• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’مرزا پور: دی مووی‘‘ کے گانے پر تنازع، بی جے پی کے سینئر لیڈرنے سینسر بورڈ کو خط لکھا

Updated: September 10, 2026, 11:15 AM IST | Jaipur

علی فضل، پنکج ترپاٹھی اور دویندو شرما کی فلم ’’مرزا پور: دی مووی‘‘ ریلیز کے بعد باکس آفس پر کامیابی کے ساتھ ساتھ ایک نئے تنازع میں بھی گھِر گئی ہے۔ فلم میں راجستھانی گلوکار ’’رَپیرا بالم کے گانے ’’شور ویر‘‘ کے استعمال پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد اب راجستھان بی جے پی کے سینئر لیڈر اور ریاستی اسمبلی کے سابق اپوزیشن لیڈر راجندر راٹھوڑ نے مرکزی فلم سرٹیفیکیشن بورڈکو خط لکھ کر گانے کو فلم سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

Mirazapur The Movie.Photo:INN
مرزا پور:دی مووی۔ تصویر:آئی این این

علی فضل، پنکج ترپاٹھی اور دویندو شرما کی فلم ’’مرزا پور: دی مووی‘‘ ریلیز کے بعد باکس آفس پر کامیابی کے ساتھ ساتھ ایک نئے تنازع میں بھی گھِر گئی ہے۔ فلم میں راجستھانی گلوکار ’’رَپیرا بالم  کے گانے  ’’شور ویر (Shoorveer)‘‘ کے استعمال پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد اب راجستھان بی جے پی کے سینئر لیڈر اور ریاستی اسمبلی کے سابق اپوزیشن لیڈر  راجندر راٹھوڑ  نے مرکزی فلم سرٹیفیکیشن بورڈ (سی بی ایف سی ) کو خط لکھ کر گانے کو فلم سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:ویمنز ایشیا کپ : ہندوستان کی فائنل پر نظریں، بنگلہ دیش سے اہم مقابلہ

راجندر راٹھوڑ، جو راجستھان اسمبلی کے سات مرتبہ رکن رہ چکے ہیں، نے اپنے خط میں کہا کہ ’شور ویر‘ گانا مہارانا پرتاپ کی بہادری، خودداری اور قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق فلم میں اس گانے کو گینگسٹرز اور جرائم پیشہ کرداروں سے متعلق مناظر کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جس سے معاشرے کے ایک طبقے میں ناراضی پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے سی بی ایف سی  سے گانے کو فلم سے ہٹانے کی درخواست کی۔ 
’شور ویر‘ گانے کو لے کر تنازع اس وقت شروع ہوا جب راجستھانی فنکار  رَپیرا با لم  نے الزام عائد کیا کہ فلم میں ان کا گانا مناسب اجازت یا کریڈٹ کے بغیر استعمال کیا گیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ گانا مہارانا پرتاپ  کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن فلم میں اسے ایسے مناظر کے ساتھ استعمال کیا گیا جو گینگسٹر کرداروں کو نمایاں کرتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:ویمنز ایشیا کپ : ہندوستان کی فائنل پر نظریں، بنگلہ دیش سے اہم مقابلہ

بالم نے بعد میں فلم کے پروڈیوسرز اورایکسل اینٹرٹینمنٹ  کو قانونی نوٹس بھی بھیجا، جس میں گانے کو ہٹانے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا۔    دوسری جانب گانے کے میوزک لیبل ٹروپر ریکارڈس نے ان الزامات کے بعد وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ  ’’شور ویر‘‘کو فلم میں استعمال کرنے کے لیے قانونی طور پر لائسنس دیا گیا تھا۔ اس وضاحت کے بعد گانے کے کاپی رائٹ سے متعلق تنازع کی ایک الگ جہت سامنے آئی ہے، تاہم راجندر راٹھوڑ نے فلم میں گانے کے استعمال کے انداز پر ثقافتی اور تاریخی حوالے سے اعتراض کیا ہے۔  راجندر راٹھوڑ نے اپنے خط میں یہ بھی کہا کہ آزادیٔ اظہار کو تاریخی شخصیات، قومی ہیروز یا ہندوستان کے ثقافتی ورثے کی توہین یا غلط انداز میں پیش کرنے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مستقبل میں بھی تاریخی شخصیات سے وابستہ گانوں، علامتوں یا حوالوں کو ایسے انداز میں استعمال نہ کرنے کی اپیل کی جس سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوسکتے ہوں۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK