈالر مالیت کے مختلف سائنسی تجربات اور طبی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جنہیں دنیا بھر میں غیر معمولی دلچسپی کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK