Updated: July 04, 2026, 7:03 PM IST
| Mumbai
ہدایت کار امتیاز علی کی فلم ’’میں واپس آؤں گا‘‘ صرف باکس آفس پر ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی جذبات کا سیلاب لے آئی ہے۔ فلم دیکھنے کے بعد انٹرنیٹ پر ’’Cry Check‘‘ نامی نیا ٹرینڈ وائرل ہوگیا ہے، جس میں ناظرین سنیما میں داخل ہونے سے پہلے اور فلم ختم ہونے کے بعد اپنی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔ بیشتر ویڈیوز میں ناظرین آنسوؤں سے بھرپور آنکھوں کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں۔ کئی افراد نے تقسیم ہند سے جڑی اپنے خاندان کی حقیقی اور دردناک یادیں بھی بیان کیں۔
امتیاز علی کی تقسیم ہند کے پس منظر پر مبنی فلم ’’میں واپس آؤں گا‘‘ نے سوشل میڈیا پر ایک نیا رجحان پیدا کر دیا ہے، جسے صارفین ’’Cry Check‘‘ کا نام دے رہے ہیں۔ اس ٹرینڈ میں فلم بین سنیما ہال میں داخل ہونے سے پہلے مسکراتے ہوئے اپنی مختصر ویڈیو یا تصویر بناتے ہیں اور فلم ختم ہونے کے بعد دوبارہ ویڈیو ریکارڈ کرتے ہیں، جہاں اکثر ان کی آنکھیں اشک بار اور چہرے جذبات سے بھرے ہوتے ہیں۔ یہی ویڈیوز اب انسٹاگرام، ایکس، فیس بک اور ٹک ٹاک پر لاکھوں مرتبہ دیکھی اور شیئر کی جا رہی ہیں۔ فلم کی غیر معمولی جذباتی فضا نے صرف نوجوانوں ہی نہیں بلکہ معمر ناظرین کو بھی متاثر کیا ہے۔ متعدد افراد نے سنیما گھروں کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ فلم ختم ہونے کے بعد کئی منٹ تک اپنی نشستوں سے نہیں اٹھ سکے کیونکہ وہ ’’ایک عجیب سی کیفیت‘‘ میں تھے۔ کولکاتا کے روزنامہ دی ٹیلی گراف کی جانب سے شیئر کئے گئے ویڈیو میں بھی متعدد ناظرین نے اعتراف کیا کہ فلم نے انہیں اندر سے ہلا کر رکھ دیا۔
سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے فلم سے متاثر ہو کر اپنے خاندان کی تقسیم ہند سے وابستہ کہانیاں بھی شیئر کرنا شروع کر دی ہیں۔ کئی افراد نے لکھا کہ ان کے دادا، دادی یا نانا، نانی نے ۱۹۴۷ء میں ہجرت کی تھی لیکن انہوں نے کبھی اس دکھ کو الفاظ میں بیان نہیں کیا۔ فلم دیکھنے کے بعد پہلی مرتبہ انہیں اپنے بزرگوں کے درد کا اندازہ ہوا۔ بعض صارفین نے اپنے خاندان کی پرانی تصاویر، ہجرت کے دوران استعمال ہونے والے سامان اور بزرگوں کے خطوط بھی پوسٹ کیے، جنہیں لاکھوں مرتبہ دیکھا گیا۔
فلم سے جڑا سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا واقعہ ایک ایسے شخص کا ویڈیو بنا جو فلم دیکھنے کے بعد امتیاز علی اور اداکار ویدانگ رائنا سے ملتے ہوئے زاروقطار رونے لگا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بعض صارفین نے الزام لگایا کہ اسے فلم کی تشہیر کے لیے پیسے دے کر رُلایا گیا ہے۔ تاہم بعد میں اس شخص نے خود ایکس پر وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ ’’میں ہی وہ شخص ہوں، مجھے کسی نے کرائے پر نہیں رکھا۔‘‘ اس نے بتایا کہ اس کی دادی کا صرف ایک ماہ قبل انتقال ہوا تھا اور فلم میں الزائمر کے معمر مریض کا کردار دیکھ کر اسے اپنی دادی یاد آگئیں، اسی لیے وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ اس وضاحت کے بعد ہزاروں صارفین نے اس کی حمایت کرتے ہوئے تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔
دشینت اروڑہ کی اس وضاحت پر ایک صارف نے لکھا، ’’اب سمجھ آیا کہ ہر آنسو کی کوئی نہ کوئی کہانی ہوتی ہے۔‘‘ جبکہ فلم بف انکیت نے تبصرہ کیا کہ ’’ہر جذباتی لمحے کو پی آر اسٹنٹ کہہ دینا ہماری سب سے بڑی بے حسی ہے۔‘‘ متعدد صارفین نے لکھا کہ فلم کے اثر کو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس کے خاندان نے تقسیم کا درد محسوس کیا ہو۔ انسٹاگرام اور ایکس پر متعدد فلم بینوں کی پوسٹس بھی تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ سنی فائل میگھا نے اپنی ’’پہلے اور بعد‘‘ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’میں صرف فلم دیکھنے گئی تھی، اپنے نانا کی کہانی لے کر واپس آئی ہوں۔‘ دی براؤن کریٹک نے لکھا کہ ’’یہ فلم نہیں، اجتماعی یادداشت ہے۔‘‘ جبکہ اسٹوریز آف ۱۹۴۷ء نامی صارف نے تبصرہ کیا کہ ’’اگر آپ کے گھر میں کبھی تقسیم ہند کا ذکر ہوا ہے تو یہ فلم آپ کو خاموش کر دے گی۔‘‘ ان پوسٹس کو ہزاروں لائکس اور شیئرز مل رہے ہیں۔
فلم کے بارے میں مثبت تبصروں کا سلسلہ فلمی شخصیات تک بھی پہنچ گیا ہے۔ معروف ہدایت کار مہیش بھٹ نے کہا کہ امتیاز علی کی یہ فلم ’’منانے اور سراہنے کے قابل ہے‘‘ کیونکہ یہ جذبات کو مصنوعی انداز میں نہیں بلکہ نہایت سچائی سے پیش کرتی ہے۔ دوسری جانب ہدایت کار انوراگ کشیپ نے بھی امتیاز علی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل ایسی فلمیں بنا رہے ہیں جو لوگوں کے دل توڑ دیتی ہیں اور انہیں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔
اداکار ویدانگ رائنا نے بھی فلم کی کامیابی پر جذباتی نوٹ لکھتے ہوئے کہا کہ ’’اس فلم نے مجھے بطور اداکار اور بطور انسان بدل دیا۔‘‘ انہوں نے امتیاز علی اور ناظرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس محبت سے لوگ فلم کو اپنا رہے ہیں، وہ ان کے لیے ناقابلِ فراموش تجربہ ہے۔ ادھر موسیقار اے آر رحمان نے فلم پر ہونے والی آن لائن بحث کے دوران انسانیت کے پیغام کی حمایت کرتے ہوئے بالواسطہ انداز میں ان ناقدین کو جواب دیا جنہوں نے فلم کو متنازع قرار دیا تھا۔ فلم کی غیر معمولی عوامی پذیرائی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ریلیز کے دوسرے ہفتے میں اس کی کمائی میں نمایاں اضافہ ہوا، جسے خود امتیاز علی نے ’’ورڈ آف ماؤتھ‘‘ یعنی ناظرین کی زبانی تعریف کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بے مثال محبت پر حیران بھی ہیں اور بے حد شکر گزار بھی۔