گھر کتنی بڑی نعمت ہے اس سوال کا جواب اُن سے پوچھنا چاہئے جو گھر سے بے گھر ہوئے یا اپنے ملک سے پرائے ملک میں پہنچ گئے یا پہنچا دیئے گئے۔ یاد رکھئے کہ دُنیا میں پونے بارہ کروڑ رفیوجی ہیں۔
EPAPER
Updated: October 31, 2026, 4:26 PM IST | Shahid Latif | Mumbai
گھر کتنی بڑی نعمت ہے اس سوال کا جواب اُن سے پوچھنا چاہئے جو گھر سے بے گھر ہوئے یا اپنے ملک سے پرائے ملک میں پہنچ گئے یا پہنچا دیئے گئے۔ یاد رکھئے کہ دُنیا میں پونے بارہ کروڑ رفیوجی ہیں۔
گھر محض تین حرفی لفظ ہے۔ ہندی سے آیا مگر اُردو کے دل میں گھر کرگیا۔ اُردو میں اس کے جتنے متبادلات، مثلاً خانہ، کاشانہ، مکان، مسکن، رہائش گاہ، قیام گاہ اور بیت (جو عربی ہے مگر اُردو میں بولا اور سمجھا جاتا ہے) میں وہ جاذبیت اور اپنائیت نہیں ہے جو گھر میں ہے، کم از کم ہم اُردو والوں کیلئے۔ گھر کا معنوی حسن اُس وقت دوبالا ہوجاتا ہے جب کوئی ملاقاتی کہتا ہے کہ ’’فلاں تاریخ کو گھر جانا ہے۔‘‘ یہاں ’’گھر‘‘ کا معنی مکان یا مسکن نہیں ہے بلکہ وہ شہر یا قصبہ یا گاؤں ہے جہاں اُس کا گھر ہے۔ اُسے اپنے شہر یا قصبہ یا گاؤں جانا ہوتا ہے مگر کہتا ہے گھر جانا ہے۔ معلوم ہوا کہ گھر کی نسبت انسان کو شہر یا قصبہ یا گاؤں سے مربوط کرتی ہے اور انسان اُس سے بھی اُتنی ہی محبت کرنے لگتا ہے جتنا کہ اپنے گھر سے اور گھر والوں سے۔
گھر میں بال بچوں کا، والدین کا، دادا دادی کا اور خاندان کے دیگر افراد کا تصور بھی موجود ہے۔ اس میں اہل خانہ بھی ہیں اور اہل خاندان بھی ( فیملی اور ایکسٹینڈیڈ فیملی)۔ اس میں پیڑ پودے بھی ہیں اور چرند پرند بھی۔ اس میں دھوپ بھی ہے اور سایہ بھی۔ طلوع و غروبِ آفتاب کے مناظر بھی ہیں اور صبح و شام کی مخصوص آوازیں بھی۔ اس میں آس پاس کی بے شمار مانوس آوازیں بھی ہیں۔ اس میں وہ محبت، اُنسیت ، رشتوں کی حدت اور یادوں اور خوابوں کی قوت بھی ہے جو پختہ یا شکستہ ڈھانچے کو گھر کا رُتبہ عطا کرتی ہے۔ یہ گھر ہی کی طاقت ہے جو اس میں رہنے والوں کے باہمی رشتے کو بامعنی بناتی اور گہرائی و گیرائی عطا کرتی ہے۔ گھر پختہ ہو تب بھی اور ناپختہ ہو تب بھی، وسیع ہو تب بھی اور محدود رقبے کا ہو تب بھی، اپنے رہنے والوں کیلئے رحمت اور جنت ہوتا ہے۔ گھر اُس شخص کیلئے بھی گھر ہے جو اس کی معنویت کو جیتا ہے اور اُس کیلئے بھی جسے اس معنویت کا شعور اور احساس نہیں ہے۔ اگر چہرا انسان کی شناخت ہے تو گھر اُس کا اعتبار۔
یہ بھی پڑھئے:یو این: مسلم، خاتون سکریٹری جنرل چننے کا موقع
جو لوگ گھر کو گھر کی گہری معنویت کے ساتھ نہیں دیکھتے وہ نہیں جانتے کہ گھر کتنی بڑی نعمت ہے۔ اُنہیں علم ہے کہ گھر میں رہنے والوں کا آپس میں بات چیت کرنا روزمرہ کا معمول ہے مگر یہ علم نہیں کہ گھر خود بھی بہت کچھ کہتا ہے۔ اُسے کوئی نہیں سنتا کہ وہ کب کچھ کہتا ہے، کس انداز میں کہتا ہے اور کیا کہتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کچھ لوگ خاموشی کی آواز سن پاتے ہیں۔ وہی لوگ آواز کی خاموشی کو بھی سنتے ہیں۔ مگر کچھ ایسے ہوتے ہیں جو نہ تو خاموشی کی آواز سنتے ہیں نہ ہی آواز کی خاموشی۔ اُنہیں گھر کے در و دیوار سے تکلم کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اس کا خیال بھی نہیں آتا۔
گھر کی معنویت پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے مگر اس موضوع پر طول کلامی ضروری نہیں، اشارہ کافی ہے تاکہ ہر انسان جسے گھر کی دولت میسر ہے اس کی اہمیت کو سمجھے اور اس کی قدر کرے۔ اگر یہ نہیں تو اُن لوگوں کے بارے میں سوچے جن کے کل تک گھر تھے، اب نہیں ہیں۔ اب گھر اُن کی یادوں کا ایسا چراغ ہے جس کی لوَ کبھی مدھم، کبھی تیز اور کبھی بہت تیز ہوجاتی ہے۔ پھر وہ وقت آتا ہے جب یادوں کی لوَ خود بھی یاد بن جاتی ہے۔ یہ تب ہوتا ہے جب بے گھری مستقل ہوجاتی ہے، مقدر ہو جاتی ہے۔
خبروں سے ربط ضبط رکھنے والے جانتے ہیں کہ اِس وقت (۲۰۲۵ء کے اواخر کے اعدادوشمار) پوری دُنیا میں گھر سے بے گھر ہونے والوں کی تعداد پونے بارہ کروڑ (۱۱۷ء۸؍ ملین) ہے۔ ان میں وہ بھی ہیں جو اپنی ہی سرزمین پر ہیں مگر گھر سے دور ہیں اور وہ بھی ہیں جن کا گھر ہی نہیں چھو‘ٹا، گاؤں، قصبہ، شہر حتیٰ کہ ملک بھی چھو‘ٹ گیا اور اب وہ کسی اور ملک میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ بےگھری کا عذاب سہنے والے یہ لوگ یاتو خانہ جنگی، اندرونی شورش، جنگ، تشدد یا ظلم و زیادتی کی یورش میں اپنی جان بچا کر بھاگے۔ ان میں وہ بھی ہیں جو قدرتی آفات کے نتیجے میں در بہ در ہوئے۔ دکھ الگ الگ ہوسکتے ہیں مگر نتیجہ ایک جیسا ہے۔ گھر چھٹ گیا، سکون لٹ گیا، زمین سے رابطے کا مستند ذریعہ اُجڑ گیا اور اُن کی شناخت اور اعتبار پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ اب یہ پناہ گزیں (رِفیوجی) ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مکّہ معاہدہ ہی نہیں مکّہ بھی خطرے میں ہے!
شہری سے پناہ گزیں ہونے کا سفر کتنا اذیت ناک ہوتا ہے یہ وہی جانتا ہے جو اپنی جان بچانے کے لئے اپنا گھر اور علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوا۔ کہتے ہیں ایک غم دوسرے غم کو پہچانتا ہے اور اُس کے ساتھ اپنائیت کا رشتہ قائم کرلیتا ہے۔ اس طرح غم ہی غم کی ڈھارس بنتا ہے اور بندھاتا ہے اور غم ہی غم کا سہارا بنتا اور بناتا ہے۔ ہم، نہ تو ڈھارس بندھانے والے غم کو جانتے ہیں نہ ہی جس کی ڈھارس بندھی اُس غم کو۔ مگر یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ غم کا احساس بھی انسان کو دوسرے انسان کے غم میں شریک ہونے اور کچھ نہیں تو دعائے خیر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ غم کا یہ غائبانہ احساس اور اُس کے تئیں جذبۂ خیر بھی اُتنا ہی قیمتی ہے جتنا کہ سامنے بیٹھے ہوئے ایک غم سے دوسرے غم کی اپنائیت اور خود کو بھول کر اُسے دلاسہ دینے کی کوشش۔ اس غم کے نہ ہونے ہی کا نتیجہ ہے کہ پناہ گزینوں کی وہ تعداد جو صرف پانچ یا چھ سال پہلے (۲۰۲۰ء میں) ۸؍ کروڑ تھی، پونے بارہ کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ہم آپ کو اپنے گھر میں ہونے کا سکھ حاصل ہے اس لئے کسی کے بے گھر ہونے کے دُکھ کا احساس اور اندازہ کبھی کبھار ہی ہوتا ہے یا کبھی کبھار بھی نہیں ہوتا مگر جو اس دکھ کو جھیل رہا ہے وہ اپنی زندگی کے اربوں کھربوں لمحے اُس ایک لمحے کے انتظار میں گزارتا ہے جب اُسے گھر واپس جانے کا پروانہ ملے گا۔ گویا وہ اُس لمحے میں جیتا ہے جس کا تعلق اُس کے گھر سے ہے۔ میرے آپ کے گھر کا رقبہ وسیع ہوسکتا ہے اور کسی پناہ گزیں کے گھر کا رقبہ بہت مختصر اور بہت معمولی، اس کے باوجود میرا یا آپ کا گھر اُتنا قیمتی نہیں ہے جتنا اُس پناہ گزیں کا گھر، جو ہے مگر نہیں ہے، جو نہیں ہے مگر یادوں میں ہے اور تب تک رہے گا جب تک وہ پناہ گزیں اپنے گھر واپس نہیں آجاتا یا جب تک اُس کے دم میں دم ہے۔
اس پس منظر میں غور کرنا چاہئے کہ ہر انسان کیلئے اُس کا اپنا غم ہی سب سے بڑا غم کیوں ہے؟ سوال مشکل مگر جواب آسان ہے۔ اُسے اپنا غم ہی سب سے بڑا غم اس لئے لگتا ہے کہ وہ دوسروں کے غم سے لا علم ہے اور اگر لاعلم نہیں ہے تو اُس کا احساس نہیں ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ احساس بڑی چیزبلکہ سب سے بڑی دولت ہے۔ جس کے پاس یہ دولت ہے وہ دُنیا کا سب سے بڑا کھرب پتی ہے۔ جس کے پاس نہیں ہے وہ کتنا ہی دولتمند ہو، قلاش ہے، کنگال ہے اور سب سے زیادہ غریب ہے۔ وہ زمین پر بوجھ ہے۔