• Tue, 15 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’دھرندھر‘‘ نے پرانے گانوں کا ستیاناس کردیا ہے: نغمہ نگار سمیر

Updated: September 15, 2026, 4:04 PM IST | Mumbai

رنویر سنگھ کی فلم میں تشدد کے مناظر کے دوران کلاسیکی گانوں کے استعمال پر اعتراض؛ سمیر نے کہا کہ موسیقی کو محض پس منظر میں ڈالنے سے گانوں کی اصل روح ختم ہورہی ہے۔

Sameer. Photo: INN
سمیر۔ تصویر: آئی این این

معروف نغمہ نگار سمیر انجآن نے رنویر سنگھ کی فلم ’’’دھرندھر‘‘‘ میں پرانے مقبول گانوں کو تشدد اور ایکشن کے مناظر کے ساتھ استعمال کرنے پر سخت تنقید کی ہے۔ کومل ناہٹا کے یوٹیوب پوڈکاسٹ Game Changers میں گفتگو کرتے ہوئے سمیر نے کہا کہ فلموں میں پرانے گانوں کو نئے انداز میں پیش کرنا بذاتِ خود مسئلہ نہیں، لیکن انہیں اصل مفہوم اور جذبات سے کاٹ کر محض پس منظر کی موسیقی بنا دینا تخلیقی ورثے کے ساتھ ناانصافی ہے۔ سمیر نے خاص طور پر ’’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ میں اپنے گانے ’ہم پیار کرنے والے، دنیا سے نہ ڈرنے والے‘ کی نئی تشکیل کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق اسی گانے کے دوران پردے پر فائرنگ اور تشدد کے مناظر دکھائے گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب گانے کے اصل جذبات اور شاعری کا فلمی منظر سے کوئی تعلق نہیں رہتا تو ’’گانا کہاں ہے؟‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: آر مادھون اور سدھارتھ نارائن نے اپنے پسندیدہ کھانے بتائے، دہی چاول مشترکہ پسند

انہوں نے کہا کہ ’’’دھرندھر‘‘‘ نے صورتحال مزید خراب کردی، ستیاناس کردیا، کیونکہ فلم سازوں نے موسیقی کو اٹھا کر پس منظر میں ڈال دیا۔ ان کے مطابق گانوں کو اس طرح استعمال کرنے سے وہ کہانی سنانے کا ذریعہ نہیں رہتے بلکہ صرف ایکشن مناظر کو نمایاں کرنے کا آلہ بن جاتے ہیں۔ سمیر نے آنے والی اجے دیوگن کی فلم ’’چوہان‘‘ کے ٹریلر کا بھی حوالہ دیا، جہاں ان کے مطابق ’جمّہ چمّہ‘ کو ایکشن منظر کے دوران استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر گانے کی اصل کیفیت اور اس کے بول پس منظر میں ہونے والی فائرنگ سے متصادم ہوں تو اس طرح کی تشکیل کا مقصد کیا ہے۔ 

نغمہ نگار نے پرانے گانوں کو دوبارہ بنانے کے موجودہ رجحان پر بھی اعتراض کیا، تاہم واضح کیا کہ وہ نئی نسل کے موسیقاروں یا نغمہ نگاروں کے خلاف نہیں ہیں۔ ان کے مطابق مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تجربہ کار فنکاروں کو نظر انداز کرکے صرف نوجوان تخلیق کاروں کو موقع دیا جائے اور پرانے فنکاروں کے تجربے کو غیر متعلق سمجھ لیا جائے۔ انہوں نے اپنے تجربے کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے سچن جگر کے ساتھ ۲۰۱۱ء کی فلم ’FALTU‘ میں کام کیا تھا اور نوجوان موسیقاروں کے ساتھ کامیاب تعاون کیا۔ سمیر نے کہا کہ کسی پرانے گانے کو دوبارہ پیش کرنے کے مثبت پہلو بھی ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے گانے ’دلبر‘ کی مثال دی، جس کے نئے ورژن نے نئی نسل کو اصل گانے سے دوبارہ متعارف کرایا۔ ان کے مطابق مسئلہ دوبارہ تخلیق نہیں بلکہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اصل نغمہ نگار اور گانے کی ادبی روح کو نظر انداز کرکے ایسے بول یا موسیقی شامل کردی جائے جو اصل تخلیق کے مفہوم کو بدل دیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: روہت رائے نے ٹی وی کو ’ڈسٹ بن میڈیم‘ اور فلمی اداکاروں کو زیادہ باوقار قرار دیا

انہوں نے بالی ووڈ کے بڑے پروڈکشن اداروں پر بھی تنقید کی۔ سمیر کے مطابق آدتیہ چوپڑا، کرن جوہر اور ساجد ناڈیاڈوالا جیسے بڑے بینرز کبھی معیاری موسیقی اور نغمہ نگاروں کی سرپرستی کے لیے جانے جاتے تھے، لیکن اب ان کی توجہ موسیقی پر پہلے جیسی نہیں رہی۔ سمیر نے موجودہ ہندی فلمی موسیقی میں یکسانیت پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اچھے گانے کئی دہائیوں تک زندہ رہتے ہیں، اس لیے تجربہ کار اور نوجوان تخلیق کاروں کو ایک ساتھ کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق نئی نسل کو موقع دینا ضروری ہے، لیکن تجربے کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا موسیقی کے معیار اور تنوع دونوں کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK