Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرسٹوفر نولن کو چیلنج؟ ایلون مسک نے گروک سے ’’اوڈیسی‘‘ بنانے کا اعلان کیا

Updated: July 23, 2026, 10:04 PM IST | Los Angeles

ٹیسلا اور xAI کے سربراہ ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا اے آئی ویڈیو پلیٹ فارم Grok Imagine رواں سال کے اختتام سے قبل ہومر کی رزمیہ داستان ’’اوڈیسی‘‘ پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا دعویٰ ہے کہ یہ فلم ’’تاریخی طور پر زیادہ درست‘‘ اور اصل ادبی شاہکار سے زیادہ وفادار ہوگی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کرسٹوفر نولن کی فلم ’’The Odyssey‘‘ عالمی سطح پر کامیابی حاصل کر رہی ہے، جبکہ مسک پہلے ہی اس فلم پر تنقید کر چکے ہیں۔

Elon Musk.Photo:INN
ایلون مسک۔ تصویر:آئی این این

ٹیسلا، اسپیس ایکس اور xAI کے سربراہ ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی ویڈیو پلیٹ فارم Grok Imagine ہومر کی مشہور رزمیہ داستان ’’اوڈیسی‘‘ پر ایک مکمل فیچر فلم تیار کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فلم رواں سال کے اختتام سے قبل پیش کی جائے گی اور یہ اصل داستان کے زیادہ قریب اور ’’تاریخی طور پر درست‘‘ ہوگی۔ ایلون مسک نے ایکس پر کہا کہ ’’Grok Imagine اس سال ختم ہونے سے پہلے ’’اوڈیسی‘‘ پر ایک مکمل فلم بنائے گا، جو تاریخی طور پر درست اور ہومر کے فن کے حقیقی قریب ہوگی۔‘‘ اس اعلان کے ساتھ انہوں نے ایک مختصر اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کیلپسو کے کرداروں کی جھلک دکھائی گئی۔

یہ بھی پڑھئے:یوتھ ٹیسٹ: ہندوستان نے سری لنکا کو ۲۱۱؍ رنز سے شکست دے دی


یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کرسٹوفر نولن کی فلم ’’The Odyssey‘‘ باکس آفس پر شاندار کامیابی حاصل کر رہی ہے۔ اس سے قبل ایلون مسک نولن کی فلم پر کاسٹنگ اور تخلیقی آزادی کے حوالے سے تنقید کر چکے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر بعض کرداروں کے انتخاب پر اعتراض اٹھایا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی مجوزہ اے آئی فلم اصل یونانی رزمیہ داستان کے زیادہ قریب ہوگی۔ مسک کے اس اعلان کے بعد فلمی اور ٹیکنالوجی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ بعض افراد اسے فلم سازی میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار کی علامت قرار دے رہے ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہومر کی ’’اوڈیسی‘‘ ایک اساطیری اور ادبی تخلیق ہے، اس لیے اسے ’’تاریخی طور پر درست‘‘ قرار دینا خود ایک قابلِ بحث دعویٰ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’رامائن‘‘ میں کون سا اداکار کون سا کردار ادا کرے گا؟


ادھر کرسٹوفر نولن کی فلم کو ناقدین اور ناظرین دونوں کی جانب سے مثبت پذیرائی ملی ہے اور فلم نے ریلیز کے ابتدائی دنوں میں عالمی باکس آفس پر مضبوط آغاز کیا ہے۔ نولن ماضی میں فلم سازی میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور انسانی تخلیقی صلاحیت کو سنیما کی بنیاد قرار دیتے رہے ہیں۔ خبر لکھے جانے تک Grok Imagine کی مجوزہ فلم کی کاسٹ، دورانیے، ریلیز پلیٹ فارم یا پروڈکشن سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں۔ تاہم ایلون مسک کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایسی فلم پیش کرنا ہے جو ہومر کی اصل داستان کے زیادہ قریب ہو اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے مکمل طور پر تیار کی جائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK