Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسجد اقصیٰ میں اشتعال انگیز کارروائیوں کی مذمت

Updated: July 25, 2026, 11:02 AM IST | Doha

۸؍ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے مسجداقصیٰ پر یلغار کی مذمت کیلئے مشترکہ بیان جاری کیا۔

Israeli Minister of National Security Itamar Ben-Gvir on the occasion of the infiltration of Israeli settlers into the Al-Aqsa Mosque. Photo: INN
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی کے موقع پراسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر۔ تصویر: آئی این این

قطر،  سعودی عرب،متحدہ عرب امارات، اردن، ترکی، مصر، انڈونیشیا اور پاکستان  کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی حالیہ دراندازی کو ’غیر قانونی اور انتہا پسندانہ اقدام‘ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جمعرات کو ایکس پر جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ’’ مقدس مقامات پر اس نوعیت کی کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کی واضح خلاف ورزی ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے‘‘

اس مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا:’’ وزرائے خارجہ نے اسرائیلی وزراء اور انتہا پسند گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے کی ترغیب اور تشدد پر مبنی غیر قانونی اور انتہا پسندانہ اقدامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔‘‘

انہوں نے خبردار کیا کہ’’ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کی کوششوں میں رکاوٹ بنتے ہیں۔‘‘ وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ کے احاطے پر اردن کی تاریخی سرپرستی کو تسلیم کرنے پر بھی زور دیا۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم اور وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر خودمختاری کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’’علاقے کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش ناقابل قبول ہے۔‘‘

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب جمعرات کو ہزاروں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں نے مسجد اقصیٰ پر بڑے پیمانے پر دھاوا بولاجن کی قیادت اہم اسرائیلی وزراء اور اراکین پارلیمنٹ کر رہے تھے۔اس کارروائی میں اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر،کابینی اسحاق واسرلوف اور وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ امیت ہالیوی بھی شریک تھے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ-ایران جنگ کا ۱۳ واں دن: امریکی بمباری جاری، ٹرمپ کا ’بڑے حملے‘ پر غور، تیل کی قیمت ۱۰۰ ڈالر

چھاپے سے قبل اسرائیلی فورسیز نے متعدد فلسطینیوں کو فجر سے پہلے مسجد اقصیٰ پہنچنے سے روک دیا جس کے سبب انہیں قریبی سڑکوں پر نماز ادا کرنی پڑی۔

مسجد اقصیٰ سے متعلق ضابطہ 

۱۹۶۷ءکی جنگ کے بعد طے پانے والے انتظامات کے مطابق اردن کا اسلامی وقف مسجد اقصیٰ کے اندرونی انتظامات سنبھالے گا جبکہ بیرونی سیکوریٹی اسرائیل کے ذمہ ہوگی۔ غیر مسلموں کو مخصوص اوقات میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں آنے کی اجازت ہے لیکن وہاں عبادت کرنے کی اجازت نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK