اسرائیل اور ترکی میں کشیدگی کم کرنےپر بھی گفتگو ہوئی اور یہ یقینی بنانے پر بھی غور کیا گیا کہ دونوں ممالک کی باہمی رقابت شامی سرزمین تک نہ پھیلے۔
EPAPER
Updated: August 25, 2026, 1:24 PM IST | Agency | Oman
اسرائیل اور ترکی میں کشیدگی کم کرنےپر بھی گفتگو ہوئی اور یہ یقینی بنانے پر بھی غور کیا گیا کہ دونوں ممالک کی باہمی رقابت شامی سرزمین تک نہ پھیلے۔
شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے اردن میں اسرائیلی انٹیلی جنس حکام سے ملاقات کی ہے جہاں دونوں فریقوں نے حالیہ کشیدگی کم کرنے پرگفتگوکی جس کی امریکہ ثالثی کررہا ہے۔شامی سرکاری خبر رساں ادارے ’سانا‘ کے مطابق مذاکرات میں اسرائیلی حملوں، گرفتاریوں اور کارروائیوں کو روکنے کے لیے عملی طریقہ کار وضع کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان پائیدار سیکوریٹی معاہدہ کیلئے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر بات چیت ہوئی۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق الشیبانی نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ رومان گوف مین سے ملاقات کی۔ مذاکرات میں اسرائیل اور ترکی کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے پر بھی غور کیا گیا کہ دونوں ممالک کی باہمی رقابت شامی سرزمین تک نہ پھیلے۔اس موقع پرامریکہ نے گزشتہ سال سے ملتوی یروشلم دمشق مذاکرات کی مکمل بحالی کی بھی وکالت کی۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان مزید ۹؍ تجارتی معاہدوں کیلئے کوشاں
امریکہ گزشتہ ایک سال سے اسرائیل اور شامی صدر احمد الشرع کی حکومت کے درمیان سیکوریٹی معاہدہ کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دسمبر۲۰۲۴ء میں سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے شام میں سیکڑوں فضائی حملے کئے ہیں اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں قائم اس بفر زون میں بھی فوج تعینات کردی ہے جو طویل عرصے سے اسرائیل اور شام کی افواج کے درمیان علیحدگی کا علاقہ تھا۔اسرائیل نے گزشتہ جمعرات کو شمال مغربی صوبے ادلب میں ابو ظہور ایئربیس پر بھی حملہ کیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی وہاں ترک فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی روکنے کے لیے کی گئی، تاہم شام اور ترکی نے اس دعوے کو مسترد کردیا۔
اس واقعے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو اور ترک صدر رجب طیب اردگان کے درمیان بھی سخت بیانات کا تبادلہ ہوا ہے۔سانا کے مطابق مذاکرات میں شامی وفد نے واضح کیا کہ شام ایک خودمختار ریاست ہے اور اسے اپنی قومی فوج کی تعمیر و ترقی، اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کا انتخاب اپنے قومی مفادات کے مطابق کرنے کا مکمل حق حاصل ہے ۔شام نے ایسے کسی بھی انتظام یا طریقہ کار کو مسترد کیا جو اس کی خودمختاری کے حقوق کو محدود کرے۔
یہ بھی پڑھئے: بیجنگ میں ہیومنائڈ روبوٹس نے کئی انسانی ریکارڈ توڑ دیئے
دمشق کی فوری ترجیحات میں اسرائیلی افواج کا ان علاقوں سے انخلا شامل ہے جہاں وہ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے سے پہلے موجود تھیں جبکہ ۱۹۷۴ء کی جنگ بندی معاہدے کی مکمل بحالی بھی شام کے اہم مطالبات میں شامل ہے ۔ شامی حکام نے اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں پر شام کی خودمختاری کا بھی اعادہ کیا۔
اسرائیلی میڈیا نے مذاکرات کو مثبت قراردیا
اسرائیلی میڈیا نے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے۔ بہرحال اسرائیلی حکام نے مذاکرات کے آغازسے پہلے اپنی بعض شرائط اور سرخ لکیروں کا تعین کیا تھا۔ان میں شام میں ترکی کی فوجی سرگرمیوں کو روکنا، گولان کی شامی جانب کو غیر فوجی علاقہ رکھنا، شام کی دروز برادری کی سلامتی یقینی بنانا اور شامی فوج کو بعض تزویراتی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا شامل ہیں۔ اسرائیل نے شام کے زیر قبضہ علاقوں سے کسی بھی انخلا کو سفارتی پیش رفت سے مشروط کیا ہے۔الشیبانی نے کہا کہ دمشق کو اسرائیل پر اعتماد نہیںہے مگرمذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔