حکمراں جماعت سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ’’کانگریس مُکت بھارت‘‘ کا نعرہ اتنی بُری طرح فیل ہوگا جتنا کہ ہوا ہے۔
EPAPER
Updated: October 31, 2026, 4:31 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
حکمراں جماعت سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ’’کانگریس مُکت بھارت‘‘ کا نعرہ اتنی بُری طرح فیل ہوگا جتنا کہ ہوا ہے۔
حکمراں جماعت سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ’’کانگریس مُکت بھارت‘‘ کا نعرہ اتنی بُری طرح فیل ہوگا جتنا کہ ہوا ہے۔ ملک کی قدیم پارٹی نے وقت ضرور لیا، ابتداء میں’’حکمت بدعملی‘‘ اپنائی اور ’’نرم ہندوتوا‘‘ کو آزمایا مگر پھر حکمت عملی اپنانے لگی، خود کو سنبھالا، اُٹھنے کی کوشش کی اور اُٹھ کھڑی ہوئی۔ آج لوک سبھا کا الیکشن ہوجائے تو کانگریس کی تصویر ۲۰۲۴ء کی تصویر سے بہتر ہوگی جب وہ ۲۰۱۹ء کی شرمناک سے قابل قدر ۹۹؍ سیٹوں تک پہنچ گئی تھی۔
آج اس کالم میں ہمیں یکم نومبر کی مہا رَیلی پر گفتگو کرنی ہے جو دہلی کے رام لیلا میدان پر منعقد ہوگی مگر اس سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس بات کا جائزہ لیں کہ ۲۰۱۴ء میں دھڑام سے زمین پر آجانے والی پارٹی کو سنبھلنے، اُٹھنے کی کوشش کرنے اور پھر اُٹھ کھڑا ہونے کے قابل کس نے بنایا۔اس پر شاید ہی کسی کو شک ہو کہ یہ کارنامہ راہل گاندھی کا ہے جنہوں نے بڑی لکیر کے سامنے اُس سے بھی بڑی لکیر کھینچنے کی کوشش کی اور یہ راز پالیا کہ جب سارے راستے بند ہوجائیں تو ایک ہی راستہ بچتا ہے۔ وہ ہے عوام کے دلوں تک پہنچنے کا راستہ۔ راہل نے جانا کہ اُن کی پارٹی نے جو کردار جنگ ِ آزادی کے دور میں ادا کیا تھا، وطن عزیز کو ایک بار پھر اُسی کردار کی ضرورت ہے۔ راہل کے سامنے مشکلات تھیں۔
یہ بھی پڑھئے:غم سے غم کی راحت ہے، غم ہی غم کی دولت ہے!
سب سے بڑی مشکل تو اُن سینئر کانگریسیوں سے نمٹنا تھا جو پارٹی میں رہ کر پارٹی کے نقشے بگاڑنے میں مہارت رکھتے تھے۔ راہل نے اُنہیں باہر کا راستہ دکھاکر اُن کی مخالفت ِ مزید کو دعوت دینے کی کوشش نہیں کی بلکہ عوام سے جڑنے کی کوشش کی اور رفتہ رفتہ اپنی شبیہ اتنی مستحکم کرلی کہ جن سے پنڈ چھڑانا تھا وہ (لیڈران) خود بہ خود حاشئے پر جانے لگے۔ آج، راہل کے کٹر مخالفین بھی راہل کی حکمت عملی، جانفشانی اور سیاسی طاقت میں اضافے کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ بہ اندازِ دگر جاری ہے۔ وہ کھلے دل سے تعریف نہیں کرتے بلکہ راہل کو روکنے، ٹوکنے، اُن میں عیب نکالنے اور اُن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو گھٹانے میں دن رات مصروف رہتے ہیں۔یہ اُن کی کتنی بڑی مجبوری ہے !
راہل گاندھی نے خود کو اپنی ہی پارٹی سے نہیں منوایا، اُن ہم خیال پارٹیوں سے بھی منوایا ہے جو اَب سے چند برس پہلے تک اُن کی قیادت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے تھے۔ ان میں ممتا بنرجی کو بھی شمار کیا جاسکتا ہے اور دیگر کو بھی۔ رہے اُن کے کٹر مخالفین تو اُن کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ وہ بے چارے یہی دیکھتے رہتے ہیں کہ راہل کہاں جارہے ہیں، کیا کررہے ہیں اور کیسے اُن کا راستہ روکا جائے۔
جہاں تک کل منعقد ہونے والی مہاریلی اور اُس سے قبل آج کھرگے کی رہائش گاہ پر گیانیش کمار کے عوامی مواخذہ کا تعلق ہے، ان دو اقدامات کو راہل گاندھی اور اُن کی ٹیم کے ذریعہ ووٹ چوری کامسئلہ اُٹھانے اور عوام کے درمیان لانے کی کوششوں کا نقطۂ عروج کہنا غلط نہ ہوگا۔ متوازی بیانیہ کا سہارا لے کر اصل موضوع کو پس پشت ڈالنے میں ماہر بی جے پی اپنی تمام طاقت کے باوجود کانگریس کو روکنے اور ان اقدامات کا اثر کم کرنے میں ناکام ہے۔