جنتر منتر : پولیس کارروائی کے باوجود اپوزیشن کا زوردار مظاہرہ ،یوگیندر یادو اوربرنداکرات سمیت اہم شخصیات کی شرکت۔ شیواجی پارک:’’غدار گیا نومسٹ گو!‘‘ کے نعرے کیساتھ کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرہ میں نوجوانوں کا سیلاب امڈپڑا۔
EPAPER
Updated: October 03, 2026, 12:41 PM IST | Fazil Ahmed/Iqbal Ansari | New York
جنتر منتر : پولیس کارروائی کے باوجود اپوزیشن کا زوردار مظاہرہ ،یوگیندر یادو اوربرنداکرات سمیت اہم شخصیات کی شرکت۔ شیواجی پارک:’’غدار گیا نومسٹ گو!‘‘ کے نعرے کیساتھ کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرہ میں نوجوانوں کا سیلاب امڈپڑا۔
حسب اعلان اپوزیشن کی تقریباً تمام پارٹیوں نےگاندھی جینتی کے موقع پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ایس آئی آر کے خلاف دہلی سے لے کر ممبئی تک کئی شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ احتجاج میں شامل ہزاروں نوجوانوں جن میں جین زی کی تعداد زیادہ تھی، اہم شخصیات اور عام شہریوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا پُر زور مطالبہ کیا۔
جنتر منتر پر مظاہرہ ، کئی اہم افراد زیر حراست
دہلی کے جنتر منتر پر پولیس کی جانب سے اجازت نہ دئیے جانے کے باوجود مختلف سیاسی، سماجی، طلبہ اور نوجوانوں کی تنظیموں کے کارکن صبح سے ہی یہاں پہنچنے لگے تھے۔ پولیس نے احتجاج کو روکنے کیلئے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے ۱۱۰۰؍ سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ اس کے باوجود یہ احتجاج کیا گیا۔ حراست میں لئے جانے والوں میں سی پی آئی (ایم) کے جنرل سیکریٹری ایم اے بیبی، برندا کرات، آئیسا کی صدر نیہا بورا، سماجی کارکن یوگیندر یادو،آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ منوج کمار جھا،عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ، دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ آتشی،سوربھ بھاردواج، سنجیو جھا، این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ اور مختلف طلبہ تنظیموں کے کارکن شامل ہیں۔ اس دوران کوریج کیلئے وہاں پہنچنے والے کئی صحافیوں کو بھی پولیس کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھئے: پوپ لیو کا انسانی فن اور اے آئی تخلیقات میں فرق کرنے پر زور
جنتر منتر خالی، مظاہرین پھر پہنچ گئے
جنتر منتر کی جانب بڑھنے والے مظاہرین کو پولیس نے مختلف مقامات پر روک کر بسوں میں بھرلیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق۴۰؍ سے زائد بسوں میں مظاہرین کو مختلف پولیس تھانوں میں لے جایا گیا۔ ایس ایف آئی کے کارکنوں کے ایک بڑے گروپ کو اشوکا روڈپر روکا گیا جبکہ آئیسا، ڈی وائی ایف آئی، این ایس یو آئی اور دیگر تنظیموں کے کارکنوں کو بھی مختلف مقامات پر پولیس نے روک لیا۔ تقریباً۳۵۰؍ طلبہ اور کارکنوں کا ایک گروپ نائب صدر کی رہائش گاہ کی جانب سے جنتر منتر کی طرف بڑھا، اسے بھی پولیس نے روک لیا۔ لیکن اس کے بعد جب انہیں چھوڑا گیا تو یہ کارکنان ایک مرتبہ پھر جنتر منتر کے قریب پہنچ گئے اور وہیں مظاہرہ کرنے لگے ۔ اس دوران زبردست نعرے بازی ہوئی اور حکومت مخالف نعرے لگائے گئے۔
۱۲؍ میٹرو اسٹیشن بند کردئیے گئے
احتجاج کے اعلان کی وجہ سے دہلی کے مجموعی طور پر۱۲؍ میٹرو اسٹیشن بند کرنے کے احکامات جاری کردئیے گئے تھے ۔ حالانکہ بعض اسٹیشنوں پر انٹرچینج کی سہولت برقرار رکھی گئی تھی تاہم ۱۲؍ اسٹیشن بند ہونے سے مسافروں کی آمدورفت متاثر ہوئی۔احتجاج کے دوران جنتر منتر اور اس کے اطراف انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی تھی ۔ احتجاجی مقام کے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے دائرے میں صبح۹؍ بجے سے رات۹؍ بجے تک انٹرنیٹ سروس معطل رکھنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے۔واضح رہے کہ دہلی پولیس نے احتجاج کی اجازت نہیں دی تھی اور نئی دہلی ضلع میں دفعہ۱۶۳؍ کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی تھیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ غیر قانونی اجتماع، مظاہرہ، جلوس اور نعرے بازی کو روکنے کے لئے کارروائی کی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جمعرات کی درمیانی شب سے ہی پولیس کی جانب سے جنتر منتر جانے والے راستوں پر بیریکیڈنگ کردی گئی تھی۔ اشوکا روڈ، فیروز شاہ روڈ اور ٹالسٹائے مارگ بند کردئیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:مہاراشٹر: خشک سالی سے متاثر کسان اپنے پیاسے جانور بیچنے پر مجبور
پیپر لیک کے خلاف دہلی میں شاندار اور انتہائی کامیاب احتجاج کے بعد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی من مانی کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی ( سی جے پی) کی جانب سے ممبئی کے تاریخی شیواجی پارک میں جو مظاہرہ کیا گیا وہ شہر کی تاریخ کے سب سے بڑے مظاہروں میں شامل ہو گیا۔ گاندھی جینتی کی مناسبت سے جمعہ کو پارٹی سربراہ ابھیجیت دپکے کی قیادت میں دادر میں واقع شیواجی پارک میں’جیل بھرو آندولن ‘کیا گیا ۔ اس میں شرکت کیلئے نوجوانوں کا سیلاب امڈ پڑا ۔ نوجوانوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ شیواجی پارک جیسے وسیع و عریض میدان میںتل دھرنے کو جگہ نہیں تھی جس کی وجہ سےبہت سے مظاہرین اس میدان کے چاروں طرف دائرے کی شکل میں جمع ہورہے تھے۔ ’غدارگیانو مسٹ گو!‘ کے بینر لگے ہوئے اسٹیج سے مظاہرین سے دپکے سمیت کئی اہم شخصیات نے خطاب کیا جن میں نصیر الدین شاہ ، شبانہ اعظمی اور دیگر شامل ہیں۔
مہاتما گاندھی کی تصاویر
مہاتماگاندھی کی تصویر والے ٹی شرٹ پہنے ہوئے ابھیجیت دپکے اور ان کے ساتھیوں نے پوری ہمت و بہادری کے ساتھ اسٹیج سنبھالا۔ انہوں نے نہ صرف مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی بلکہ اتنے بڑے مجمع کو دیکھنے کے باوجود انہوں نے ہوش نہیںکھوئے اور نہایت مدلل طریقے سے اپنی باتیں پیش کیں ۔ انہوں نے حکومت کو انتباہ دیاہے کہ اس احتجاج کے بعد بھی اگر گیانیش کمار کو نہیں ہٹایا گیاتو دہلی میں اس سے بڑا اور انتہائی شدید احتجاج کیا جائےگا۔
یہ بھی پڑھئے:اتراکھنڈ: جم مالک محمد دیپک تاجر پر مبینہ حملے کے الزام میں گرفتار
وزیر اعلیٰ پر تنقید یں، مائیک بند!
جس وقت ابھیجیت دپکے وزیر اعلیٰ فرنویس پرتنقید کر رہے تھے ان کا مائیک بند ہو گیا تھا۔ابھیجیت دپکے یہ کہہ رہے تھے کہ انہیں شیواجی پارک میں مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی جبکہ وزیر اعلیٰ نے دھمکی دی تھی کہ انہیںگرفتار کر لیا جائے گا،اسی لئے انہوں نے جیل بھرو آندولن کیا۔ انہوں شیواج پارک پر موجود نوجوانوں کےجم غفیر سے پوچھا کہ کیا وہ بھی گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کرتےہوئے گرفتار ہونے کیلئے تیار ہیں، جس پر مظاہرین نے پرجوش انداز میں چلاکر ہاں میں جواب دیا۔
مظاہرہ میںاہم شخصیات کی شرکت
کاکروچ جنتا پارٹی کے اس احتجاج کی حمایت کرنے کیلئے مہاتما گاندھی کے پڑپوتے تشار گاندھی، اداکار نصیر الدین شاہ،اداکارہ شبانہ اعظمی، موسیقار وشال ددلانی اور دیگر بھی اس مظاہرہ میں پہنچے۔شیو سینا لیڈر آدتیہ ٹھاکرے بھی اس مظاہرہ میں شامل ہونے والے تھے لیکن وہ بخار ہونے کے سبب حاضر نہیں ہو سکے البتہ انہوں نے اپنی حمایت کا پیغام بھیجوایا۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور نعرے بازی کرتے ہوئے اپنے مطالبات پیش کئے۔ ابھیجیت دپکے نے اتنی بڑی تعداد دیکھ کر ایکس پر پوسٹ کیا کہ’’آج اکھّا ممبئی شیواجی پارک میں آگیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:شیو سینا کارپوریٹر سے ۲۵؍لاکھ روپے کا مطالبہ
ممبئی پولیس کو سلام:ابھیجیت دپکے نے ممبئی پولیس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ’ اوپر‘ سے حکم دیا گیا تھاکہ مجھے گرفتار کر لیا جائے لیکن ان لوگوں نے مجھے حراست میں لیا اور چائے پلاکر چھوڑ دیا۔مَیں انہیں سلام کرتا ہوں اور شیواجی پارک کے مکینوں کو بھی سلام کرتا ہوں کیونکہ اس مظاہرے سے انہیں جو پریشانی ہوئی وہ انہوں نے برداشت کی اور ہر موڑ پر ہمارا ساتھ بھی دیا۔
دہلی پولیس کمشنر پر شدید تنقید:کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ نے دہلی پولیس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ’’دہلی پولیس کمشنر جن سنگھی ہیں اور امیت شاہ کے غلام ہیں۔ انہوں نے وردی نہیں بلکہ خاکی چڈی پہن رکھی ہے ۔ اسی لئے انہوں نے دہلی میں جنتر منتر پر مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں کے خلاف جارحانہ انداز میں کارروائی کی اور چھوٹی بچیوں تک پر تشدد کیا ۔‘‘ انہوںنے انتباہ دیا کہ گیانیش کمار کے خلاف مظاہرہ میں شریک ہونے والوں کو روکنے کیلئے دہلی پولیس نے جنتر منتر پر جو بیریکیڈ لگائے ہے وہ اب کم پڑنے والے ہیں کیونکہ پوری ہندوستان کے جین زی وہاں پہنچنے والے ہیں۔
متنازع نعرہ لگا کر ماحول خراب کرنے کی کوشش : شیواجی پارک میں جاری احتجاج کے دوران بھگوا مفلر پہنے کچھ بھگوا کارکن وہاں پہنچے اور ’جئے شری رام ‘کے نعرے لگانے لگے لیکن پولیس نے نہایت چوکسی برتتے ہوئے ان کارکنوں کو حراست میں لے لیا اور انہیں وہاںسے ہٹادیا جس کی وجہ سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔دریں اثنا، یہ واضح نہیں ہے کہ نعرے لگانے والے کارکنان کا تعلق کس جماعت یا تنظیم سے تھا۔ واضح رہے کہ اس مظاہرے میں متعدد اہم شخصیات کے علاوہ ریاست اور بیرون ریاست سے بھی نوجوانوں نے شرکت کی۔ اس احتجاج کے ذریعے الیکشن کمیشن کے طرزِ عمل اور انتظامی فیصلوں کے خلاف شدید ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔ حمایت متعدد اہم شخصیات نے بھی سی جے پی کے اسٹیج پر چڑھ کر ان کی حمایت کا اعلان کیا اور حق رائے دہی کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے خلاف مہم چلانے پر ابھیجیت دپکے اور ان کے ساتھیوں کو مبارکباد دی۔
یہ بھی پڑھئے:اے آئی ایجنٹس کنٹرول سے باہر ؟۱۰۰؍زائد عالمی اداروں کے نظام میں سیندھ ماری
~ ووٹ دینا ہمارا بنیادی آئینی حق ہے اگر اس حق کو ہی ہم سے چھین لیاجائے گا تو ہم اسے برداشت نہیں کریں گے ۔ ووٹ دینے کے حق کو بچانے کیلئے چلائی جانے والی اس مہم کیلئے مَیں ابھیجیت دپکے اور نوجوانوں کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ ‘‘
- شبانہ اعظمی
~ ۱۹۴۲ء سے جب بھی نوجوانوں نے احتجاج کی کمان سنبھالی ہے، انقلاب ضرور آیا ہے۔ جے جوان جے کسان تحریک اور اس کے بعد بھی نوجوانوں کے ذریعے کئی انقلاب آئے۔آج بھی نوجوان غلط سسٹم کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ اس سے بھی تبدیلی یقینی ہے ۔ ‘‘
- تشار گاندھی
~ مجھے اس تحریک سے جڑ کر انتہائی خوشی ہورہی ہے۔ یہ تحریک اس وقت تک جاری رکھی جانی چاہئے جب تک ’گیانو‘ سے استعفیٰ نہیں لے لیا جاتا۔آج ووٹنگ کےحقوق کے تحفظ کیلئے نوجوانوں کا ہجوم کو دیکھ کر گاندھی جینتی کا احساس دل سے ہو رہا ہے۔ ‘‘
- وشال ددلانی
~ گزشتہ کئی برسوں سے وزیر اعظم کی دکان چلانے والا ماسٹر مائنڈ گیانیش کمار ہی ہے۔ اسی نے ملک سے ۱۳؍ کروڑ بی جے پی مخالف ووٹروں کا نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا ہےجو کہ کل ووٹروں کا ۱۵؍ فیصد ہے۔ بابا صاحب امبیڈکر کے دیئے ہوئے حق کو گیانیش کمار نے چھیننے کا کام کیا ہے۔ ‘‘
- آشوتوش رانکا