Inquilab Logo Happiest Places to Work

دھرو راٹھی نے ’’دھرندھر ۲‘‘ کو ’’برین روٹ‘‘ قرار دیا، نوین کوشک کا ردعمل

Updated: March 24, 2026, 6:04 PM IST | Mumbai

’’دھرندھر ۲‘‘ پر دھرو راٹھی کی تنقید کے بعد نوین کوشک نے فلم کو نفرت سے نہ جوڑنے کی اپیل کی۔ ’’پروپیگنڈا فلم ‘‘ پر بحث تیز۔

Dhruv Rathee and Naveen Kaushik. Photo: INN
دھرو راٹھی اور نوین کوشک۔ تصویر: آئی این این

یوٹیوبر دھرو راٹھی کی جانب سے فلم ’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ کو ’’برین روٹ‘‘ اور ’’پروپیگنڈا‘‘ قرار دینے کے بعد جاری تنازع پر اب اداکار نوین کوشک نے ردعمل دیتے ہوئے ناظرین سے اپیل کی ہے کہ وہ فلم کو نفرت یا تقسیم کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ اسے محض تفریح کے طور پر دیکھیں۔ نوین کوشک، جو فلم میں ’’ڈونگا‘‘ کے کردار میں نظر آ رہے ہیں، نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں کہا کہ سیاست زندگی کے ہر پہلو میں موجود ہوتی ہے، اس لیے فلموں میں بھی کسی نہ کسی شکل میں نظریات کی عکاسی فطری بات ہے۔ ان کے مطابق، ’’ہر اچھی فلم کسی نہ کسی سطح پر سیاست یا نظریہ پیش کرتی ہے، لیکن اسے نفرت یا تشدد کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی سب کو حاصل ہے، لیکن فلم کو ایک متنازع ہتھیار بنانے کے بجائے اس کے فطری بہاؤ میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے الفاظ میں، ناظرین کو چاہیے کہ وہ فلم سے لطف اٹھائیں اور اسے محض ایک کہانی کے طور پر قبول کریں۔

واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب رنویر سنگھ کی اس فلم کے ریلیز ہونے کے بعد دھرو راٹھی نے ایکس پر متعدد پوسٹس کے ذریعے فلم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فلم میں ’’اچھی طرح سے بنایا گیا پروپیگنڈا‘‘ پیش کیا گیا ہے، جو ناظرین پر زیادہ گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ راٹھی نے نہ صرف فلم پر تنقید کی بلکہ اپنی اے آئی ماسٹرکلاس کی تشہیر کرتے ہوئے اسے فلم کے ساتھ جوڑ دیا، جہاں انہوں نے ناظرین کو فلم دیکھنے کے بجائے اپنے کورس میں وقت لگانے کا مشورہ دیا۔ ان کے اس انداز نے سوشل میڈیا پر مزید بحث کو جنم دیا، جہاں کچھ صارفین نے ان کی رائے کی حمایت کی جبکہ دیگر نے اسے حد سے زیادہ تنقید قرار دیا۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Dhruv Rathee (@dhruvrathee)

دوسری جانب، فلم کو باکس آفس پر زبردست ردعمل ملا ہے اور اسے بڑے پیمانے پر مثبت جائزے بھی حاصل ہوئے ہیں، حالانکہ ایک طبقہ اسے نظریاتی رنگ دینے پر تنقید کر رہا ہے۔ فلم، جس کی ہدایت کاری آدتیہ دھر نے کی ہے، ایک جاسوسی تھریلر ہے جو کراچی کے علاقے لیاری میں خفیہ انٹیلی جنس آپریشنز کے گرد گھومتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں فلم کے حوالے سے ’’پروپیگنڈا‘‘ کی بحث بالی ووڈ میں ایک بڑے رجحان کے طور پر ابھری ہے، جہاں مختلف فلمیں نظریاتی یا سیاسی زاویوں کے باعث سوشل میڈیا پر شدید مباحث کا حصہ بن رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ڈجیٹل پلیٹ فارمز کی بڑھتی ہوئی طاقت نے فلمی مواد پر عوامی ردعمل کو زیادہ فوری اور شدید بنا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK