۱۰؍ اعتراضات کی حد کو پار کرنے پر گردھر سوامی ناتھ کیخلاف دھاراوی پولیس میں ایف آئی آر درج ، دیگر حلقۂ انتخاب میں بھی اسی طرح کی شکایتیں
ایس آئی آر کا ایک منظر(فائل فوٹو)۔ تصویر: آئی این این
الیکشن کمیشن کی شکایت پر دھاراوی پولیس نے ایک مقامی شخص، گردھاری کے خلاف عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت کیس درج کروایا ہے۔ فارم ۷؍کے تحت ۲۴؍گھنٹوں میں ۱۰؍ہی اعتراضات دیئے جاسکتے ہیں لیکن ملزم نے ’ایس آئی آر‘ (اسپیشل انٹینسیو ریویزن) کی کارروائی میں ایک دن میں فارم ۷؍کے تحت ۲۴؍ اعتراضات داخل کردیئے۔
اطلاع کے مطابق یہ معاملہ دھاراوی کے اسمبلی حلقہ ۱۷۸؍ کا ہے۔ یہاں ۹۰؍ فٹ روڈ، دھاراوی (مشرق) میں گنگا دھر لال چال میں رہائش پذیر گردھاری سوامی ناتھ جیسوال نے ایک ہی دن میں فارم ۷؍ کے ذریعہ ۲۴؍ ناموں پر اعتراضات کئے تھے جس سے متذکرہ ایکٹ کی خلاف ورزی ہوئی ہے اس لئے اس شخص کے خلاف شکایت درج کروائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ جاری خصوصی نظر ثانی کی مہم کے تحت فارم ۷؍ کے ذریعہ اعتراض کرکے کسی شخص کے انتقال کرنے، مستقل طور پر کسی مقام پر منتقل ہوجانے یا کسی کا نام ایک سے زیادہ مرتبہ فہرست میں شامل ہونے جیسے معاملات کی اطلاع دے کر شکایت کی جاتی ہے کہ اس نام کو فہرست سے نکال دیا جائے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا اور ریاست مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر کی ہدایات کے مطابق فارم ۷؍ کے تحت ایک دن میں زیادہ سے زیادہ ۱۰؍ ناموں پر اعتراض کی درخواستیں دی جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ فارم ۷؍ میں اگر کوئی شخص جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کرتا ہے تو اعتراض کرنے والے کے خلاف عوامی نمائندگی ایکٹ ۱۹۵۰ء کی دفعہ ۳۱؍ کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔اسی وجہ سے گنگادھر کے خلاف بھی اسی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے۔
واضح رہےکہ رائے دہندگان کی فہرست کی خصوصی نظر ثانی ’ڈرافٹ ووٹر لسٹ‘ سے متعلق دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی مدت ۳۱؍ اگست ۲۰۲۶ء تک تھی جس میں توسیع کرکے اسے ۲۶؍ اکتوبر تک کردیا گیا ہے۔
اصولاً فارم ۷؍ کے تحت کوئی رائے دہندہ صرف اپنے ہی حلقہ انتخاب کی فہرست کے تعلق سے اعتراضات داخل کرسکتا ہے لیکن پوری ریاست میں اس طرح کی شکایتیں موصول ہوئی ہیں کہ بی جے پی سے وابستہ افراد نے دیگر حلقہ انتخاب کے تعلق سے اعتراضات کئے اور ان کے اعتراضات قبول بھی کئے گئے ہیں۔
ایسا ہی کچھ معاملہ بھیونڈی میں بھی چل رہا تھا جہاں بی جے پی سے وابستہ ’بی ایل اے‘ (بوتھ لیول ایجنٹ) روزانہ ۱۰، ۱۰؍ افراد کی فہرست پر اعتراضات کررہے تھے لیکن مقامی ایم ایل اے رئیس شیخ اور کانگریس، این سی پی (شرد پوار) کے دیگرلیڈران اور کارپوریٹروں کی کوششوں سے اس کا پردہ فاش ہوا اور اس پر کچھ حد تک قدغن لگا۔ممبرا میں بھی ایسا کرنے کی بات سامنے آئی تھی لیکن جب انقلاب نے خود تحقیق کی تو جن افراد پر اعتراض گیا تھا وہ اپنے پتہ پر موجود پائے گئے تھے۔