اب باکڑوں پر باہر کے لوگ کاروبار کرتے ہیں اور مقامی افراد کو پریشانی ہوتی ہے اس لئے انہیں ہٹایا جائے گا۔ متعدد طبی، تعلیمی اور سماجی منصوبے زیر غور۔
EPAPER
Updated: September 10, 2026, 2:25 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
اب باکڑوں پر باہر کے لوگ کاروبار کرتے ہیں اور مقامی افراد کو پریشانی ہوتی ہے اس لئے انہیں ہٹایا جائے گا۔ متعدد طبی، تعلیمی اور سماجی منصوبے زیر غور۔
مسلم اکثریتی علاقہ مدنپورہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اکثر اوقات یہاں اتنی بھیڑ ہوتی ہے کہ چلنے کی جگہ بھی دستیاب نہیں ہوتی لیکن مقامی کارپوریٹر کی کوششوں اور میونسپل کمشنر کی ’پیڈیسٹرین فرسٹ‘ مہم کے ملے جلے اثر سے جلد ہی مدنپورہ سے غیرقانونی ہاکروں، کھاٹ اور باکڑوں کے ہٹائے جانے کی قوی امید ہے جس سے نہ صرف یہاں چلنے پھرنے اور موٹر گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے نسبتاً کشادہ راستہ مل جائے گا بلکہ مدنپورہ کی شکل بھی تبدیل ہو جائے گی۔
فی الحال مدنپورہ کیلئے جو منصوبے بنائے گئے ہیں اور زیر غور ہیں ان پر عملدرآمد سے یہاں کئی سماجی، تعلیمی اور طبی سہولیات دستیاب ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مسلم اکثریتی علاقوں کے۳۰؍ فیصد نام خارج
مدنپورہ میں وارڈ نمبر ۲۱۱؍ کے کارپوریٹر وقار خان کے مطابق ۸۰ء کی دہائی کے اخیر میں جب بائیکلہ میں واقع کھٹائو مل نقصان میں چلی گئی تو بے روزگار ہونے والوں میں بہت سے افراد مدنپورہ میں رہتے تھے۔ ان افراد نے سڑکوں پر کھاٹ لگا کر ان پر کپڑے فروخت کرنا شروع کردیا جس سے مقامی افراد برسرروزگار ہوگئے جو مثبت بات تھی۔ اُس دور میں گاڑیوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی جس کی وجہ سے سڑک کے کنارے کھاٹ پر کاروبار شروع ہونے سے آمدورفت کا اتنا مسئلہ درپیش نہیں تھا جتنا گزشتہ ۲۰؍ سے ۲۵؍ برسوں میں گاڑیوں کی تعداد بڑھنے سے ہوچکا ہے۔
وقار خان کے بقول ’’آج حالات یہ ہیں کہ ۹۰؍ فیصد سے زیادہ باہر کے افراد یہاں کرایے پر باکڑے لگا رہے ہیں اور مقامی افراد ان سے خریداری بھی نہیں کرتے بلکہ یہاں کارخانوں میں مزدوری کرنے والے اور اس طرح کے دیگر افراد اس بازار کے گاہک ہیں۔ اس کے علاوہ کھاٹ کی جگہ باکڑوں نے لے لی ہے جس کی وجہ سے مقامی خواتین، طلبہ، ضعیف افراد کو آمدورفت میں سخت دشواریاں ہوتی ہیں۔ اس تعلق سے مقامی افراد ان سے شکایتیں کرتے رہتے ہیں۔ راستہ تنگ ہوجانے کی وجہ سے یہاں سے گزرنے والی بیسٹ بس نمبر ۱۶۸؍ کا روٹ بدل دیا گیا ہے جو اینزا اسکول اور ناریل واڑی قبرستان جیسے کئی اہم مقامات پر جاتی تھی۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکسی والے آنے کو تیار نہیں ہوتے۔‘‘ ان حالات کی وجہ سے وقار خان کی کوشش ہے کہ جلد از جلد یہاں سے غیرقانونی باکڑوں کو ختم کردیا جائے پھر ہاکنگ زون میں کاروبار کرسکتے ہیں۔ ساتھ ہی سڑک کے کنارے سفید رنگ کی پٹی رنگ دی جائے گی تاکہ یہاں واقع عمارتوں میں مقیم افراد اپنی گاڑیاں ان سفید پٹی کے اندر پارک کرسکیں۔ اس کے باہر پارکنگ کرنے پر ٹریفک محکمہ کارروائی کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے:آدھار کے معمار نندن نیلیکنی اور نکھل کامتھ کو ایس آئی آر نوٹس
کم لوگ جانتے ہیں کہ ناگپاڑہ جنکشن کا نام انقلاب زندہ باد کا نعرہ دینے والے مولانا حسرت موہانی چوک ہے اس لئے وقار خان نے اس جنکشن پر ان کی یادگار کی تعمیر، اس گارڈن، جس میں ۲۵؍ میٹر کا قومی پرچم لہراتا ہے کی مرمت، مرزا غالب کے ’میورال‘ وغیرہ کی مرمت، حکیم اجمل خان ڈسپنسری جو عوام میں مکتی فوج کے نام سے مشہور ہے کی مرمت کے ساتھ یہاں ڈائلیسز کیلئے آنے والے بزرگوں کو پہلے منزلے پر چڑھنے اترنے کیلئے پیچھے کے حصہ میں لفٹ کی تنصیب اور اسی ڈھانچے کے پچھلے حصہ میں زیر زمین پانی کی ٹانکیوں کی تعمیر کیلئے کروڑوں کی لاگت کے منصوبے تیار کئے ہیں۔ ان میں سے چند منصوبوں پر جلد عمل شروع ہوگا مگر دیگر چند میں کچھ وقت لگے گا۔ ای وارڈ آفس کے قریب واقع میگھ راج مارگ (سائوٹر) میونسپل اسکول ۱۰۰؍ سال سے زیادہ پرانی عمارت ہے اس کو مکمل طور منہدم کرکے اس کی جگہ نئی عمارت تعمیر کرکے اس میں سی بی ایس ای بورڈ کی انگریزی میڈیم اسکول شروع کرنے کا منصوبہ ہے جسے بی ایم سی ہی چلائے گی۔انہوں نے بی ایم سی سے مطالبہ کیا ہے کہ بیلاسس روڈ پر واقع عربیہ ریسٹورنٹ کی عمارت میں بی ایم سی کی ملکیت کے جو ۵؍ کمرے عدالت کے حکم سے شہری انتظامیہ کو مل گئے ہیں ان کمروں میں مدنپورہ کے طلبہ کی پڑھائی کیلئے ’اسٹڈی سینٹر‘ اور لائبریری قائم کی جائے تاکہ چھوٹے چھوٹے مکانوں میں رہنے والے طلبہ یہاں مطالعہ کرسکیں۔