Inquilab Logo Happiest Places to Work

دھرندھر ۲: کہانی چوری کا الزام، سیاسی پروپیگنڈہ بنادیا گیا: مصنف کا دعویٰ

Updated: April 01, 2026, 7:08 PM IST | Mumbai

ہدایت کار آدتیہ دھر کی فلم ’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ نے ریلیز کے صرف ۱۲؍ دنوں میں ریکارڈ توڑ کمائی کرتے ہوئے بالی ووڈ کی سب سے بڑی ہٹ کا درجہ حاصل کر لیا، تاہم اب یہ فلم ایک نئے تنازع میں گھِر گئی ہے۔ مصنف سنتوش کمار آر ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ فلم کی کہانی ان کے ۲۰۲۳ء میں لکھے گئے اصل اسکرپٹ سے ماخوذ ہے۔ انہوں نے ثبوت پیش کرنے اور قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ نہ صرف اپنی غیر معمولی باکس آفس کامیابی کے باعث سرخیوں میں ہے بلکہ اب ایک سنگین تنازع کا بھی سامنا کر رہی ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے محض ۱۲؍  دنوں میں ریکارڈ کمائی کرتے ہوئے کئی بڑی فلموں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس کے بعد اسے حالیہ عرصے کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس کامیابی کے ساتھ ہی ایک نیا تنازع سامنے آیا ہے، جس نے فلمی صنعت میں ہلچل مچا دی ہے۔ ہندوستانی مصنف سنتوش کمار آر ایس نے الزام لگایا ہے کہ فلم کی کہانی دراصل ان کے تحریر کردہ اسکرپٹ سے لی گئی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’میں نے ۲۰۲۳ء میں بڑی محنت سے ایک کہانی لکھی تھی اور اسے مختلف پروڈکشن ہاؤسیز کے سامنے پیش کیا تھا۔ جب میں نے ’’دھرندھر ۲‘‘ دیکھی تو مجھے احساس ہوا کہ یہ وہی کہانی ہے جس پر میں نے کام کیا تھا۔‘‘

کمار کے مطابق انہوں نے اپنی اسکرپٹ کو متعدد بڑی کمپنیوں کے ساتھ شیئر کیا تھا، جن میں سونی پکچرز نیٹ ورکس انڈیا، زی انٹرٹینمنٹ انٹرپرائزیس، ٹی سیریز اور دھرما پروڈکشن شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت ان کا منصوبہ تھا کہ مرکزی کردار کے لیے آدتیہ رائے کپور کو کاسٹ کیا جائے۔ مصنف نے مزید بتایا کہ وہ اسکرین رائٹرس اسوسی ایشن کے رکن ہیں اور انہوں نے نومبر ۲۰۲۳ء میں اپنی کہانی باضابطہ طور پر رجسٹر بھی کروائی تھی۔ ان کے مطابق ان کے پاس ای میلز اور دیگر دستاویزی ثبوت موجود ہیں جو ان کے دعوے کو مضبوط بناتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ جلد ہی قانونی کارروائی شروع کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے: کنگنا رناوت کی’’کوئین ۲‘‘ کی شوٹنگ اپریل کے آخر میں شروع ہوگی

کمار نے اپنی شکایت میں یہ بھی کہا کہ اگرچہ فلم کو تکنیکی لحاظ سے اچھا بنایا گیا ہے، تاہم ان کی کہانی کو ’’استحصال‘‘ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کے الفاظ میں، ’’میں نے یہ کہانی تفریح کے لیے لکھی تھی، لیکن اسے سیاسی پروپیگنڈہ میں تبدیل کر دیا گیا، جو میرے لیے تکلیف دہ ہے۔‘‘ دوسری جانب، فلم کے ہدایت کار آدتیہ دھر یا پروڈکشن ٹیم کی طرف سے تاحال ان الزامات پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث قیاس آرائیاں مزید بڑھ رہی ہیں۔ فلمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاملہ عدالت تک جاتا ہے تو یہ کیس ہندوستانی فلم انڈسٹری میں اسکرپٹ رائٹس اور دانشورانہ ملکیت کے حوالے سے ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK