فلم ’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ جہاں باکس آفس پر ریکارڈ توڑ رہی ہے، وہیں اداکار دیپک تجوری نے سی بی ایف سی کی سینسرشپ پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے ’’آدھی گالیوں‘‘ کو خاموش کرنے کی منطق کو چیلنج کیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 27, 2026, 8:06 PM IST | Mumbai
فلم ’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ جہاں باکس آفس پر ریکارڈ توڑ رہی ہے، وہیں اداکار دیپک تجوری نے سی بی ایف سی کی سینسرشپ پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے ’’آدھی گالیوں‘‘ کو خاموش کرنے کی منطق کو چیلنج کیا ہے۔
ہدایتکار آدتیہ دھرکی فلم ’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ نہ صرف باکس آفس پر طوفان برپا کر رہی ہے بلکہ اب اس کی سینسرشپ بھی ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہے۔ رنویر سنگھ کی قیادت میں بننے والی یہ اسپائی تھریلر دنیا بھر میں تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے کے قریب پہنچ چکی ہے اور ہندی سنیما کی سب سے بڑی کمائی کرنے والی فلم بننے کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ فلم کو جہاں عام ناظرین اور فلمی شخصیات کی جانب سے زبردست پذیرائی ملی، وہیں اداکار اور فلمساز دیپک تجوری نے اس کی سینسرشپ پر سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (Central Board of Film Certification) کو آڑے ہاتھوں لیا۔
دیپک تجوری نے انسٹاگرام پر ایک تفصیلی پوسٹ میں سوال اٹھایا کہ فلم میں گالیوں کو ’’آدھا خاموش‘‘ کرنے کا کیا جواز ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’مجھے تسلیم کرنا چاہیے… شاید میں کچھ کھو رہا ہوں۔ شاید میرے پاس وہ عقل نہیں ہے جو سینسر بورڈ کے پاس ہے۔ کیونکہ میں واقعی نہیں سمجھتا کہ کیوں آدھی گالیوں کو خاموش کیا جاتا ہے اور باقی کو چھوڑ دیا جاتا ہے؟‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’خاص طور پر جب فلم پہلے ہی ۱۸؍ پلس سرٹیفائیڈ ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ صرف بالغوں کے لیے ہے، تو پھر ہم کس کی حفاظت کر رہے ہیں؟ اور کس بات سے… آدھا لفظ؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ کا ۷؍ دن میں ایک ہزار کروڑ کا کاروبار
تجوری نے اس تضاد کی طرف بھی اشارہ کیا کہ یہی فلم چند ہفتوں بعد او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر بغیر کسی کٹ کے دستیاب ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق:’’وہی فلم ایک یا دو ماہ بعد او ٹی ٹی پر مکمل، بغیر کسی خاموشی کے ریلیز ہوتی ہے… اور وہاں بچے بھی اسے گھر پر دیکھتے ہیں۔ تو پھر تھیٹر میں بالغوں کے لیے آدھا خاموش کرنا کتنا منطقی ہے؟‘‘ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا: ’’شاید یہاں کوئی منطق ہے جسے میں نہیں سمجھ پا رہا… یا شاید ہم غلط چیزوں کو زیادہ سوچ رہے ہیں۔‘‘
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب فلم اپنی زبردست کمائی کے ساتھ مسلسل نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ ’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ نے ہندوستان میں پہلے ہی ۵۵۰؍ کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کر لیا ہے اور توقع ہے کہ اپنے دوسرے ہفتے کے اختتام تک ۷۰۰؍ کروڑ روپے کا ہندسہ عبور کر لے گی۔ یہ فلم پہلے ہی ’’پٹھان‘‘ اور ’’اینیمل‘‘ جیسی بڑی فلموں کے ریکارڈ پیچھے چھوڑ چکی ہے، جو اس کی غیر معمولی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ تنازع ایک بار پھر اس بڑے سوال کو سامنے لے آیا ہے کہ کیا سینسرشپ کے موجودہ اصول جدید دور کے میڈیا ایکو سسٹم، خاص طور پر او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے دور میں، مؤثر اور منطقی ہیں یا نہیں۔