Updated: October 05, 2026, 6:05 PM IST
| Mumbai
اداکار سنجے دت نے ’’شیکھر ٹونائٹ‘‘ میں ہندوستان میں سکون نہ ہونے سے متعلق اپنے بیان اور وزیر اعظم نریندر مودی و امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر طنزیہ تبصروں کے بعد وضاحت پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی گفتگو اسکرپٹ کا حصہ تھی اور اس کا مقصد ہلکے پھلکے مزاح کے ذریعے محبت، اتحاد اور خیرسگالی کا پیغام دینا تھا۔
شیکھر سمن اور سنجے دت۔ تصویر: آئی این این
سنجے دت نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں شیکھر سمن کے یوٹیوب پر نشر ہونے والے کامیڈی شو ’’شیکھر ٹونائٹ‘‘ میں دیے گئے اپنے بیانات کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور معاشرے کے بعض حلقوں کی ناراضی مول لے لی۔ اداکار نے پہلے یہ اعتراف کیا کہ انہیں اب ’’ہندوستان میں سکون محسوس نہیں ہوتا‘‘، جس کے بعد انہوں نے راجکمار ہیرانی کی معروف سماجی مزاحیہ فلم سیریز کے مشہور کردار ’منّا بھائی‘ کے انداز میں وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک مکالمہ پیش کیا۔ تاہم اب سنجے دت نے اپنے بیان کی وضاحت پیش کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یامی گوتم اور آدتیہ دھر نے ممبئی کو خیربادکہا، ہماچل پردیش منتقل
ہندوستان سے متعلق بیان پر سنجے دت کی وضاحت
سنجے دت نے اتوار کو اپنے ایکس ہینڈل پر لکھا، ’’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی فرد، برادری یا ادارے کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا، ان کی توہین کرنا یا ان کی بے حرمتی کرنا کبھی بھی میرا مقصد نہیں رہا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان کے یہ بیانات ایک اسکرپٹ شدہ گفتگو کے تناظر میں تھے، جس کا مقصد ’’ہلکے پھلکے اور مزاحیہ انداز میں مکالمے‘‘ کے ذریعے ناظرین کو محظوظ کرنا تھا۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ان کا انداز اسی مزاح اور طنز پر مبنی تھا جو ’’منّا بھائی‘‘ فلم سیریز، خصوصاً اس کے دوسرے حصے ’’لگے رہو منّا بھائی‘‘ (۲۰۰۶ء) میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس فلم میں مہاتما گاندھی کے نظریات کو جدید انداز میں پیش کرتے ہوئے معاشرے کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کیا گیا تھا۔ سنجے دت نے دعویٰ کیا کہ ان کے بیان کا مقصد ’’محبت، اتحاد اور خیرسگالی کا پیغام‘‘ دینا تھا۔ انہوں نے دوبارہ کہا کہ بدقسمتی سے ان کے الفاظ کو اس تناظر سے ہٹ کر سمجھا گیا۔
’’شیکھر ٹونائٹ‘‘ میں سنجے دت نے کیا کہا تھا؟
شو کے آخری حصے میں جب سنجے دت سے ہندوستان کے وزیر اعظم کے کردار میں منّا بھائی کے انداز میں ایک مکالمہ پیش کرنے کیلئے کہا گیا، اس سے قبل انہوں نے کہا کہ انہیں اب ملک میں سکون محسوس نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا، ’’اس ملک کے لوگ بہت اچھے ہیں۔ یہاں امن ہونا چاہئے۔ اب مجھے اپنے ملک میں وہ سکون محسوس نہیں ہوتا۔ ہم ہندوستانی کشادہ دل لوگ ہیں اور مہمان نواز ہیں۔ ہم نے بہت کچھ دیا ہے اور ہمیں ہمیشہ ایسا ہی رہنا چاہئے۔ میں شیو جی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ دن جلد واپس آئیں۔‘‘ بعد ازاں انہوں نے منّا بھائی کے انداز میں وزیر اعظم کا کردار ادا کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی پر بالواسطہ تنقید کی۔ انہوں نے اس عام تنقید کی جانب اشارہ کیا کہ وزیر اعظم ملک کے عوام کے درمیان وقت گزارنے کے بجائے بہت زیادہ بیرونِ ملک دورے کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’چٹّ مَلّے‘‘ کے مصنوعی ذہانت سے بنائے گئے ویڈیو پر چیرنجیوی برہم
سنجے دت نے منّا بھائی کے انداز میں کہا کہ عوام کو بالکل فکر کرنے کی ضرورت نہیں، وہ خوشی منانے کیلئے بیرونِ ملک نہیں جائیں گے بلکہ عوام کے درمیان ہی رہیں گے، کیونکہ وزیر اعظم اور عوام کے درمیان رابطہ قائم رہنا ضروری ہے۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر وزیر اعظم مودی پر اپنی تصاویر ہر جگہ لگوانے اور تشہیر پر زیادہ توجہ دینے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بن کر انہیں ملک کیلئے بہت کچھ کرنے کا موقع ملا ہے اور وہ ایک اور کام کریں گے، جہاں جہاں ان کی تصاویر لگی ہیں، انہیں کم کریں گے، کیونکہ ملک کو ’’ملک کی تصویر‘‘ دکھائی دینی چاہئے۔ سنجے دت نے وزیر اعظم کی تصاویر کی جگہ مہاتما گاندھی کی تصاویر لگانے کی تجویز بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ گاندھی کا عدم تشدد کا فلسفہ ہی وہ راستہ ہے جس پر موجودہ دور کے ہر رہنما کو چلنا چاہئے تاکہ دنیا کو بہتر بنایا جاسکے۔
ڈونالڈ ٹرمپ پر بھی طنزیہ تبصرہ
سنجے دت نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بھی اپنے طنزیہ مکالمے میں شامل کیا اور انہیں ’’ماموں‘‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں پہلے ہی بہت زیادہ میزائل موجود ہیں، اس لئے اب محبت بھی برآمد کی جانی چاہئے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر کسی ملک کی جانب میزائل بھیجنے کا دل کرے تو پہلے گلدستہ بھیجا جائے، اور اگر کسی کو دھمکی دینے کا دل کرے تو اسے فون کرکے گھر بلایا جائے اور چائے پیتے ہوئے مسئلہ حل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: جونیئر این ٹی آر کی ’’ڈریگن‘‘ کی ریلیز تاریخ ۱۱؍جون ۲۰۲۷ء طے
’’لگے رہو منّا بھائی‘‘ میں گاندھی گیری
فلم ’’لگے رہو منّا بھائی‘‘ میں سنجے دت نے ایک گینگسٹر کا کردار ادا کیا تھا، جو اپنی محبوبہ اور ریڈیو جوکی ودیا بالن کو متاثر کرنے کیلئے مہاتما گاندھی کے نظریات کا مطالعہ شروع کرتا ہے۔ اس دوران اسے ہر جگہ گاندھی نظر آنے لگتے ہیں۔ یہی تجربہ اسے گاندھی کے عدم تشدد کے راستے پر چلنے کی طرف لے جاتا ہے اور وہ اپنے دوست سے دشمن بننے والے لکی، جس کا کردار بومن ایرانی نے ادا کیا تھا، کو دھمکیاں دینے کے بجائے گلدستے پیش کرنے کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ ودھو ونود چوپڑا کی پروڈیوس کردہ اس فلم کی مشترکہ اسکرپٹ راجکمار ہیرانی اور ابھیجت جوشی نے لکھی تھی۔ ’’لگے رہو منّا بھائی‘‘ نے دنیا بھر کے باکس آفس پر ۱۲۰؍ کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار کیا تھا۔ یہ ۲۰۰۳ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’’منّا بھائی ایم بی بی ایس‘‘ کا سیکوئل تھی۔ فلم میں ارشد وارثی، دیا مرزا، سوربھ شکلا، کلبھوشن کھربندا اور جمی شیرگل سمیت دیگر اداکاروں نے بھی اہم کردار ادا کیے تھے۔