دہلی این سی آر میں فضائی آلودگی کے پیش نظر ۵؍ نومبر سے تعمیرات پر پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم قومی اہمیت کے منصوبے اس سے متاثر نہیں ہوں گے، اس کے علاوہ ملازمین کیلئے حکام ورک فرام ہوم کے متبادل پر بھی غور کررہے ہیں۔
EPAPER
Updated: October 31, 2026, 10:45 AM IST | New Delhi
دہلی این سی آر میں فضائی آلودگی کے پیش نظر ۵؍ نومبر سے تعمیرات پر پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم قومی اہمیت کے منصوبے اس سے متاثر نہیں ہوں گے، اس کے علاوہ ملازمین کیلئے حکام ورک فرام ہوم کے متبادل پر بھی غور کررہے ہیں۔
مرکزی وزیر ماحولیات بھوپیندر یادو نے جمعہ کو کہا کہ۵؍ سے۲۰؍ نومبر تک پورے نیشنل کیپیٹل ریجن میں دھول پیدا کرنے والی انہدامی کارروائی اور بیرونی سول تعمیرات پر پابندی عائد رہے گی، کیونکہ یہ خطہ فضائی آلودگی کے اپنے عروج کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ حکام نے بتایا کہ ورک فرام ہوم کے حکم پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔یادو نے کہا کہ کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (CAQM) اس سلسلے میں دن میں بعد میں حکم جاری کرے گا۔ تاہم قومی اہمیت کے منصوبوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔یادو نے کہا،’’ CAQM آج حکم جاری کرے گا کہ۵؍ سے ۲۰؍ نومبر تک دہلی اور اطراف میں تعمیرات اور مسماری پر پابندی ہوگی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کانگریس نےبی جے پی کو ناگپورمیں دھول چٹائی
یہ پابندیاں دہلی میں تعمیرات اور مسماری پرعلاحدہ پابندی سے پہلے آئی ہیں جو یکم نومبر سے نافذ ہو کر ۳۱؍ جنوری تک جاری رہے گی، جو فضائی آلودگی کے خلاف وسیع اقدامات کا حصہ ہے۔جبکہ CAQM سے پانچ ہائی وہیکل ڈینسٹی اضلاع: گروگرام، فرید آباد، سونی پت، غازی آباد اور گوتم بدھ نگر کے لیے ورک فرام ہوم سے متعلق ہدایات جاری کرنے کی بھی توقع ہے۔بعد ازاں یہ سخت اقدامات، ایک محدود مدت کے لیے،جو اس عرصے کے ساتھ وابستہہوں گے جب دھان کی پرالی جلانے کے واقعات عام طور پر اپنے عروج پر ہوتے ہیں اور دیوالی کے تہوار کا دور ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (CAQM) نے پہلے ہی قومی دارالحکومت میں GRAP اسٹیج اول نافذ کر دیا ہے، جس میں حکام کو دھول کم کرنے کے اقدامات کو مضبوط بنانے اور تعمیراتی و مسماری کی سرگرمیوں، کچرے کے انتظام اور آلودگی کے دیگر ذرائع سے متعلق موجودہ قوانین کو نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔علاوہ ازیں اقدامات میں گاڑیوں کے اخراج، ڈیزل جنریٹر سیٹس، پبلک ٹرانسپورٹ، صنعتی اخراج اور تندوروں میں کوئلے اور لکڑی کے استعمال سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔