Inquilab Logo Happiest Places to Work

پہلی فلم کی کامیابی کے باوجود وجیتا پنڈت زیادہ مشہور نہیں

Updated: August 25, 2026, 12:45 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ہندی سنیما کی تاریخ میں کئی اداکارائیں ایسی گزری ہیں جنہوں نےاپنی پہلی ہی فلم سے ناظرین کے دلوں میں جگہ بنا لی، لیکن ان میں سے ہر ایک کی قسمت نے انہیں طویل فلمی سفر نہیں دیا۔

Actress and singer Vijayta Pandit. Picture: INN
اداکارہ اور گلوکارہ وجیتا پنڈت۔ تصویر: آئی این این

ہندی سنیما کی تاریخ میں کئی اداکارائیں ایسی گزری ہیں جنہوں نےاپنی پہلی ہی فلم سے ناظرین کے دلوں میں جگہ بنا لی، لیکن ان میں سے ہر ایک کی قسمت نے انہیں طویل فلمی سفر نہیں دیا۔ کچھ چہرے وقت کے ساتھ پردۂ سیمیں سے غائب ہوگئے، مگر ان کی پہلی فلم کی یاد ہمیشہ زندہ رہی۔ وِجیتا پنڈت بھی انہی اداکاراؤں میں شامل ہیں۔ ۱۹۸۱ءمیںجب وہ ’لو اسٹوری‘ میں کمار گورو کے ساتھ پردے پر آئیں تو ایسا لگا جیسے ہندی فلم انڈسٹری کو ایک نئی معصوم اور خوبصورت ہیروئن مل گئی ہے۔ فلم زبردست کامیاب ہوئی، کمار گورو راتوں رات اسٹاربن گئے اور وجیتا پنڈت بھی نوجوان نسل کے درمیان خاصی مقبول ہوگئیں۔ مگر ان کی زندگی میں کامیابی کی یہ روشنی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’کنگ‘‘ اور’’پٹھان‘‘ کے ڈائریکٹر سدھارتھ آنند کا تیلگو سنیما پر طنزیہ تبصرہ

۲۵؍ اگست ۱۹۶۷ءکوپیداہونے والی وجیتا کا تعلق کسی عام گھرانے سے نہیں بلکہ ہندوستان کے ایک انتہائی معروف موسیقی گھرانے سے تھا۔ان کے والد پنڈت پرتاپ نارائن خود معروف کلاسیکی گلوکار تھے جبکہ عظیم کلاسیکی گائیک پنڈت جسراج ان کے چچا تھے۔ ان کی بڑی بہن سلاکشنا پنڈت بھی اداکارہ اور پلے بیک سنگر رہیں۔ ان کے بھائی جتن پنڈت اور للت پنڈت آگے چل کر موسیقی کی دنیا میں جتن-للت کے نام سے مشہور ہوئے۔ اس طرح وجیتا کے گھر میں موسیقی محض شوق نہیں بلکہ زندگی کا حصہ تھی۔ 

اسی موسیقی کے ماحول میں پرورش پانے والی وجیتا کو بچپن ہی سے گائیکی کا شوق تھا۔ فلمی دنیا میں ان کی آمد بھی ایک طرح سے قدرتی عمل تھا۔ اگرچہ ان کی شناخت بعد میں اداکارہ کے طور پر ہوئی، لیکن ان کی آواز میں بھی وہ مٹھاس تھی جو انہیں عام اداکاراؤں سے مختلف بناتی تھی۔وجیتا نے بچپن میں بھی فلمی دنیا کا رخ کیا تھا اور ’دور کا راہی‘ جیسی فلم میں بطور چائلڈ آرٹسٹ کام کیا۔ تاہم انہیں اصل شناخت ۱۹۸۱ءکی فلم ’لو اسٹوری‘ سے ملی۔ فلم میں ان کے مقابل کمار گورو تھے، جومعروف اداکار راجندر کمار کے بیٹے تھے۔ راجندر کمار نے اپنے بیٹے کو فلمی دنیا میں لانچ کرنے کے لیے اس رومانوی فلم کا انتخاب کیا تھا اور وجیتا کو ان کے مقابل ہیروئن بنایا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: اجے دیوگن کی ’’دِریشیم ۳‘‘ کا نیا نام’’دِریشیم: دی کنکلوژن‘‘

اس کے بعد انہوں نے ’مِثال‘، ’وفادار‘، ’جیتے ہیں شان سے‘، ’دیوانہ تیرے نام کا‘، ’زلزلہ‘، ’آگ کے شعلے‘، ’ناگ ناگن‘، ’وفا‘، ’پیار کا طوفان‘ اور ’قسم دھندے کی‘ سمیت متعدد فلموں میں کام کیا۔ بنگالی فلم انڈسٹری میں بھی انہیں موقع ملا اور ۱۹۸۷ءکی ’امر سنگی‘ میں انہوں نے پرسن جیت کے ساتھ کام کیا۔ یہ فلم بنگال میں خاصی کامیاب رہی اور وجیتا کو وہاں بھی شناخت ملی۔ 

وجیتا نے مختلف فلموں کے لیے پلے بیک سنگنگ بھی کی۔ ان کی گائیکی سے وابستہ فلموں میں ’جو جیتا وہی سکندر‘، ’کبھی ہاں کبھی ناں‘، ’سازش‘، ’دیو‘ اور ’چنگاری‘ شامل ہیں۔ اس طرح وہ صرف اسکرین پر اداکارہ رہنے کے بجائے فلمی موسیقی کے پس پردہ بھی اپنی موجودگی برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔ 

ان کی زندگی میں ایک اہم موڑ ۱۹۹۰ءمیںآیا، جب انہوں نے موسیقار آدیش شری واستو سے شادی کی۔ آدیش خود بھی موسیقی کی دنیا میںایک نمایاں نام بن رہے تھے۔ ان دونوں کی شادی نے وجیتا کی زندگی کو ایک نیا رخ دیا۔ شادی کے بعد وجیتا نے بڑی حد تک اداکاری چھوڑ دی اور اپنے خاندان اور موسیقی پر توجہ دینے لگیں۔ اس جوڑے کے دو بیٹے ہوئے، اویتش اور انیوش شری واستو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK