ایس آئی آر سروے کے اعداد و شمار میں انکشاف، ۲۰؍ فیصد مسلم آبادی والے ۳۸؍ اسمبلی حلقوں میں کل تقریباً۳۷؍ لاکھ ۵۱؍ ہزار ووٹرحذف۔
EPAPER
Updated: September 10, 2026, 2:21 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
ایس آئی آر سروے کے اعداد و شمار میں انکشاف، ۲۰؍ فیصد مسلم آبادی والے ۳۸؍ اسمبلی حلقوں میں کل تقریباً۳۷؍ لاکھ ۵۱؍ ہزار ووٹرحذف۔
مہاراشٹر میں خصوصی نظرثانی ( ایس آئی آر) کے سروے کے بعد تیار کی گئی ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے تجزیے سے انکشاف ہوا ہے کہ ریاست کے کئی گنجان آباد علاقوں، خصوصاً ممبئی اور ممبئی میٹروپولیٹن ریجن( ایم ایم آر )کے بعض اسمبلی حلقوں میں بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام ڈرافٹ فہرست میں حذف کر دیئے گئے ہیں۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق مسلم آبادی کی نمایاں موجودگی والے۳۸؍ اسمبلی حلقوں میں مجموعی طور پر تقریباً۳۷؍ لاکھ ۵۱؍ ہزار ووٹر یعنی۷۷ء۴۹؍ فیصد کو ’اَن کلیکٹیبل‘(جن ووٹروں نے اپنا انومریشن فارم جمع نہیں کیا)قرار دیا گیا جبکہ پورے مہاراشٹر میں یہ شرح ۲۱ء۱۴؍ فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مدنپورہ میں انجمن خیر الاسلام کے۶؍ اسکول ہیں
انتہائی گنجان آباد حلقوں میں ۴۰؍ فیصد نام حذف
رپورٹ کے مطابق ممبئی اور ایم ایم آر کے بعض انتہائی گنجان آباد حلقوں میں یہ شرح ۴۰؍ فیصد سے بھی تجاوز کر گئی۔
بھیونڈی( ایسٹ) میں ۱۰ء۴۹؍فیصد
بھیونڈی(ویسٹ) میں ۷۲ء۴۴؍ فیصد
ممبرا کلوا میں ۹۱ء۴۲؍فیصد
مانخورد شیواجی نگر میں۳۱ء۴۲؍ فیصد ووٹرز ڈرافٹ لسٹ میں کاٹ دیئے گئے ہیں۔
ممبئی کے چاندیولی اسمبلی حلقے میں بھی یہ شرح ۴۴ء۴۱؍ فیصد رہی۔
سائن کولی واڑہ اور پونے کنٹونمنٹ اسمبلی حلقوں میں ۴۰؍ فیصد ووٹر وںکے نام حذف کر دیئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:چند کارخانوں سے ابتداء مگر اب بیگ کا بڑا بازار ہے!
مذہب کے لحاظ سے درجہ بندی نہیں کی گئی
تاہم یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی نہیں کرتے کہ انفرادی مسلم ووٹروں کا نام خارج کر دیا گیا ہے۔ ایس آئی آر کے اعداد و شمار کی مذہب کے لحاظ سے درجہ بندی نہیں کی گئی ہے اور تجزیہ ان اسمبلی حلقوں پر مبنی ہے جن کی مسلم آبادی۲۰؍ فیصد سے زیادہ ہے۔اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ووٹروں کی تعداد میں اضافہ ضروری نہیں ہے کہ کسی حلقے کی مسلم آبادی میں اضافہ ہو۔
اخبار کے تجزیے کے مطابق ’اَن کلیکٹیبل‘ قرار دیئے گئے ووٹرز میں سب سے بڑی تعداد ایسے افراد کی تھی جنہیں ’ مستقل طور پر منتقل شدہ‘ قرار دیا گیا۔ اس زمرے کا حصہ تقریباً ۴۲ء۰۵؍ فیصد تھا جبکہ۳۵ء۵۹؍ فیصد ووٹرز کو غیر موجود یا لاپتہ قرار دیا گیا۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ کسی ووٹر کو ’اَن کلیکٹیبل‘قرار دیے جانے کا مطلب حتمی طور پر ووٹ دینے کا حق ختم ہونا نہیں ہے، کیونکہ ڈرافٹ فہرست کے بعد دعوؤں اور اعتراضات کا عمل جاری رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آل انڈیا سنی جمعیۃ العلما ءکا ۶۸؍ سالہ سفر
ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں نام چیک کرنے کی اپیل
محکمہ انتخابات کے افسران نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں اپنا نام ضرور چیک کریں۔ اگر کسی اہل ووٹر کا نام اس میں موجود نہیں ہے یا اسے غلط طور پر’ ایبسینٹ ‘شفٹیڈ یا ڈیڈ‘( غیر حاضر، منتقل یا انتقال کر چکا )قرار دیا گیا ہے تو متعلقہ انتخابی رجسٹریشن افسر( ای آر او)کے پاس دعویٰ یا تصحیح کی درخواست دی جاسکتی ہے۔
یہ اہم سیاسی موضوع بن سکتا ہے
ممبئی کے گنجان علاقوں میں ووٹرز کے نام بڑی تعداد میں ڈرافٹ لسٹ سے باہر ہونے کا معاملہ آنے والے دنوں میں اہم سیاسی موضوع بن سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہےکہ حتمی انتخابی فہرست میں دعوؤں اور اعتراضات کے بعد کتنے نام دوبارہ شامل کئے جاتے ہیں؟